Kizil Goncalar – Red Roses – Season 2 Episode 2 (21) With Urdu Subtitles

حدیقہ شوخی سے بولی۔”اور سنائیں بال بچے ٹھیک ہیں ناں،ہماری بھابی کیسی ہیں؟ ان کے حصے کا وقت فضول پھرنے میں صرف نہ کیا کریں۔“
”اجازت چاہوں گا محترمہ اور چائے رہنے دیں۔“اسے حدیقہ کا انداز پسند نہیں آیا تھا۔
حدیقہ نے اسے روکنے کی رسمی سی کوشش کی تھی مگر اس نے رکنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔
٭٭٭٭٭
قاسو بھائی کو داخلی دروازے ہی پر چوکیدار نے ہاشو کے جانے کا بتا دیا تھا۔گہرا سانس لیتے ہوئے وہ پوچھنے لگا۔”کس وقت نکلے ہیں اور کدھر کا رخ کیا ہے؟“
”پہلے بی بی جی صیب کی اجازت کے بغیر نکلا ،میں نے صیب کو بتایا تو وہ بھی اس کے پیچھے نکل گئے۔اور اس طرف جارہا تھا۔“اس نے بائیں جانب ہاتھ کااشارہ کیا۔
” لڑکی بھاگ گئی ہے۔“قاسو ششدر رہ گیا تھا۔”مگر کیوں، کیالڑائی وغیرہ ہو گئی تھی؟“
”لڑائی تو نہیں ہوا تھا صیب جی،بس وہ امارے پاس آکر بولا صیب جی پیزا مانگ رہے ہیں، ام پیزا کے لیے جانے لگا تو صیب جی نے بلالیا،بی بی شاید خفا ہو کر خود خریدنے چلا گیاہوگا۔“
”اس کا مطلب وہ واپس لوٹیں گے۔“
”سامان تو ساتھ لے کر نہیں گیا صیب جی! ہوسکتا ہے لوٹ آئے،البتہ جاتے ہوئے صیب جی نے یہ پیغام دیا تھا کہ آپ اپنا خیال رکھیں اور صیب جی کو ان کے حال پر چھوڑ دیں….اسی طرح کچھ کہہ رہے تھے۔“
صابر نے کہا۔”بھائی !وہ آپ کے جھانسے میں نہیں آیا۔“
قاسو نے قہقہ لگایا۔”ہم دونوں ایک دوسرے کی رگ رگ سے واقف ہیں ناں۔“
صابر نے پوچھا۔”اب کیا کریں؟“
قاسو نے امید ظاہر کی۔”تلاشی لے لیتے ہیں شاید عجلت میں کوئی سراغ چھوڑ گیا ہو۔“
صابر نے نفی میں سرہلایا۔”ہاشو دادا سے ایسی غلطی نہیں ہو سکتی۔“
”پھر بھی دیکھنے میں حرج نہیں ہے۔“قاسو بھائی نے متفق ہونے کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔
کمروں کی تلاشی پر سوائے ہاشو اور خامسہ کے سامان کے انھیں کام کی چیز ہاتھ نہیں لگی تھی۔
قاسو نے خیال ظاہر کیا۔”سامان دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لڑکی نے سچ مچ بھاگنے کی کوشش کی ہے اور ہاشوکو جونھی اطلاع ملی اسے عجلت میں لڑکی کے تعاقب میں بھاگنا پڑا۔“
رضا بولا۔”شاید ان کے درمیان کوئی غلط فہمی جڑ پکڑ گئی ہے،جس کا فائدہ چنگیزی کو پہنچے گا۔“
قاسو نے اس کا نمبر ملا کر فون کان کو لگایا اور بند ہونے کا مژدہ سنتے ہی غصے سے بولا۔ ”موبائل فون بھی بند کیا ہوا ہے بے غیرت نے، اسے بروقت خطرے سے کیسے آگاہ کریں گے؟“
صابر نے کہا۔”بھائی !آپ اسے کچھ زیادہ ہی بے
وقوف اورنازک اندام سمجھ رہے ہیں۔ پریشان نہ ہوں یہ ساری قباحتیں اس کے دماغ میں بھی ضرورہوں گی۔“
قاسو بھائی طنزیہ انداز میںبولا۔”مرد کی ذہانت،عقل مندی اورہوشیاری کسی لڑکی کی محبت میں مبتلا ہوتے ہی بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے۔“
صابر نے نفی میں سرہلایا۔”مجھے نہیں لگتا ،ہاشو دادا کو محبت ہو سکتی ہے۔“
رضا نے تائید کی۔”بالکل بھائی! صابر ٹھیک کہہ رہا ہے۔“
