Uzak Sehir Season 2 Episode 1 (29) English & Urdu Subtitles
شاہ” کے وجود سے اٹھتی ہوئی خوشبو “میرب ” کو اپنی گرفت میں لے رہی ” تھی۔
وہ دونوں ہاتھ ” شاہ” کی کمر پر باندھے، چہرہ اوپر کی طرف اٹھائے ، اسے دیکھ رہی تھی۔
میرب ” کی بے رنگ آنکھوں میں “رومان شاہ” کو دیکھ کر رنگ بھر چکے ” تھے۔ اس کی آنکھوں میں جینے کی تمنا نظر آرہی تھی۔
اگر “رومان شاہ ” اس سے عشق کرتا تھا تو کمی ” میرب ” کی محبت میں بھی نہیں تھی۔ اس کی نظریں بھی “شاہ” کی محبت میں پگلتی ہوئی اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ میرب” کے لیے بھی محبت کا مطلب صرف “رومان شاہ” تھا۔ اس نے بھی پہلی ” نگاہ ڈالتے ہی اس شہزادے پر اپنا دل ہار دیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک، “میرب” کی نظروں نے کبھی کسی اور مرد کو خوبصورتی کی نگاہ سے نہیں دیکھا تھا۔ اس کے لیے پوری دنیا کی خوبصورتی ، اس کے “رومان شاہ” کے اندر موجود تھی۔
سچ کہتے ہیں کہ نیک مردوں کو نیک بیویاں ملتی ہیں۔
تو اگر “رومان شاه ” نیک فطرت مرد تھا، تو ” میرب” بھی ایک قابل اور نیک فطرت بیوی تھی۔
دونوں کو ایک دوسرے کے لیے بنا کر زمین پر اتارا گیا تھا۔
میرے ساتھ کمرے میں چلیں ؟”
شاہ” کے شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر “میرب ” نے کہا۔” وہ اپنے “شاہ” سے بہت سی باتیں کرنا چاہتی تھی اس کی قربت کو پاس بیٹھ کر محسوس کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے کمرے میں جانے کو کہا تھا مگر ” شاہ ” اس کی بات کو سن کر جس انداز سے مسکرایا تھا، اس مسکراہٹ میں “میرب” کی بات کا مطلب کچھ اور ہی نکلتا ہوا نظر آرہا تھا۔ شاہ مسکراتے ہوئے جان لیواحد تک حسین لگ رہا تھا۔ اسے اپنی ” جان شاہ” کی ” حالت دیکھ کر محبت اور رحم ایک ساتھ آ رہے تھے۔ اس کا دل خوش تھا یہ سوچ کر کہ یہ صرف وہی نہیں ہے جو اپنی “میرب” سے باتیں کرنے کے لیے بے قرار ہے ، بلکہ دوسری جانب بھی عشق کی آگ برابر سلگ رہی ہے۔
” کیوں، کمرے میں چل کر ایسا کیا کرنا ہے جو یہاں نہیں ہو سکتا ؟” وہ شرارتی لبوں سے مسکراتے ہوئے ہلکا سا جھک کر اس کی مخملی گردن پر لب رکھ کر لمس محسوس کرواتے ہوئے بولا۔
” کیوں، آپ کو میرے ساتھ کمرے میں جاتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے ؟” شاہ” کی شیرنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔ “
ڈرتا تو ” رومان شاہ” کسی کے باپ سے بھی نہیں ہے ، ہاں مگر تم سے تھوڑا تھوڑا ڈر ” لگ رہا ہے۔ ایک سال بعد آیا ہوں، اس کا ازالہ آہستہ آہستہ کروں گا۔ اگر تم سارے حساب کتاب ایک ہی بار میں پورے کرنے بیٹھ گئی تو میری تو خیر “
” ! نہیں
وہ بے باک سی سرگوشی کرتے ہوئے ہنسا تھا۔
میرب ” شرم سے سرخ ہو گئی تھی۔ ایک سال کی دوری کے بعد ، “رومان شاہ ” کا ” بے باک انداز اور بے باک الفاظ ، “میرب ” کو نظر جھکا کر لال ٹماٹر کی طرح سرخ ہونے پر مجبور کرگئے۔
” ! شاه”، شرم کریں، میں ایسی نہیں ہوں “
وہ شرماتے ہوئے اپنے “شاہ” کے سینے پر سر رکھ کر خود کو محفوظ کر گئی۔
مگر میری جان میں تو ایسا ہی ہوں، مجھ سے زیادہ امید میں مت لگانا۔ تم بے شک ” سارے حساب کتاب ایک بار میں پورے نہیں کرنا چاہتی ہو ، مگر میرا تو یہی ارادہ ہے ” ! اور میں اپنے ارادے پر اٹل ہوں
وہ اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے ایک اور بے باک سی سرگوشی کرتے ہوئے اس کے بالوں پر لب رکھ کر چوم رہا تھا۔ رومان شاه ” کا دیوانگی بھرا انداز ، اس کے وجود سے اٹھتی ہوئی مہک، بے باک جملے ، ” اور محبت کی گرمجوشی ، “میرب” کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔ وہ اس کے قریب آتے ہوئے، اپنی شدت بھری نظروں سے اسے جکڑ رہا تھا۔ محبت کی یہ تپش “میرب” کے وجود میں سنسنی خیز ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ دشمن جاں کی گرم سانسوں نے اس کی روح تک میں لرزش بھر دی تھی۔
” ! شاه”، پلیز چپ کر جائیں، مجھے شرم آرہی ہے ” وہ “شاہ” کے مضبوط سینے میں سر چھپائے ہوئے بولی۔
تمہیں شرم آرہی ہے تو میری جان، یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ مجھے تو شرم نہیں آرہی۔” وہ نرم سر گوشی کرتے ہوئے مزید قریب ہو گیا۔ اپنے سخت داڑھی والے گال پیار سے اس کے نرم و ملائم گالوں سے رگڑتے ہوئے محبت بھری چبھن کا احساس دلا رہا تھا۔ اس کا لمس اتنا محبت بھرا تھا کہ “میرب” کے وجود میں سنسناہٹ کی لہر دوڑ گئی۔
وہ سر گوشیوں میں بولتا ہوا ” میرب” کی مخملی گردن پر نرم گرم لمس چھوڑتے ہوئے محظوظ ہو رہا تھا
EPISODE 1 (29) URDU SOURCE 1
EPISODE 1 (29) URDU SOURCE 2
EPISODE 1 (29) URDU SOURCE 3
EPISODE 1 (29) URDU SOURCE 4
EPISODE 1 (29) ENG SOURCE
Uzak Sehir Season 2 Episode 1 (29) Urdu Subtitles