Teskilat / Intelligence/ The Organization : Shadow Team: Season 6 Episode 1 (149) in Urdu,

آیت ” کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی تھیں، وہ چہکتے ہوئے بولی تھی ۔ “
” ہاں جی ، سچ، لیکن پہلے تمہیں یہ سوال حل کرنا ہو گا۔ “
رائم ” نے اُسے چاکلیٹ کا لالچ اس لیے دیا تھا تا کہ اس کی بہن پڑھائی اچھے سے کر ” لے۔
آیت ” نے گہری سانس لی اور پھر ” رائم ” کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سوال کو ” دوبارہ حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے چہرے پر تھوڑی سی پریشانی تھی، لیکن وہ بھائی کی مدد سے حل کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔
رائم ” اس کی حوصلہ افزائی کرتارہا۔”
” شاباش ! اب تھوڑا اور دھیان سے دیکھو ، تم نے یہ بہت اچھا کیا۔”
آیت ” نے آخر کار سوال حل کیا اور خوش ہو کر “رائم ” کی طرف دیکھا۔”
” ! بھائی، میں نے کر لیا ” ” ! چلو جی ویری گڈ “
” چلیں روم میں جا کر تمہیں تمہاری پسند کی چاکلیٹ دیتا ہوں۔”
اس کی بکس کو بیگ میں ڈالتے ہوئے اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
ان کا یہ پیارا سا منظر ان کی پھوپھو دور کھڑی ہوئی دیکھ رہی تھی۔
اسے آج اپنے چھوٹے سے بھتیجے کے اندر اپنے بھائی کا عکس نظر آرہا تھا۔ وہ ” آیت “
کی جگہ خود کو اور ” رائم ” کی جگہ اپنے بھائی “رومان شاہ” کو محسوس کر رہی تھی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔
” بھائی، کہاں چلے گئے ہیں آپ؟”
“بھائی، ہمیں آپ نے کیوں چھوڑ دیا ؟”
“بھائی، میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں۔ کہاں چلے گئے ہیں آپ؟”
کاش، بھائی آپ ہمارے پاس ہوتے۔”
بھائی، سب خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ ہر طرف ویرانیوں نے ڈیرے جما لیے ہیں۔” آپ نہیں تو یہ زندگی بے مقصد لگتی ہے۔ کبھی آکر دیکھیں، آپ کی بہن کی زندگی “
” کے ہر رنگ میں صرف تباہی نظر آرہی ہے۔
” آپ کی “میرب” نہ زندہ لوگوں میں شمار ہے نہ مرے ہوئے لوگوں میں ۔”
” آپ کے بچے آپ کی محبت کے لیے ترس رہے ہیں۔ “
” اے اللہ ، کاش کوئی معجزہ ہو جائے ، میرا بھائی ایک بار پھر ہمارے بیچ میں ہو ۔ “
وہ تڑپ کر روتی ہوئی سسک کر یہ دعا کر رہی تھی۔
اسے کیا پتہ تھا کہ یہ لمحہ قبولیت کا ہے اور خدا کی بارگاہ میں یہ دعائیں قبول ہو چکی ہیں۔
رومان شاه ” گہری نیند میں سویا ہوا تھا، جب اچانک تیز رومینٹک پر فیوم خوشبو کے ” جھونکے نے نیند سے بیدار کیا۔ روم میں مدھم سی لیمپ کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
اس مدھم سی روشنی میں وہ ایک سایہ دیکھ رہا تھا، جو شدت سے اس کے قریب جھکا ہوا تھا۔ اس کی سانسوں کا تیز دریا اور اس کی موجودگی کی شدت سے، “رومان شاہ ” فوراً سمجھ گیا کہ وہ ” ایشال” ہے۔
رومان شاہ” نے گھبرا کر اسے دھکا دیتے ہوئے خود سے دور کیا اور اپنی نیند کی خماری ” سے بھری ہوئی آنکھوں کو ملتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی، اور آنکھوں میں حیرانی اور الجھن واضح تھی۔
” ایشال”، تم رات کے اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ؟” اس کی آواز میں بے چینی اور غصہ چھپا ہوا تھا۔
شاہ” ، آپ مجھے اس طرح دھتکار کر خود سے دور نہیں کر سکتے ، آج فیصلہ ہو کر رہے ” گا!”
