Sahipsizler ( Be ghar ) Season 1 Episode 13 in Urdu

” السلام علیکم ۔۔۔!! بھاری گهمبیرتا آواز میں سلام پیش کیا ۔۔
” وعلیکم السلام سائیں کیسے ہو ۔۔۔؟” آفاق ادب سے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ملا تھا ۔۔
” عابیر بیٹا جاؤ آفاق پہلی بار آیا ہے کچھ کھانے پینے کو لاؤ ۔۔۔!! نانی اماں اسے دیکھ کر سکون کا سانس لیا کب سے آفاق بیٹھا پوچھ رہا تھا وہ مرتضیٰ کے ساتھ باہر گئی کہتی بات تال گئی تھی ۔۔۔ اب پھر اسے پہلے والے روپ میں دیکھ کر خوش ہوئی تھی ۔۔۔

 

” جی اماں میں ابھی لائی آفاق تم بیٹھو میں تمہیں اچھا اچھا کھانا کھلاتی ہوں ۔۔۔ تمہیں تو میرے ہاتھوں کا کھانا پسند ہے نہ یہاں تو میں بہت کچھ سیکھا ہے ۔۔۔!! وہ تو بےحد خوشی سے اسے بتاتی اٹھی مرتضیٰ حیران سا اسے دیکھے گیا وہ اسے تو جیسے بھول گئ تھی ۔۔۔ تھوڑی دیر میں حمید صاحب ، احمد اور نور بھی آگئے تھے شازیہ بیگم تو اپنے ہی کمرے میں رہی ۔۔۔۔ مرتضیٰ فریش ہوتا وہی آگیا وہ جو اندر نہیں آرہی تھی کب سے اپنے کزن کی خدمات میں لگی ہوئی تھی مرتضیٰ خون کا خول اٹھا تھا ضبط سے اسے گھور رہا تھا اور وہ اسکی گھوری سے بے نیاز سی اپنی ہی موج میں تھی ۔۔۔
” عابیر تم سائیں والے سب گاؤں آؤ نہ تمہیں پتا ہے مینا کی شادی ہو رہی ہے رفیق کے ساتھ اسی کی دعوت دینے آیا ہوں ۔۔۔!! آفاق نے انہیں کارڈ دیا ۔۔ اور عابیر کی دوست اپنی بہن کی شادی کی خبر دی جسے سن کر وہ بے حد خوش ہوئی تھی ۔۔

 

۔
” ہائے اللّٰه سچی مینا کی شادی ہو رہی ہے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا میں گاؤں آجاتی ۔۔۔۔!! عابیر کی خوشی دیکھنے والی تھی مینا اسکی پکی سہلی تھی ۔۔۔
” واؤ ہمیں بھی گاؤں کی شادی دیکھنی ہے ہم بھی ساتھ چلتے ہیں مرتضیٰ بھائی ۔۔۔!! نور کو تو بہت شوق تھا گاؤں کی شادیاں دیکھنے کا ۔۔۔
” بہت مبارک ہو بیٹا ہم لوگ کوشش کرے گے آنے کی نہیں تو یہ بچے آجائے گے تم لوگ باتیں کرو میں تھوڑا تھکا ہوا ہوں آرام کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا مجھے بھی اپنے کمرے میں چھوڑ دو کب سے بیٹھی ہوئی ہوں ۔ آفاق بیٹا تم آج یہی رک جاؤ کل چلے جانا اب شام ہونے والی ہے ۔۔۔۔!! دادی اور حمید صاحب کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے ۔۔۔
” آفی تم رک جاؤ آج ہم بہت سی باتیں کرے گے ۔۔۔۔ ہاں تم رکو آج رات محفل لگاتے ہیں ۔۔۔!! احمد نے عابیر کا ساتھ دیا عابیر کی خوشی تو دیکھنے والی تھی مرتضیٰ کو خود کا اگنورے کرنا بے حد غصہ دلا رہا تھا وہ تو موقع ہی نہیں دے رہی تھی بات کرنے کا ۔۔ اب تو مرتضیٰ کو اسکا کزن چھب رہا تھا ۔۔۔
_______

 

” آفاق بھائی آپ کی شادی ہو گئی ہے ۔۔؟” نور نے سوال کیا سب رات کے کھانے کے بعد ساتھ بیٹھے ہوئے تھے بڑے تو سونے چلے گئے تھے اور مرتضیٰ کا دل نہیں تھا یہاں بیٹھنے کا کمرے کی تنہائی سے بہتر تھا اس دشمن جان کا دیدار کرنا جو ضبط کا امتحان لے رہی تھی اسکا کب سے ۔۔۔ کھانے کے دوران بھی بار بار اپنے کزن کا خیال اور اسے تو جیسے فراموش کیے ہوئے تھی دل نے شدت سے خواہش جاگی پکڑ کر ہاتھ اسکا لے جائے کمرے میں پھر خوب حساب کتاب لے اپنا ۔۔۔

 

