Sahipsizler (Be ghar) Season 1 Episode 12 in Urdu
رخسار میری جان۔۔۔! ایسی باتیں مت کرو کہ آپ کا بھاٸ کا دل تڑپے۔
ازہان نے اسے آج بھی پھر سے ٹالنا چاہا۔ لیکن رخسار کا ل پھر سے دکھا۔
آپ نے مجھے جواب نہیں نہ دیا۔ رخسار نے سر اٹھا کے پوچھا۔ ازہان نے اس کے ماتھےپے بوسہ دیا۔
وقت آنے پے بتا دوں گا۔ ابھی کچھ بھی ایسا مت سوچو۔۔ جس سے خود ک تکلیف پہنچے۔
ازہان کے دھیمے لہجے میں کہنے پے رخسار نے آنکھیں موند لیں۔ وہ اپنے بھاٸ کے لیے خود کو قربان کر چکی تھی۔ لیکن ۔۔ دل کے کسی ایک کونے میں وہ حارث شاہ آج بھی زندہ تھا۔
لیکن۔۔ اب۔۔ وہ اسے مار دینا چاہتی تھی۔ اس کا سوچنا بھی گناہ تھا۔ ہاں وہ اس کی زندگی میں آیا۔ ایک آندھی طوفان کی طرح۔ اور سب کچھ بہا کے لے گیا۔ کیا یہ سزا تھی۔۔؟؟
وہ ضمیر کی عدالت میں پہنچ گٸ۔
یا مکافاتِ عمل۔۔۔؟؟ اس کا دل لرزا تھا۔ اور ایک جھرجھری لی۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
امامہ اپنے کمرے کی بجاۓ باہر مہمانوں کی طرف آگٸ ۔ اس کا دل ابھی بھی دھڑک رہا تھا۔ اسے لگتا تھا ازہان نے سب سن لیا ہے۔ اور اب موقع دیکھ کے وہ ضرور اس سے سوال جواب کرے گا۔وہ ازحد پریشان ہوگٸ۔
سی گرین مکسی میں اس کی چھب ہی نرالی تھی۔
تقریباً سبھی ژاتین کی نظریں اس پے تھیں۔ وہجو آج حجاب میں تھی۔ لیکن بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کا حجاب اسے سب میں ہمیشہ الگ اور منفرد رکھتا تھا۔
فیروز کو مبارک باد دینے کے لیے وہ ایک طرف سے راہداری عبور کرتی نقاب میں گٸ۔ جہاں اس نے فیروز کو بلوا کے مبارک باد دی۔
تم خوش۔۔ ہو۔۔؟؟ ماٸ ورلڈ۔۔۔؟؟ فیروز نے اے اپنے ساتھ لگایا۔
معلوم نہیں۔۔ بھیا۔۔۔! لیکن اب ڈر لگتا ہے۔۔ کھونے سے۔۔۔! امامہ کے لہجے میں ایک درد چھپا تھا۔
کیسا ڈر۔۔؟ فیروز پریشان ہوا۔
اپنے مجازی خدا کو کھونے کا ڈر۔۔۔ امامہ نےصاف لفظوں میں فیروز سے کہہ دیا تو وہ بہت سنجیدہ ہوگیا۔
ایسا کببھی نہیں ہوگا۔۔ میرے جیتے جی تو نہیں۔۔۔ !
