Mehmed Fetihler Sultani: Mehmed The Conqueror: Season 3 : Episode 1 (50) in Urdu Sub

یہ کیا کر رہے ہیں ؟”
‎ریشم” نے شرماتے ہوئے کہا۔”
‎کچھ نہیں، بس اپنی بیوی کو خود میں قید کرنا چاہتا ہوں۔”
‎بارون ” نے شرارت سے جواب دیا۔”
‎” جی نہیں، ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ “
‎ریشم ” نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ “
‎”
! کچھ دیر پہلے آپ شاور کے نیچے بہت کچھ کر چکے ہیں۔ اب مزید نہیں “
‎بارون” نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے مزید قریب کیا اور شرارتی انداز ” میں بولا
‎شاور کے نیچے تو ہلکا پھلکار و مینس ہوا تھا۔ کیا اتنے سے پیٹ بھر سکتا ہے ؟” بارون”، پلیز! مجھے جانے دیں۔”
‎ریشم ” نے گھبرا کر خود کو اس سے دور کرنے کی کوشش کی۔”
‎” نہیں ، ابھی نہیں۔”
‎بارون ” نے مزید شرارت سے اس کی دھڑکنوں پر جھکتے ہوئے کہا۔ “
‎ریشم ” کسی طرح خود کو چھڑا کر ہنستے ہوئے کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ ” ہارون ” ” نے مسکراتے ہوئے اسے آواز دی، لیکن وہ رکی نہیں۔
‎جیسے ہی ” ریشم ” کمرے سے نکلی، ” ہارون ” کا چہرہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا اور اپنے آدمی کو کال کر کے نمبر بھیجا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے شک کے پیچھے واقعی “سلطان” کا ہاتھ ہے یا کوئی اور کہانی چل رہی ہے۔
‎بارون ” کی آنکھوں میں اب محبت کی جگہ چالا کی اور احتیاط نظر آرہی تھی۔”
‎ڈاکٹر ” ہما” کمرے میں بیٹھی ہوئی ” ماہین ” کو فیڈ کروارہی تھی۔
‎ماہین” ڈاکٹر ” شاہ زیب ” اور ڈاکٹر ” ہما” کی سب سے چھوٹی بیٹی کا نام ہے۔” ماہین ” کی ننھی سی شکل اور “ہما” کے چہرے پر محبت کی جھلک نے پورے کمرے ” کو ایک پر سکون ماحول سے بھر دیا تھا۔
‎شاہ زیب ” جو ” ملالہ ” اور ” مائرہ” کو ابھی سکول چھوڑ کر واپس آیا تھا دروازے ” کے قریب کھڑا ہو کر ” ہما” کے چہرے کی خوشی کو محسوس کر رہا تھا۔
‎ہما” اس بات سے بے خبر تھی کہ ” شاہ زیب ” دروازے پر کھڑے ہو کر “ماہین ” ” کو فیڈ کرواتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ ” شاہ زیب ” بڑے آرام سے اپنی بیٹی کو فیڈ کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ “ہما” نے اگر اسے دیکھ لیا تو روم سے باہر جانے کو کہے گی اور ” ہما” ایسا کیوں کرے گی اس وجہ کا بھی اسے اچھی طرح سے پتہ
‎تھا۔ جناب ہمیشہ اپنی بیٹی کو فیڈ کرتے ہوئے دیکھ خود رومینٹک ہو جاتے تھے اور پھر شامت آتی تھی بیچاری ” ہما” کی۔
‎شاہ زیب ” کی اس حرکتوں کی وجہ سے “ہما” خان صاحب کو روم میں فیڈ کے ٹائم ” گھنے ہی نہیں دیتی تھی۔ “ہما” ایک ڈاکٹر تھی تو اس لیے اپنے بچوں کو زیادہ تر اپنا فیڈ دینا بہتر سمجھتی تھی مگر آج دروازہ کھلاد دیکھ کر ” شاہ زیب ” اندر آ چکا تھا۔ آج ” شاہ زیب” کی ہاسپٹل سے چھٹی تھی۔ “ہما” کو نائٹ ڈیوٹی پر جانا تھا۔ اس لیے “شاہ زیب” کے خرافاتی دماغ میں سوائے رومینس کے اور کیا آسکتا تھا۔ “ہما” کی نظر جب ” شاہ زیب ” پر پڑی تو اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ جناب کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
‎” کیا بات ہے؟”
‎ہما” نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ جب اس نے “شاہ زیب ” کو خاموشی سے ” دروازے کے قریب کھڑے دیکھا۔
