Veliaht – Wali ahad (waris) Turkish Series Season 1 Episode 3 Urdu sub
میرج ہال کی پارکنگ ایریا میں گاڑی آکر روکی تھی،دروازہ زور سے کھلا اور اسناد بھاگتی ہوئی
اندر داخل ہوئی۔ اس کے چہرے سے میک اپ کی چمک اتر چکی تھی، بال بکھرے ہوئے اور دوپٹہ کندھے سے سرک کر نیچے لٹک رہا تھا۔ سانس بری طرح پھولی ہوئی تھی اور آنکھوں سے آنسوؤں کا شور اس کے حواسوں پر غالب تھا۔
کمال صاحب، جو تھوڑی دیر پہلے ہی اریجمنٹ دیکھنے کےلیے بھائی صاحب اور اباجان کے ساتھ وینیو پہنچے تھے،وہ کافی وقت سے ارینجمنٹ کی نگرانی میں مصروف تھے، اسناد کو اس حالت میں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل زمین پر گر گیا۔ ان کے لبوں پر صرف ایک لفظ آیا، “اسناد۔۔۔؟” لیکن اسناد کچھ کہے بغیر ان کے گلے سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگی۔ اس کے آنسوؤں سے ان کے کپڑے بھیگنے لگے۔
پاس ہی صوفے پر بیٹھے عظمت صاحب نے چشمہ اتارا اور پریشانی سے آگے بڑھے۔ کمال صاحب نے بیٹی کو آہستگی سے پیچھے کیا، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کر اسناد کا چہرہ تھاما۔ دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہو چکی تھیں۔ “میری جان، کیا ہوا۔۔۔؟” انہوں نے بمشکل الفاظ ادا کیے، مگر زبان جیسے ساتھ چھوڑنے لگی تھی۔
عظمت صاحب نے اسناد کے سر پر ہاتھ رکھا۔ وہ نظریں اٹھا کر دادا کو دیکھنے لگی، ان کی آنکھوں میں نرمی دیکھ کر اس کے ہونٹ کپکپائے اور وہ مزید رو پڑی۔ “پاپا، بارات نہیں آئے گی۔ آپ یہ سب ارینجمنٹ روک دیں۔” یہ کہتے ہی اس کے کندھے ڈھلک گئے۔
کمال صاحب کے اندر کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ساری روشنی جیسے دھندلا گئی ہو۔ ان کے چہرے پر رنگ نہ رہا۔ عظمت صاحب نے جلدی سے کرسی آگے کھینچی اور اسناد کو بٹھایا۔ پھر کمال کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں بھی زبردستی کرسی پر بٹھایا۔ وہ دھڑام سے بیٹھ گئے، جیسے جسم میں جان ہی نہ ہو۔
“میری بچی، ہوا کیا ہے؟ تم اکیلی یہاں کیوں آئی ہو؟” عظمت صاحب کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا، لیکن اندر سے ان کی آواز لرز رہی تھی۔ یہ وہ موقع تھا جہاں ضبط ہی سب سے بڑی طاقت تھی۔
“میں پارلر میں تھی، وہاں سے شوٹ کے لیے دوسری لوکیشن پر جانا تھا، لیکن وہاں فہد آگیا۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے زمانے کے سامنے بےعزت کرے گا۔ وہ بارات نہیں لائے گا پاپا۔۔
۔” اسناد نے باپ کے ہاتھ تھام کر روتے ہوئے کہا۔
