Sahipsizler ( Be ghar ) Season 1 Episode 17 in Urdu

ٹھیک ہے جی، کروادیتا ہوں۔ اب ذرا آپ نیچے پاؤں رکھیں گی تاکہ میں آپ کو برش ” ” بھی کروا سکوں؟
ماہی ” نے نہیں دباتے ہوئے قدم نیچے رکھا، جبکہ “احمر ” بے بسی سے اسے دیکھ کر ” رہ گیا۔
چلو ، اب جلدی سے منہ کھولو یا تمہارا منہ بھی مجھے ہی پلاس کے ساتھ کھولنا پڑے ” گا؟
احمر” نے پیسٹ لگاتے ہوئے اسے برش کرواتے ہوئے کہا۔ “
ماہی ” نے فوراً منہ کھول دیا، جیسے وہ پہلے سے ہی اس کا انتظار کر رہی ہو ۔ “
: احمر ” ہنستے ہوئے بولا “
” ! یہ ہوتا ہے بیویوں کو ضرورت سے زیادہ لاڈ کرنے کا نتیجہ “
پھر یہ سارے چونچلے دیکھنے پڑتے ہیں۔”
وہ مصنوعی غصے سے بول رہا تھا مگر حقیقت تو یہ تھی کہ اسے “ماہی” کے نخرے اٹھانا، اسے بچوں کی طرح ڈیل کرنا پسند تھا۔ ” ماہی ” “احمر” سے بہت چھوٹی تھی، اس میں اب بھی بچپنا تھا، اور یہ معصوم حرکتیں “احمر ” کو خوش کرتی تھیں۔ ہاں، کبھی کبھی وہ ضرورت سے زیادہ تنگ کر دیتی، مگر ” احمر” کے لیے یہ بھی محبت کا ایک رنگ تھا۔ کہتے ہیں کہ شوہر بیوی کے نخرے اٹھا لیتا ہے مگر با شرط یہ کہ بیوی کو نخرے اور ادائیں دکھانی آنی چاہیے اور “ماہی ” کو یہ ہنر بہت اچھی طرح سے آتا تھا۔
رومان شاہ” اور “میرب ” اپنے بچوں کے ساتھ افطار کرنے کے لیے گھر سے باہر ” آئے تھے۔ آج پہلی افطاری تھی تو ” رومان شاہ” چاہتا تھا کہ وہ اپنے بچوں اپنی فیملی کو خوبصورت سی جگہ پر روزہ افطار کروائے۔ “رومان شاہ” ہمیشہ سے اپنے گھر والوں کے لیے رمضان کے مہینے کو بہت زیادہ سپیشل بنا دیتا تھا۔ رمضان کا مہینہ تو خود میں ہی ایک بہت خوبصورت اور سپیشل مہینہ ہے مگر “رومان شاہ ” سحری افطاری میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا تھا۔ اب تو ” آیت ” اور “رائم ” بھی ساتھ میں روزے رکھنے لگے تھے تو “رومان شاہ” کا انتظام پہلے سے بھی کہیں زیادہ اچھا ہوتا تھا۔
بحریہ ٹاؤن کے ایک خوبصورت ہوٹل میں پُر سکون ماحول چھایا ہوا تھا۔ افطار کے لیے مخصوص جگہ ، مدھم روشنی ، ارد گرد پانی کے فوارے، اور پر کیف ساز بجاتی ہلکی سی ہوائیں ، سب کچھ دل کو لبھانے والا تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر انواع و اقسام کے پکوان رکھے تھے، جن کی خوشبو اشتہا انگیز تھی۔
“رومان شاہ” سفید شلوار قمیض میں بہت باوقار لگ رہا تھا۔ سادگی میں بھی وہ جاذب نظر لگ رہا تھا۔ روزے کی شدت سے شہزادے کے لب ہلکے سے مرجھائے ہوئے تھے مگر چہرے پر تازگی تھی جبکہ “میرب” نے ہلکے رنگ کا نفیس عبایا پہن رکھا تھا اور سلیقے سے لیٹے ہوئے حجاب نے اس کی خوبصورتی کو بہت پاکیزہ بنارکھا تھا۔
آیت ” اور ” رائم ” اپنی معصوم شرارتوں میں مگن تھے ، کبھی جوس کے گلاس سے ” کھیلتے ، تو کبھی کھجوروں کی پلیٹ میں ہاتھ مارتے۔ روزہ رکھ کے بھی ان کی چھوٹی چھوٹی شیطانیوں میں کوئی زیادہ کمی نہیں آئی تھی۔ ” رومان شاہ” نے گھڑی پر نظر ڈالی، اذان ہونے ہی والی تھی۔
آیت ” “رائم ” چلو دعا مانگو۔ افطار سے پہلے دعا کرنی چاہیے ، ہم جو بھی دعا کرتے ” ہیں اللہ تعالی اس دعا کو قبول کرتے ہیں۔
سب نے ہاتھ بلند کیے اور پر سکون لہجے میں دعا پڑھی۔
آیت ” نے سر جھکا کر ننھے ہاتھ جوڑے۔

 

Episode 17 Urdu source 1

Episode 17 Urdu source 2

Episode 17 Urdu source 3

Episode 17 Urdu source 4

Episode 17 Urdu source 5

 

Sahipsizler ( Be ghar ) Season 1 Episode 17 in Urdu