وہ فیصلہ کن انداز میں بولتے ہوئے پورے روم کی لائٹس کو آن کر چکی تھی۔ ” شاہ” کا یوں دھتکار کر ، جھٹکنا اس کے پورے وجود میں غصے کی آگ لگا چکا تھا۔ روم کی لائٹس آن ہوتے ہی روم میں دن کا منظر پیدا ہو چکا تھا۔ “شاہ” کی نظریں اس کے لباس پر جاکر ٹکرائی تھی۔ وہ اس وقت نیم دراز لباس میں تھی، جو ” رومان شاہ” کے لیے انتہائی الجھن کا باعث بن گیا۔
رومان شاہ” کی ایک نظر اس پر پڑی، اور فوراً اس نے خوفِ خدا سے نظریں جھکالیں۔”
اس کا لباس اتنا بے تکلف تھا کہ وہ اس پر نظریں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، جیسے خود کو اس صورتحال سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کا دل تیز دھڑک رہا تھا۔
” ایشال”، تم اس حالت میں یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
اس کی آواز میں غصہ، حیرانی اور پریشانی کی جھلک تھی۔ وہ اس پر نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کر پارہا تھا۔ جس لباس کو دیکھ کر ایک مرد کی نظریں شرمندہ تھی، “ایشال” نے اس لباس کو بڑے فخر سے زیب تن کر رکھا تھا۔
مجھے آپ کے سوال پر ہنسی آرہی ہے۔ جیسے آپ تو چھوٹے سے بچے ہیں، آپ کو یہ ” بھی نہیں پتہ کہ ” ایشال” رات کے اس پہر اس سمجھے سنورے روپ میں آپ کے ” روم میں کیا کرنے آئی ہے۔ وہ اپنے لباس اور حلیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بے باک انداز میں بولی۔ اسے نہ جانے کیوں یہ یقین تھا کہ وہ اس لباس میں “شاہ” کو اپنے سحر میں گرفتار کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی۔
نفرت ہے مجھے تمہارے اس بے باک انداز سے ، اور نفرت ہے مجھے تم جیسی عورت “
” سے۔ میں لعنت بھیجتا ہوں تم پر اور تمہارے اس بے باک انداز پر۔
” ! میری نظروں کے سامنے سے دفع ہو جاؤ”
رومان شاہ ” کا ضبط جیسے جواب دے رہا تھا۔ وہ کسی نامحرم عورت کو ایسے لباس میں ” دیکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
جیسا لباس سامنے کھڑی ” ایشال” زیب تن کیے کھڑی تھی۔ وہ اپنے لباس پر بہت فخر محسوس کر رہی تھی، کم از کم اس کا بے باک انداز تو یہی ظاہر کر رہا تھا۔
” ! آج ایسا کچھ نہیں ہونے والا، بہت ڈرا اور دھمکالیا آپ نے “
لیکن آج میں یہاں سے اپنے مقصد کو پورا کیے بغیر نہیں جاؤں گی۔”
ایشال” نے یہ الفاظ پورے اعتماد اور ضد سے کہے تھے۔” اس کا انداز پہلے سے بہت مختلف تھا۔
وہ اس وقت مکمل طور پر پُر عزم اور فیصلہ کن نظر آرہی تھی ، جیسے وہ پوری طرح سے فیصلہ کر کے آئی تھی کہ آج وہ ” رومان شاہ” کو حاصل کر کے رہے گی۔
ایشال”، تمہیں اللہ کا خوف آنا چاہیے ، تم کیوں خود کو جہنم کی آگ کی مستحق بنارہی ” ہو ؟
” ! تم جو کر رہی ہو، یہ اللہ کے نزدیک حرام ہے “
رومان شاہ” نے سخت لہجے میں کہا، اس کی آنکھوں میں غصہ اور دکھ کی جھرمٹ ” تھی۔ وہ اس لڑکی کے شر سے بچنے کے لیے بیڈ سے نیچے اتر کر دوسری طرف کھڑا ہوا تھا۔