‎کچھ نہیں۔۔۔ بس تمہیں اپنی بیٹی کے ساتھ دیکھنا اچھا لگ رہا ہے ورنہ تم تو ظالم ہو ” ” مجھے ایسے خوبصورت لمحات دیکھنے سے محروم رکھتی ہو۔ شاہ زیب ” شرارتی لہجے سے کہتا ہوا اندر آکر دروازہ بند کر چکا تھا۔ “
‎میں ظالم نہیں ہوں ، آپ بہت وہ ہیں جس کی وجہ سے آپ کو یہ سزا ملتی ہے ، اور آپ ” ” جس نیت سے اندر آ رہے ہیں، مجھے سب کچھ سمجھ آرہا ہے۔ ڈاکٹر ” ہما” “ماہین ” کو فیڈ مکمل کرواکے ، اسے فوراً جھولے میں ڈالتے ہوئے اپنا ڈریس ٹھیک کر رہی تھی۔ ” شاہ زیب ” کی نیت کب خراب ہو جائے، یہ تو ” شاہ زیب ” کو خود بھی نہیں پتہ ہوتا تھا، تو “ہما” اس پر کیسے بھروسہ کر سکتی تھی ؟
‎” اچھا، میں وہ کیا ہوں ؟”
‎شاہ زیب ” نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ڈاکٹر ” ہما” کی کمر پر ہاتھ رکھتے ” ہوئے اسے اپنے قریب کر لیا۔ ” ہما” لڑکھڑاتی ہوئی اس کے سینے سے آٹکرائی تھی۔ ” شاہ زیب ” کہ بے باک انداز سے اسے نظر آرہا تھا کہ اس کی جان ڈاکٹر صاحب کے ارمانوں کی سولی چڑھنے والی ہے
۔
‎ڈاکٹر ” ہما” کو اپنے شوہر کے انداز کا باخوبی پتہ تھا، جو پیار کی صورت میں اکثر سخت ہو جایا کرتا تھا۔ اپنے قربت کے لمحات میں “شاہ زیب ” آج بھی اڑیل رومینٹک پٹھان ہی تھا اس میں کوئی چینج نہیں ہوا تھا۔ ظالم نے اس انداز سے اس کی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا کہ بیچاری ” ہما” کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی تھی۔
‎پہلے انداز سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب فل موڈ میں ہیں۔ ” ! شاہ زیب “، پلیز! آئی ایم ٹائٹ، تنگ مت کیجئے گا”
‎ہما نے اور رو دینے والی شکل بناتے ہوئے کہا۔”
‎اس کی آنکھوں میں تھکن تھی۔ رات کے تین بجے سے “ماہین ” مسلسل جاگ رہی تھی، اور ابھی اس کا فیڈ کر واکر وہ خود بھی کچھ دیر سونا چاہتی تھی کیونکہ رات کو پھر نائٹ ڈیوٹی پر جانا تھا۔
‎اس وقت “ہما” کے جسم اور دماغ دونوں تھک چکے تھے، لیکن “شاہ زیب ” کی موجود گی اور اس کا انداز اور آنکھوں میں خماری دیکھ کر اسے لگ نہیں رہا تھا کہ بیچاری آرام کر سکے گی۔
‎شاہ زیب ” کی طرف سے یہ سب ایک معمول کی بات تھی۔ جب اس کا دل چاہتا ” تھا، تو وہ ” ہما” کی قربت میں خود کو ڈو بولیتا تھا، اور اس کی تھکن کا خیال ایسے لمحات میں کبھی بھی نہیں رکھتا تھا۔ آج جناب کی چھٹی تھی ، اور وہ جانتی تھی کہ ایسی صورت میں اسکی کی جان نہیں چھوٹ سکتی، پھر بھی اس نے ایک آخری کوشش کرتے ہوئے التجا کی تھی۔ چاہیے آپ جتنی مرضی تھکی ہو ، ہم اپنے رومینس پر کمپرومائز نہیں کر سکتے ، “
“سوری
‎شاہ زیب ” نے اس کی پنکھڑیوں کو بے قرار سے چومتے ہوئے خماری لہجے میں کہا۔ “
‎” شاہ زیب “، پلیز”
‎” ! کچھ پلیز نہیں، ہمیشہ یہ ڈرامے بازی مت کیا کرو “
‎شاہ زیب ” نے اس کی کمر پر دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے پیار سے اسے بانہوں میں اٹھا” کر اپنے روم میں لے آیا۔ بچوں کا روم بالکل ساتھ میں تھا، اس لیے ڈر والی کوئی بات نہیں تھی اور ” ماہین ” تو سو چکی تھی۔ شاہ زیب کے لیے میدان خالی تھا اور ڈاکٹر صاحب ایسا موقع سے کیسے خالی جانے دے سکتے تھے۔
‎” شاہ زیب ” ، آپ کو مجھ پر ترس نہیں آتا؟”
