Mehmed Fetihler Sultani: Mehmed The Conqueror: Season 3 : Episode 2 (51) in Urdu Sub

ثمینہ کی موت کو ایک مہینہ گزر چکا تھا، لیکن امینہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ان کی طبیعت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی۔ روبینہ ہر وقت ان کے پاس رہتی، ان کا سہارا بنتی، لیکن گھر کی فضا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔
عبیرہ، جو کبھی اس گھر کی رونق ہوا کرتی تھی، اب ایک سایہ بن چکی تھی۔ وہ واپس آ چکی تھی، ملازمہ روز اس کا کھانا اس کے کمرے میں رکھ آتی، اور عبیرہ دروازہ بند رکھتی۔
گھر والے اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے—شاید کچھ پرانے زخم تھے، یا کوئی ان کہی کہانی۔
ایک صبح، جب سورج کی کرنیں پردوں سے جھانک رہی تھیں، روبینہ نے ارحم کو فون کیا۔
ارحم باتھ روم میں تھا، تیار ہو رہا تھا۔ فون علینہ نے اٹھایا۔
“ارحم کہاں ہو تم؟ کوئی رابطہ نہیں، کیا ہوا ہے؟” روبینہ کی آواز میں بےچینی تھی۔
“جی، کون ہیں آپ؟ اور ارحم کو کیسے جانتی ہیں؟” علینہ نے نرمی سے پوچھا۔
“یہ تو ارحم کا نمبر ہے نا؟ آپ کون ہیں؟” روبینہ نے پوچھا ۔
“جی ہاں، یہ ارحم کا نمبر ہے۔ اور میں… میں ارحم کی بیوی ہوں۔” علینہ بولی ۔
خاموشی۔ جیسے وقت تھم گیا ہو۔
“کیا کہا؟ بیوی؟” روبینہ کی آواز لرز گئی۔
“جی، ہماری شادی کو ایک مہینہ ہو چکا ہے۔ لیکن آپ کون ہیں؟” علینہ نے بتایا
روبینہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر فرش پر گر گیا۔
اس کی سانسیں رک گئیں، دل جیسے دھڑکنا بھول گیا ہو۔
ارحم نے اسے دھوکہ دیا تھا—اور وہ اس دھوکے سے بےخبر، ایک امید کے سہارے جی رہی تھی۔
دوسری طرف علینہ “ہیلو؟ ہیلو؟” کرتی رہ گئی، لیکن فون بند ہو چکا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ارحم باتھ روم سے نکلا تو علینہ کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔
“یہ لڑکی کون تھی؟” علینہ نے سوال کیا۔
“کونسی لڑکی؟” ارحم نے پوچھا۔
“ارحم، انجان مت بنیں۔ مجھے سب پتہ چل گیا ہے!” علینہ غصے سے بولی۔
“کس لہجے میں بات کر رہی ہو؟” ارحم نے تیز لہجے میں کہا۔
“تو کیا کروں؟ پتہ نہیں کہاں کہاں منہ مارتے پھرتے ہیں آپ!” علینہ نے تلخی سے کہا۔
ارحم کا ضبط جواب دے گیا۔ وہ آگے بڑھا اور غصے میں علینہ کو تھپڑ مار دیا۔
علینہ ساکت رہ گئی۔ “تم نے مجھے تھپڑ مارا؟”
“ہاں، مارا۔ دوبارہ میرے بارے میں ایسی گھٹیا رائے قائم مت کرنا، ورنہ طلاق دے دوں گا۔ شوہر ہوں تمھارا، غلام نہیں!” ارحم غصے سے بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شازیہ بیگم ناشتے کی تیاری میں تھیں۔ انعم ان کے پاس آئی۔
“مما، ناشتہ بنا دیں۔”
“جاؤ، علینہ کو بلا لاؤ۔ ایک مہینہ ہو گیا شادی کو، مجال ہے جو یہ ہماری کوئی مدد کر دے!” شازیہ بیگم نے تلخی سے کہا۔
“جی مما۔” انعم نے کہا اور علینہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ناشتے کی میز پر سب لوگ جمع تھے۔ فیضان صاحب نے کاشان کی طرف دیکھا، جو خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا۔
“کاشان، تمھاری تعلیم مکمل ہو گئی ہے۔ اب کیا ارادہ ہے؟” فیضان صاحب نے نرمی سے پوچھا۔
کاشان نے سر اٹھایا، آنکھوں میں چمک تھی۔ “تایا جان، آپ لوگ تو جانتے ہیں نا، مجھے آرمی جوائن کرنے کا بچپن سے شوق ہے۔”
نعمان صاحب نے چونک کر پوچھا، “تو کیا تم اب واقعی آرمی میں جانا چاہتے ہو؟”
“جی بابا، ارادہ تو یہی ہے۔”