کمال صاحب کی آنکھوں میں خالی پن تیرنے لگا۔ وہ اپنی بیٹی کو دیکھتے رہے جیسے زمین پیر کے نیچے سے نکل گئی ہو۔ آہستگی سے جھک کر اسناد کو اپنے سینے سے لگایا۔ ان کی انگلیاں اس کے بالوں میں الجھ گئیں۔ “کچھ نہیں ہوگا میری بچی…” کہنا چاہا، مگر الفاظ رکے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ان کے دل کو پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ بیٹی کا باپ ہونا شاید زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
“کمال، کیا ہوگیا ہے؟ بچی کو رو کر کیوں پریشان کر رہے ہو؟” عظمت صاحب آگے بڑھے، ان کی آواز میں صبر کی گہرائی تھی۔ “کچھ بھی نہیں ہوا، عزت اور زلت اس ذات کے ہاتھ میں ہے
۔ اگر وہ عزت دینے پر آئے تو کوئی رسوا نہیں کرسکتا، اگر زلت دینے پر آئے تو کوئی عزت سے نواز نہیں سکتا۔ یہ وقت ہوش کھونے کا نہیں، سنبھلنے کا ہے۔”
کمال صاحب نے آنکھوں کے کنارے صاف کیے۔ اسناد نے سسکیاں روکتے ہوئے سر جھکایا۔ عظمت صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “میری بچی، تم پریشان نہ ہو۔ جب تک تیرے بڑے سلامت ہیں، کوئی تجھے حرف تک نہیں کہہ سکتا۔”پھر وہ کمال کی طرف متوجہ ہوئے۔ “تم اسے حوصلہ دینے کی بجائے خود ہار رہے ہو۔ یہ وقت سوچنے اور سمجھنے کا ہے، نہ کہ ٹوٹ جانے کا۔ تم بچی سے ساری بات تفصیل سے پوچھو، میں باقی معاملات دیکھتا ہوں۔ مہمان آنے والے ہیں، تم لوگ یہاں سے ہٹ جاؤ۔”
ان کے لہجے میں اتنا وقار اور پختگی تھی کہ ماحول کی بھاری فضا میں بھی اعتماد جھلکنے لگا۔ کمال نے سر جھکائے اسناد کا ہاتھ تھاما اور آہستہ آہستہ برائیڈل روم کی طرف بڑھ گئے۔ ہال کی روشنیاں ان کی پیچھے پڑتی پرچھائیاں کھینچ رہی تھیں۔
اب پورے ہال میں ایک عجیب سا سکوت پھیل گیا تھا۔ فانوس کی روشنی ساکت فضا میں بھٹک رہی تھی۔ عظمت صاحب نے جیب سے فون نکالا، ان کی پیشانی کی رگیں تن گئی تھیں۔ انگلیاں کانپ رہی تھیں جب انہوں نے نمبر ملایا۔ فون دوسری بیل پر ہی اٹھا۔
“کہاں ہو تم۔۔۔؟” ان کی آواز میں دبے ہوئے غصے کی لہریں تھیں۔
“ڈھولک پور آیا ہوں، آپ کا رشتہ چٹکی کی ماں کے ساتھ طے کرنے۔۔۔” دوسری طرف سے لاپرواہی سے جواب آیا۔
عظمت صاحب نے پلکیں بند کیں، دل چاہا کہ وہ سامنے ہوتا تو گریبان پکڑ لیتے۔ “اگر میرا رشتہ طےہو گیا ہو تو ذرا مہاراج کے دربار پر پہنچنے والا کام کر لو۔۔۔” ان کے لہجے میں ضبط شدہ غصہ تھا۔
شاہان نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔ “آپ کی پوتی میری شاہی سواری لے کر مرنے نکلی ہے، اور اب میں کراچی کی سڑکوں پر خوار ہو رہا ہوں۔ اس لیے مجھے آنے میں دیر لگے گی۔ آپ اپنا دربار برخاست کر لیں کیونکہ پراجا بارات نہیں لا رہی۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے فون کھڑاک سے بند کر دیا۔
EPISODE 3 URDU SOURCE 1
EPISODE 3 URDU SOURCE 2
EPISODE 3 URDU SOURCE 3
EPISODE 3 URDU SOURCE 4
EPISODE 3 URDU SOURCE 5
EPISODE 3 URDU SOURCE 6
Veliaht – Wali ahad (waris) Turkish Series Season 1 Episode 3 English & Urdu sub