‎وہ دینے والی شکل بناتے ہوئے پوچھ رہی تھی، جبکہ ” شاہ زیب ” نے دونوں ہاتھ اس کہ کمر پر باندھ رکھے تھے۔ ” ترس آتا ہے ، اسی لیے تو تھکن اتارنے کا بندوبست کر رہا ہوں۔”
‎” ! کبھی اپنے شوہر کی خدمت پر خوش بھی ہو جایا کرو، ڈاکٹر صاحبہ “
‎شاہ زیب ” نے نرمی سے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا۔ “
‎جان نکال لیتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تھکن اتارنے کا بندوبست کر رہا ہوں۔”
‎ہما” کو ” شاہ زیب ” پر پیار بھی آرہا تھا اور تھوڑا تھوڑا تھوڑا غصہ بھی آرہا تھا۔ “
‎پیار اس بات پر آرہا تھا کہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ اس کی تھکن اتارنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ غصہ اس بات پر آرہا تھا کہ پیار کے جذباتوں کے لمحات میں وہ کبھی اس کی نیند اور سکون کی فکر نہیں کرتا تھا۔
‎سوائے ڈاکٹر صاحب میں اس کے علاوہ کوئی خرابی نہیں تھی اور اس خرابی پر وہ کبھی بھی کمپرومائز کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتا تھا۔ شرٹ کے بٹن کو کھولتے ہو اپنے سینے سے ہٹا چکا تھا۔ وہ گھٹا کی مانند اس کے اوپر گرتے ہوئے چھا رہا تھا۔
‎شکل سیدھی کرو، پیار کر رہا ہوں، ایسی شکل تو لوگ مار کھاتے ہوئے بھی نہیں ” ” بناتے۔ وہ مسکراتے ہوئے ” ہما” کے چہرے پر اپنا چہرہ جھکائے ہوئے بولا، جبکہ “ہما” کی رو دینے والی شکل دیکھ کر اسے ہنسی آرہی تھی۔
‎” شاہ زیب ” پلیز ، آج نہیں۔”
‎اس لمحے میں مجھے انکار بالکل پسند نہیں ہے ، اور یہ بات میری پٹھانی ڈاکٹر کو سمجھنی “
‎” چاہیے۔
‎اس نے ہونٹوں پر انگلی جماتے ہوئے اسے مکمل طور پر خاموش کروادیا۔
‎شاہ زیب ” کے مضبوط بھاری سینے کا پوراد باؤ نرماہٹوں پر تھا۔ “
‎” ! شاہ زیب ” پلیز میرے اوپر سے ہٹیں، مجھے بین ہو رہا ہے ” وہ اپنے فیڈ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تھی۔
” تو ٹھیک ہے ، تم اوپر آجاؤ۔”
‎وہ خماری سے مسکراتے ہوئے کروٹ لے کر اسے پیار سے اپنے اوپر کر چکا تھا۔ شدت سے وہ ” ہما” کے سر پر لگا کیچر کھول رہا تھا، اور اس کے بال آہستہ آہستہ آزاد ہو کر ” شاہ زیب ” کے چہرے اور سینے پر بکھر گئے تھے۔
‎شاہ زیب ” کی نظریں ” ہما” پر مرکوز تھیں، جو اس کے سینے پر بے قرار سی لیٹی ہوئی ” تھی۔ اس کی آنکھوں میں تھکاوٹ کے باوجود ایک نرم سی محبت کی لہر تھی۔
‎” شاہ زیب ” پلیز آج نہیں۔”
‎ہما کی آواز میں ایک پیاری سی درخواست تھی کہ آج آزادی دی جائے مگر ” شاہ” زیب ” نے اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے تھے مگر اپنے جذ باتوں پر کمپرومائز کرنے والی چیز نہیں تھا ڈاکٹر ” شاہ زیب بھاری ہاتھ کی شہادت والی انگلی نرمی سے اس کے لبوں پر رکھتے ہوئے مکمل خاموش کروادیا۔
‎”میں تمہارا انکار نہیں سن سکتا، ہما۔”
‎ایک چیز پر بحث مت کیا کرو۔ اگر کہا ہے نہیں تو مطلب نہیں۔۔۔۔ اور فرار ہونے ” کی کوشش میں ہر وقت مت رہا کرو۔
‎تھوڑا سا دور ہوتی ہوں “ہما” کو ” شاہ زیب ” نے واپس اپنے سینے کی طرف کھینچ لیا۔ محبت سے لبوں کو لبوں میں قید کیے ، وہ لبوں کی نرماہٹوں کو لبوں سے محسوس کرتے ہوئے، جام محبت پی رہا تھا۔
‎وه ” شاہ زیب ” کی محبت کے سامنے بے اختیار ہو کر خود کو اس کے حوالے کر چکی تھی۔