قاسو بھائی نے فلسفہ جھاڑا۔”اقرارِمحبت کو اظہارکی ضرورت نہیں ہوتی،انسان کی حرکات و سکنات سے محبت نامی بیماری کا پتا چلتا ہے۔“
صابر گنگناتے ہوئے بولا….
میاں وہ دن گئے اب یہ حماقت کون کرتا ہے
وہ کیا کہتے ہیں اس کو، ہاں محبت کون کرتا ہے
قاسو بھائی نے منہ بنایا۔”تم ہاشو سے بھی بڑے گدھے ہو۔میرے کہنے کا ہرگزیہ مقصد نہیں ہے کہ میں عشق و محبت کو پاکیزہ جذبہ اور اچھا سمجھتا ہوں۔میرا تو ماننا ہے ….
ع کہتے ہیں جس کو عشق،خلل ہے دماغ کا۔
البتہ ہاشو کنجر اسی غلط فہمی میں مبتلا لگتا ہے اور اس کے سر سے یہ بھوت اتارنا ضروری ہے، ورنہ تو وہ گیا کام سے۔“
صابر نے کہا۔”اگر اسے آپ کے ارادے کا پتا چل چکا ہے تو مشکل ہے وہ ہاتھ آئے۔“
”بہ ہرحال ،تمھیں واضح بتا رہاہوں ،جہاں بھی نظر آئے بغیر کسی تاخیر کے مجھے مطلع کرنا اور اب پورے گروہ کو اس کی تلاش میں بکھیر دو۔اگر وہ لڑکی اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے تو جلد ہی تمھیں نظر آجائے گا۔“
”جو حکم بھائی!“صابر مودبانہ انداز میں بولا اور وہ باہر نکل آئے۔قاسو وہیں ان سے علیحدہ ہو گیاتھا۔اس کا رخ اپنی رہائش گاہ کی طرف تھا۔
٭٭٭٭٭
بازو پر ہلکا سا دباﺅ محسوس کرتے ہی ہاشو کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔سامنے شایددنیا کا موہنا ترین چہرہ موجود تھا۔کالے دوپٹے کے ہالے میں سفید چہرہ ، معصومیت یوں ٹپک رہی تھی جیسے بھرے ہوئے چھتے میں لکڑی چبھونے سے شہد ٹپکتا ہے۔ آنکھیں کھلتے ہی ایسے نظارے کا دیدار اس کے دل کی دھڑکنوں کو زیر و زبر کر گیا تھا۔اس نے فوراََ نظریں چرا کرآنکھیں میچ لی تھیں۔دماغ میں کسی دل جلے کا شعر گونجا….
بات رہ جائے گی پٹڑی پہ حسیں آنکھوں کی
ریل رکنی ہے مسافر نے اتر جانا ہے
وہ وہاں عارضی ہی تو تھی۔صرف جان بچانے کا خوف اسے ایک ڈاکو کی پناہ لینے پر مجبور کیے ہوئے تھا ورنہ کہاں وہ پھول جیسی پاکیزہ اور کہاں ہاشو کا کانٹے دار وجود۔قتل وغارت گری میں مبتلاایسا شخص جس کی زندگی میں مار دھاڑ،لڑائی جھگڑے کے علاوہ کچھ موجود ہی نہ تھا۔
کس طرح تنویر سپرا دور ہوتیں دوریاں
میں اندھیرا جھونپڑے کا وہ محل کا نور تھا
”اٹھیں ناں،گرم گرم ناشتا کرلیں۔“خامسہ کی ملائم آواز نے اس کی سماعتوں میں رس گھولا۔
”آرہا ہوں۔“دماغ سے الٹی سیدھی سوچیں جھٹکتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھا۔جمائی لیتے ہوئے کلائی گھما کر گھڑی پر نظر ڈالی اور ششدررہ گیا ۔سوئیاںصبح کے پانچ بجے کا اعلان کر رہی تھیں، لگا گھڑی غلط وقت بتا رہی ہے بے ساختہ پوچھا۔”کیا وقت ہوا ہے؟“
وہ بھول پن سے بولی۔”پانچ تو بچ چکے ہوں گے۔“
وہ برہم ہوا۔”اور میں نے کس وقت کہا تھا روزہ رکھوں گا۔“
”کک….کیسا روزہ ؟“وہ گڑبڑا گئی تھی۔

[videojs_video url=”https://hls1-cdn35.cloudlionscdn.com/hls/Ea9sT7kjRz75vX3yuNmZp4TORVEsBG/index_854x480.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]

EPISODE 21 URDU SOURCE 1

EPISODE 21 URDU SOURCE 2

EPISODE 21 URDU SOURCE 3

EPISODE 21 URDU SOURCE 4

Kizil Goncalar – Red Roses – Season 1 Episode 21 With Urdu Subtitles