سعدیہ بیگم نے ناپسندیدگی سے کہا، “بیٹا، اپنا کاروبار ہے، آفس ہے۔ کیا ضرورت ہے دوسروں کی غلامی کرنے کی؟”
کاشان نے گہری سانس لی، مگر لہجہ مضبوط رکھا۔ “تائی جان، فوجی ہونا فخر کی بات ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے ملک کے لیے کچھ کرتے ہیں تو یہ اعزاز ہے، خوش قسمتی ہے۔ ہر کوئی فوجی نہیں بن سکتا۔ فوج میں جانے کے لیے بڑا جگرا چاہیے ہوتا ہے۔”
حمدان صاحب نے فخر سے کہا، “بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے میرا پوتا۔”
فیضان صاحب نے ایک لمحے کو خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے بولے، “ابا جان، آپا کے پاس چلتے ہیں۔ وہ تو کمرے سے نکلتی ہی نہیں۔”
حمدان صاحب نے سر ہلایا، “ہاں بیٹا، اولاد کا دکھ انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ آؤ، چل کر امینہ سے بات کرتے ہیں۔”
دونوں آہستہ آہستہ امینہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
“بھابھی، مما بلا رہی ہیں آپ کو۔” انعم نے دروازے پر دستک دے کر کہا۔
“کیوں بلا رہی ہیں خالہ؟” علینہ نے بےرخی سے پوچھا۔
“بھابھی، آپ کی شادی کو ایک مہینہ ہو گیا ہے۔”
“ہاں تو، ایک مہینہ ہی ہوا ہے نا، کون سا ایک سال ہو گیا ہے۔” علینہ نے تلخی سے جواب دیا۔
“گھر کے کاموں میں مما کی مدد کریں، چلیں۔” انعم نے کہا۔
“میں کیوں کروں؟ تم کرو جا کر گھر کے کام۔ عینی سمجھ رکھا ہے مجھے؟ جو نوکرانی کی طرح سارے کام کرتی تھی؟ مجھ سے نہیں ہوتے گھر کے کام۔” علینہ نے غصے سے کہا۔
“آپ اس گھر کی بہو ہیں، تو آپ کا فرض ہے گھر کے کام کرنا۔” انعم نے جواب دیا۔
“بہو ہوں، نوکرانی نہیں۔ جس کو کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ جاؤ، جا کر خود کرو سارے کام۔” علینہ نے درشت لہجے میں کہا۔
انعم نے غور سے علینہ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ “یہ آپ کے چہرے پر کیا ہوا ہے، بھابھی؟”
“کچھ نہیں ہوا۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔” علینہ نے ارحم کا سارا غصہ انعم پر نکالا اور دروازہ بند کر دیا۔
انعم خاموشی سے پلٹ گئی، اپنا سا منہ لے کر۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️

[videojs_video url=”https://cdn10.urduflix.pk/NiaziPlay/Mehmed-Fetihler-Sultani/Urdu/S3/Episode-51.smil/index.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]

 

  1. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  2. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  3. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  4. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  5. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  6. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  7. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  8. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  9. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  10. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  11. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  12. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  13. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE
  14. EPISODE 2 (51) URDU SOURCE

Mehmed Fetihler Sultani: Mehmed The Conqueror: Season 3 : Episode 2 (51) in Urdu Sub