ایک مضبوط مرد کے قدموں میں اس لڑکی کے شر سے ڈر کر لرزہ پیدا ہو رہا تھا مگر رومان شاہ” کے دل کی مضبوطی اور ایمان کا دائرہ بے مثال تھا۔ اس انسان کا ایمان کتنا مضبوط تھا۔ اس کی محبت اپنی بیوی کے لیے کتنی خالص تھی۔ وہ ہر لمحے میں ثابت قدم رہنے کی دعا کر رہا تھا لیکن اندر سے اس وقت ، وہ اپنے ایمان کی پاکیزگی کے بگڑنے سے اتنا ڈرا ہوا تھا جتنا وہ کسی دشمن سے بھی کبھی نہیں ڈرتا تھا۔
وہ ایک چٹان کی طرح مضبوط شخص، جسے کسی سے بھی خوف نہیں آتا، اس وقت سامنے کھڑی عورت سے ڈر رہا تھا، جو اس کی وفا اور ایمان کے ساتھ کھلواڑ کرنا چاہتی تھی۔ جس کی نیت میں پوری طرح سے کھوٹ تھا۔
اسے گولیوں کے سینے پر لگنے سے اتنا خوف نہیں آیا تھا جتنا اس وقت اس عورت سے آ رہا تھا، جو اس کی زندگی اور ایمان کو اپنی نا پاک خواہشوں سے داغدار کرنا چاہتی تھی۔ ایشال” کے قدم، جیسے جیسے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ خوبصورت شہزادے کی ” آنکھوں میں خوف کا رنگ گہرا اور نمایاں ہو رہا تھا۔
رومان شاہ” کی آنکھوں میں بے شمار سوالات اور بے چینی تھی لیکن وہ بظاہر اپنی ” پوزیشن میں مضبوط کھڑا نظر آ رہا تھا۔
” شاہ” ، آپ اتنے مضبوط مرد ہو کر ایک عورت سے ڈر رہے ہیں ؟” ایک عورت کی خواہش پوری نہیں کر سکتے جبکہ آپ کی تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔”
ایشال” کا لہجہ اتنا پر عزم اور چیلنجنگ تھا کہ “رومان شاہ” کے دل کی دھڑکنیں اس ” کے بے باک انداز کو دیکھ کر تیز ہو گئیں۔
ایشال” کے اندر کی خواہشیں جیسے اب بے قابو ہو کر سطح پر آنے کو تیار تھیں۔ وہ ” ایک ایک قدم اٹھاتی ہوئی “شاہ” کے قریب آتی ہوئی اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کو بے قرار تھی۔
اسکے بے باک الفاظوں پر “شاہ” کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا تھا۔
عورت ایک مرد کے لیے سب سے کڑا امتحان ہوتی ہے۔ پتہ نہیں آج ” شاہ” اس امتحان میں پورا اترتا ہے یا نہیں۔
جب عورت اپنے مقام سے گرتی ہے تو وہ کسی

[videojs_video url=”https://cdn5.urduflix.pk/NiaziPlay/Teskilat/Urdu/S6/Episode-149.smil/index.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]

  1. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE
  2. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE
  3. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE
  4. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE
  5. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE
  6. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE
  7. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE
  8. EPISODE 1 (149) URDU SOURCE

Teskilat / Intelligence/ The Organization : Shadow Team: Season 6 Episode 1 (149) in Urdu