‎دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں مدھم انداز میں مل کر نرم لہروں کی طرح بہکنے لگی تھیں۔ وہ دیوانگی سے پنکھڑیوں کی نمی کو لبوں سے چومتے ہوئے ، شدت سے حلق میں اتار رہا تھا۔ وہ ایک ایک سانس کے لیے محبت میں تڑپنے پر مجبور کر رہا تھا۔
‎محبت کی شدت میں ، ہر لمحہ جیسے ان کے بیچ بڑھتا جار ہا تھا، دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے قریب ہو کر تیز ہو گئی تھیں۔ وہ ہر ایک لمحے میں ایک دوسرے کی موجودگی میں ڈوب رہے تھے ، جیسے دونوں کا وجود صرف ایک دوسرے میں سمایا ہوا ہو۔ ان کے درمیان ہر حرکت ، ہر لمس میں ایک ایسا جذبہ تھا جو الفاظ سے زیادہ گہرا اور مضبوط تھا، جو ہر پل بڑھتا جا رہا تھا۔ بھاری اور مضبوط ہاتھ اس کی نرم دھڑکنوں پر رکھے ہوئے تھا، اور جیسے ہی اس نے کروٹ لی، وہ محبت کی شدت میں مزید ڈوبتا ہوا اس کے قریب آرہا تھا، ہر لمحہ اس کی قربت میں گہرائی سے بہک رہا تھا۔
‎بیبی کی فیڈ کی وجہ سے وہ لبوں کو مکمل طور پر نہیں دبا سکتا تھا، مگر ہر دھڑکنوں کے اطراف میں وہ پوری شدت دکھاتے ہوئے اپنے جذبات کی گہرائیوں میں ڈوب رہا تھا۔
‎بیبی فیڈ کی وجہ سے اس کی نرم دھڑکنوں میں اور بھی نرمی اور خوبصورتی آگئی تھی، ہر دھڑ کن مزید نمایاں اور دلکش لگ رہی تھی۔
‎شاہ زیب ” کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں ، اور وہ اس کی ہر دھڑکن کو اپنے ہاتھوں ” میں محسوس کرتا، ٹھنڈی انگلیوں سے اس کی رفتار کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ مخملی نرماہٹوں پر چہرہ رگڑتے ہوئے ، وہ دونوں ہاتھوں سے دھڑکنوں کے اطراف کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔ “ہما” اس کے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے ہوئے تھی، اور اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔

 

[videojs_video url=”https://cdn.videas.fr/v-medias/s5/hlsv1/3e/fa/3efadc5b-d480-401d-aea6-89f5565e69a6/playlist.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]

  1. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  2. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  3. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  4. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  5. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  6. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  7. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  8. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  9. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  10. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  11. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  12. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  13. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  14. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  15. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  16. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE
  17. EPISODE 1 (50) URDU SOURCE

 

Mehmed Fetihler Sultani: Mehmed The Conqueror: Season 3 : Episode 1 (50) in Urdu Sub