Kizil Goncalar – Red Roses – Season 1 Episode 16 With Urdu Subtitles

وہ جو چند پکچر ز آپ نے دیکھی ہیں ، وہ صرف چند نہیں ہیں۔ ایک ان نون نمبر سے ” ایسی بے تحاشہ پکچر ز مجھے روز مل رہی ہیں۔ میں اگنور کرنے کی کوشش ہی تو کر رہی تھی، آپ پر یقین ہی تو کر نا چاہتی تھی مگر آپ راتوں کو چوروں کی طرح اٹھ کر فون پر باتیں کریں، آپ کی پاکٹس سے ائیر نگر ملیں، اور مجھے صرف آپ پر یقین کرنا ” چاہیے ؟
اتنی اعلیٰ ظرف نہیں ہوں میں۔ “
اب اگر آپ یہ بھی کہنا چاہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ نے اعلیٰ ظرفی ” ” دکھائی ہے مجھے قبول کر کے۔
” خاموش ہو جاؤ، ” مرحا “
ایسے جملے مت بولو جو میں برداشت نہ کر سکوں۔”
” جو کہنا ہے، مجھ سے کہو۔ خود پر ایسے الفاظ مت چھا پو جو مجھ سے برداشت نہ ہوں۔”
ڈاکٹر سے اجازت لیں، میں گھر جانا چاہتی ہوں۔ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں ” کرنی۔ مرحا” یار ، اتنی خوشی کے موقع پر کیا چند لمحے ہم سب کچھ ہٹا کر اس خوشی کو “
” سیلیبریٹ نہیں کر سکتے ؟
شاہ میر ” کی نظروں میں “مرحا” کے لیے محبت تھی اور لہجے میں التجا۔”
چھ فٹ کا پولیس والا اپنی بیوی کے سامنے چند محبت بھرے لمحوں کو سیلیبریٹ کرنے کی بھیک مانگ رہا تھا مگر ” مرحا ” صرف ایک عورت بن کر سوچ رہی تھی۔ اس وقت وہ پوری طرح سے “شاہ میر ” سے بد گمان تھی “شاہ میر ” کی بات پر کوئی جواب ظاہر نہیں کیا تھا۔
” مطلب کہ انکار ہے ؟”
” جب خاموشی اختیار کر چکی ہوں تو اس کا مطلب انکار ہی ہے۔ “
” آپ ڈاکٹر سے کہیں کہ ہمیں گھر جانے دیں۔ “
شاہ میر ” نے گہری سانس فضا میں چھوڑتے ہوئے صبر کا گھونٹ پی لیا تھا۔ وہ “
“مرحا” کو لے کر خاموشی سے ڈاکٹر کے کلینک روم میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر نے روٹین کے مطابق انہیں ملٹی وٹامنز تجویز کیں، کھانے کی اچھی عادت اپنانے اور ڈائٹ کا خیال رکھنے کی نصیحت کی، اور باقاعدہ چیک اپ کے لیے آنے کو کہا۔ آخر میں ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ “مرحا” کو تناؤ سے دور رکھا جائے۔
شاہ میر ” کیسے بتاتا کہ تناؤ تو ان کی زندگی میں اس طرح داخل ہو چکا ہے جیسے اسے ” نکالنا فی الحال نا ممکن ہو۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹر کے سامنے اپنے تاثرات نارمل رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دونوں نے ڈاکٹر کی بات کو دھیان سے سنا اور پھر ایک ساتھ کیا کلینک سے باہر نکلے۔
مرحا” کا ہاتھ پکڑ کر “شاہ میر ” ساتھ لے جانا چاہ رہا تھا، مگر “مر حا” نے جھٹکے ” سے اپنا ہاتھ چھڑ والیا۔
” مرحا ” میرے صبر کا صرف اتنا امتحان لو جتنا میں آرام سے دے سکوں۔” گاڑی میں بیٹھتے ہوئے “شاہ میر ” نے بڑے ضبط سے یہ جملے کہے تھے۔
شاہ میر ” کے موبائل پر میسیج بیپ ہونے پر اس نے فوراًمو بائل نکال کر دیکھا، کیونکہ ” اکثر کام کے حوالے سے میسجز آتے رہتے تھے لیکن اس بار میسج پڑھتے ہی ” شاہ میر ” کے چہرے پر گہری پریشانی جھلکنے لگی، جیسے کوئی سنگین بات کہی گئی ہو۔ شاہ میر ” نے گاڑی چلاتے ہوئے ایک لمحے کے لیے “مرحا” کی طرف دیکھا، مگر ” پھر مکمل خاموشی اختیار کرلی۔
شاہ میر ” اور “مرحا” کا باقی کا سفر خاموشی سے گزرا تھا۔ “مرحا”، “شاہ میر ” ” کے غصے سے ڈر کر خاموش تھی، اور “شاہ میر ” اس لیے خاموش ہو گیا تھا کیونکہ وہ “مرحا” سے مزید جھگڑا کر کے حالات کو خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
گاڑی ” شاہ میر ” نے اپنے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان بنے ہوئے گھر کے سامنے رو کی۔ یہ گھر اسے سرکاری طور پر ملا تھا۔