اللہ آپ کو ہماری زندگی بھی لگا دے بھیا۔۔۔ ایسی باتیں نہ کریں۔
امماہ نے تڑپ کے اس کے لبوں پے ہاتھ رکھا۔
ماٸ ورلڈ آپ کی خوشی فیروز حاکم کی خوی ہے۔ یا رکھنا۔۔ ایک آنسو نہنکلے آپ کی آنکھوں سے۔ ! فیروز نے اسے پیار سے گلے لگایا۔ تو وہ مسکا دی۔
لیکن ۔۔آپ کے بہت آنسو نکلنے والے ہیں۔۔ وہ آپ کی منکوحہ تو کیل مہاسوں سمیت پوری تیاری سےآنے والی ہے۔ امامہ نے مذاق میں کہا تو فیروز کے چہرے پےایک دلکش مسکراہٹ بکھری۔
مجھے بھی ایڈوینچر پسند ہیں۔ یو نو۔۔ می ویری ویل۔۔۔ ! فیروز نے ایک آنکھ ونک کی تو امامہ دھیما سا مسکراٸ۔ اور دل سے اپنے بھاٸ کی خوشیوں کی دعا مانگی۔
کچھ دیر تک وہ سب لوگ واپس چلے گۓ ۔
مہمان بھی جا چکے تھے۔ رقیہ پھوپھو نے رات وہیں رہنے کا پلان بنا لیا۔ زوبیہ بھی آچکی تھی۔ اب دونوں ماں بیٹی سر جوڑے کوٸ شیطانی کام کیپلاننگ کر رہی تھیں۔
امامہ اندر واپس آچکی تھی۔ فرحت بیگم کے پس جابیٹھی۔
ارے۔۔ بہو۔۔۔! بہت تھکن سی ہوگٸ ہے۔ زرا چاۓ تو پلا دو۔
رقیہ پھوپھو نے امامہ کو دیکھ اپنا گیم اسٹارٹ کیا۔
امامہ مسکراتے ہوۓ اٹھی۔
امامہ بیٹا۔۔! گل سے کہیں۔۔ وہ سب کے لیے بنا دے گی۔ فرحت بیگم نے امامہ کو اٹھ کے جاے ہوۓ ہدایت کی۔ تو وہ سر ثباتمیں ہلاتیچن میں گل سے چاٸے کا کہہ کے واپس مڑی کہ بیچ راستے میں ازہان خانزادہ نے اسے جا لیا ۔ امامہ سانس روکے اسے دیکھتی اپنی جگہ پے ٹھہر سی گٸ۔
اہان نے اسکی کلاٸ تھامی اور اپنے کمرے کی جانب لے کے بڑھا۔
امامہ کو سمجھ تو لگ گٸ تھی۔ لیکن اس کے پاس اپنی صفاٸ میں کہنے کے لیے کچھ نہ تھا۔
کوٸ بہانہ کوٸ دلیل۔۔۔؟؟ وہ ازحد پریشان ہوٸ۔
کمرےمیںسلےجا کے دروازہ لاک کرتا وہ امامہ کی جانب جارحانہ انداز مں دیکھتا پیش قدمی کرنے لگا۔
کیا کہہ رہی تھیں۔۔ میری بہن سے؟؟ بولو۔۔۔؟؟ اس کا اندز بہت سخت تھا۔
ہم۔۔۔ صرف۔ ۔۔ان کی باتوں کا جواب دے رہے تھے۔ امامہ منمناٸ۔
کونسی باتوں کا جواب دے رہی تھی ہاں۔۔؟ جس میں اسے معاف نہکعنے کے بارے میں بتایا جا رہا تا۔۔؟؟ بتاٶ مجھے۔۔۔! وہ جو قدم قدم بپیچھے ہٹتی دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔ ازہان کے غصہ سے گھبرا کے آنکھیں بند کر گٸ۔
مجھے جوواب چاہیے۔۔۔۔! ازہان نے اسکی کلاٸ پکڑ کے دبوچی۔
چھوڑیں ہمارا ہاتھ۔۔۔! آپ کا کچھ بھی جاننے کا دل ہے تو جا کےاپنی بہن سے پوچھیں۔۔۔ ورنہ۔۔ مکافاتِ عمل تو ہے ہی۔۔۔ خو ہی پتہ چل جاۓ گا آپ کو۔۔۔! امامہ بھی غصہ میں تیز لہجے میں بولی۔
میں آخری بار کہہ رہا ہوں۔ آج۔۔۔! میری بہن سے دور رہو۔۔۔ اگر اس کی خوشیوں کے بیچ میں آپ آٸیں تو یاد رکھیے گا۔ جان سے مارنے سے بھی گریز نہیں کروں گا۔ سخت لہجے میں کیتا وہ پلٹا۔ اس بہانے ہی سہی۔۔ آپ ہمیں چھوٸیں گے تو سہی۔۔۔!
امامہ نے دلفریب انداز میں کہتے ازہان خانزادہ کے جاتے قدم روکے تھے۔
گردن موڑ کے اس عشق کی دیوی کو دیکھا۔ جو پور پر اس کے عشق میں ڈوبی ہوٸ تھی۔
مارنے کے لیے ہاتھ اٹھانا شرط تو نہیں۔۔
نظروں سے گرنے کے بعد انسان ویسے ہی مر جاتا ہے۔
Episode 12 Urdu source 1
Episode 12 Urdu source 2
Episode 12 Urdu source 3
FULL PART:
Episode 12 Urdu source Full PART
Sahipsizler (Be ghar) Season 1 Episode 12 in Urdu