۔
” ارے اسکی تو میرے ساتھ بات طے تھی یہ تو میری اب ہوگئی تم بھی کرلو آفاق تمہیں یاد ہے شاہد چچا اسکی بیٹی سونم بڑی سوہنی ہے کہو تو بات چلاؤ ۔۔۔!! اففف عابیر تمہاری یہ تیز رفتار سے چلتی زبان کہی بھی شرمندہ کر دیتی تھی خود کو نہیں دوسروں کو ۔۔۔۔ کاش عابیر دیکھ لیتی کسی کی خونخوار نظروں کو تو شاید ہی خود کو بولنے سے روکتی ۔۔۔ احمد اور نور کے قہقہے نے محفل میں مزید اضافہ کیا مرتضیٰ کی غیرت گوارا نہیں کر رہی تھی مزید وہاں بیٹھنا لیکن جیسے اور ثبوت چاہیے تھے اس مجرم کو سزا دینے کیلئے ۔۔۔۔ آفاق بیچارہ تھوڑا شرمندہ تھا کیسے اسکا ساتھ نہیں دے پایا تھا اس وقت ماں بہن کے کہنے پر وہ عابیر کا ہاتھ تھام نہیں پایا۔۔۔

 

” یہ تم گاؤں آکر میرا رشتہ کروانا ۔۔۔ اماں ابا سے بات کرو گی تو وہ شاید مان جائے ۔۔۔!! آفاق نوجوان خوش شکل کا اچھا لڑکا تھا سیدھا سادہ سا ۔۔۔ اپنے رشتے کی بات پر شرما سا گیا ۔۔۔
” ہاں کیسے نہیں مانے گے میرے معاملے میں تو بڑے نخرے کر رہے تھے وہاں ایسا کچھ نہیں چلے گا سمجھا کر بھیجنا مجھے تو سادہ سی انگھوٹی ایک جوڑا دے کر چپ کروایا تھا میرے معاملے میں تو تم بھی چپ رہے تھے وہاں اگر چپ رہے تو بیٹھے رہنا ساری زندگی کنوارے بتا رہی ہوں تمہیں ۔۔۔!! عابیر پوری توجہ سے آفاق سے اپنی بات کر رہی تھی نور اور احمد ہکا بکا سے بیٹھے عابیر کی باتیں سن رہے تھے ایک نظر عابیر کو دیکھتے ایک نظر مرتضیٰ کو جس کے پاس شاید اس وقت گن نہیں تھی لیکن اس سرخ نگاہیں قتل کرنے کو کافی تھی ۔۔۔۔ لیکن عابیر تو آفاق سے شروع سے ہی فری تھی کزن تھے ساتھ ایک ہی گھر میں پلے بڑے ہے یہاں وہ اپنی ہی بحث میں مصروف تھی اگر ایک نگاہ اس کی اور اٹھی ہوتی تو شاید زبان پر بریک لگتا ۔۔
” تم صبح گاؤں جاؤ گے نہ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا مجھے مینو کی شادی سے پہلے چلنا ہے باقی سب بعد میں جائے گے سائیں کی بھی نوکری ہے یہاں وہ بھی شادی والے دن جائے گے مامو سائیں والوں کے ساتھ ۔۔۔!! احمد اور نور کا تو گلہ خشک ہو رہا تھا مرتضیٰ کے پھٹنے کا انتظار جو تھا اور وہ ضبط سے موٹھی بہینچے ہوئے ایک آخری غصیلی نگاہ اس پر ڈالتا تیزی سے اٹھ کر اندر چلا گیا ۔۔۔۔
“مرتضیٰ سائیں کو کیا ہوا وہ چلے گے ۔۔۔؟” آفاق حیرت سے پوچھا مرتضیٰ کا یو اچانک جانا ۔۔۔
” بھائی تھک گئے ہونگے کب سے ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے انکی جاب تھکا دینے والی جو ہے ۔۔۔۔ عابیر جاؤ بھائی سے پوچھو کچھ چاہیے تو نہیں انھیں ۔۔۔!! احمد بات سنمبھالتا ہوا بولا پھر اس بیچاری کو شیر کی جیل میں بھیجنے کو کہہ رہا تھا ۔۔۔
_______

” سائیں جی آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں وہ چھوٹے ادا کو لگا آپ اندر آگئے ہیں تو کچھ چاہیے ہوگا تو پوچھ لو ۔۔۔ جلدی بتائے مجھے آفاق کو چائے دینی ہے پھر اسے بتانا ہے وہ کہاں سوئے گا ۔۔۔!! عابیر اندر آتی تیزی سے اپنی بات کہہ دی بغیر اسکے خراب موڈ کو جاننے وہ تو بس گھورتا رہ گیا پہلے ہی اسکی باتوں نے دماغ خراب کیا ہوا تھا اوپر سے وہ کزن زہر لگ رہا تھا اس وقت اسے ۔۔۔ کیا سوچا تھا رات کو سکون سے بیٹھ کر بات کریں گے اسے پیار سے منائے گا اور اب اس نے مزید موڈ کی واٹ لگا دی ۔۔۔ وہ تو روم میں آیا غصہ ضبط کرنے تھا سگریت نکال کر پینے کا

سوچا تھا کہ وہ پھر ٹپک پڑی ۔۔

Episode 13 Urdu source 1

Episode 13 Urdu source 2

Episode 13 Urdu source 3

Sahipsizler ( Be ghar ) Season 1 Episode 13 in Urdu