شاہ میر ” نے گاڑی سے نکلتے ہوئے فوراً دوسری جانب آکر ” مرحا ” کی سائیڈ کا” دروازہ کھولا۔ اس کا دماغ جھگڑے کے اثرات سے بھر اہوا تھا، مگر اس وقت بھ بھی اس کے ذہن میں “مرحا” کی حالت کو لے کر نرم جذبات تھے۔ شاہ میر ” نے “مرحا” کے سامنے ہتھیلی پھیلا کر اسے باہر آنے کی پیشکش ” کی۔ “مرحا” نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے اور آنکھوں پر ابھی بھی “شاہ میر ” کے لیے بے انتہا غصہ تھا۔
کچھ دیر کی خاموشی دونوں میں برقرار رہی۔
مجھے کچھ نہیں ہوا۔ نہ ہی ابھی تک میں پوری طرح سے آپ کے رحم و کرم پر ہوں۔” ” میرے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں، میں خود اپنے قدموں پر چل کر جاسکتی ہوں۔
مرحا” کی آنکھوں میں غصہ اور لہجے میں آنسوؤں کی لرزش تھی۔ “مرحا” ، جو پیار ” نچھاور کرنے والی اور اس پر یقین کرنے والی تھی، اتنی زیادہ غلط فہمیوں کا شکار ہو چکی تھی کہ وہ ایک نظر بھی ” شاہ میر ” کی جانب دیکھنا گوارا نہیں کر رہی تھی۔ اس کا بس چلتا تو وہ اسی وقت خود کو “شاہ میر ” سے دور کر لیتی، مگر اس کی مجبوری یہ تھی کہ وہ اس وقت گھر سے بہت دور تھی۔ چاہ کر بھی وہ ” شاہ میر ” کے بغیر یہاں سے نہیں جا سکتی تھی۔ مرحا” کی زندگی ہمیشہ سے دو مردوں کے گرد گھومتی رہی تھی۔ پہلے “مرحا” دنیا” کو صرف اپنے بھائی کی نظر سے دیکھتی تھی، اور اب ” شاہ میر ” کی نظروں سے۔ وہ چاہ کر بھی اس بھیڑیوں سے بھری ہوئی دنیا میں نکلنے کو تیار نہیں تھی۔
شاہ میر ” نے اس کارد عمل نظر انداز کرتے ہوئے ، اس کے زیادہ قریب آکر ، اس کا ” ہاتھ زبر دستی تھامتے ہوئے ، اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔
تمہیں خود سے چل کر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم چاہو یانہ چاہو ، تم ہر وقت ” میری حراست میں ہو اور ایسی حالت میں اگر تم نے ذراسی بھی منمانی کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔
شاہ میر ” نے سخت لہجے میں کہا۔ “
مرحا” نے غصے سے “شاہ میر ” کا اپنی کمر پر رکھا ہوا مضبوط ہاتھ اپنے نازک ہاتھ ” سے اٹھانے کی پوری کوشش کی ، مگر وہ پوری طرح سے ناکام رہی۔
” ! مجھے آپ کی مدد نہیں چاہیے “میر “، میں خود چلی جاؤں گی ” وہ تقریباً چلانے والے انداز میں بولی۔ شششش۔”
اگر اونچی آواز نکالنے کی کوشش بھی کی ، تو ” مر حا”، میں سختی سے پیش آؤں گا۔ مجھے ” مت مجبور کرو کہ میں تمہیں اپنا وہ روپ دکھاؤں، جو آج سے پہلے تم نے کبھی نہیں ” دیکھا۔
شاہ میر” کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس کے چہرے پر غصہ اور بے بسی کے ” آثار واضح ہونے لگے تھے۔ مرد کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، اور کبھی کبھار عورت اپنی ناکافی عقل کا استعمال کرتے ہوئے شوہر کی برداشت کے پیمانے کو بھر دیتی ہے، جس کے انجام کافی برے ثابت ہو سکتے ہیں۔
میر”، چھوڑ دو مجھے۔۔۔ آپ سے برا اس وقت کوئی نہیں ہو سکتا، آپ مجھے میری” ” ! مرضی کے خلاف کچھ بھی کرنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے
وہ بچوں کی طرح ضد پر اڑی ہوئی ، ہاتھ پاؤں مار کر، پتہ نہیں کیوں، ” شاہ میر ” کے غصے کو اور بڑھارہی تھی۔
” تم مجھے انکار کرو گی ؟”
” مجھے دھمکی دوگی کہ میں تمہاری مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا؟” شاہ میر ” نے آنکھیں دکھاتے ہوئے قدم اپنے گھر کی جانب بڑھائے تھے۔”
” ! جی کروں گی “

 

[videojs_video url=”https://s1-hls2-cdn28.rdr2games.com/hls/kCs6ZoLbxCPBsA4qXVf4trixFMJDnS/index_1280x720.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]

EPISODE 16 URDU SOURCE 1

EPISODE 16 URDU SOURCE 2

EPISODE 16 URDU SOURCE 3

EPISODE 16 URDU SOURCE 4

Kizil Goncalar Season 1 Episode 16 With Urdu Subtitles