Kizil Goncalar – Red Roses – Season 2 Episode 1 (20) With Urdu Subtitles

بھونچال
قسط نمبر23
ریاض عاقب کوہلر
جاوید راٹھور کو پیشہ ورانہ بے ضابطگی کرنے پر باقاعدہ تنبیہ ملی تھی،البتہ وہ معطل ہونے سے بچ گیا تھا۔سرکاری خط و کتابت میں اس کے تین چار ہفتے لگ گئے تھے۔اس دوران وہ تھانے فقط حاضری لگوانے جاتا رہا۔پھرزیر زمین حلقوں میں خامسہ کے معاملے میں ہاشو داداکے ملوث ہونے کی خبر پھیلنے پروہ بھی شک کے دائرے سے نکل آیا تھا۔اورایس پی مختیار کو تو ہلکے سے بہانے کی تلاش تھی کہ خامسہ کو چھوڑ دینے کا حکم تو جاوید راٹھور کو اسی نے دیا تھا۔
ڈیوٹی پر حاضر ہوئے اسے پہلا دن تھا جب رات کوساڑھے آٹھ بجے کے قریب اسے دہرے قتل کی اطلاع ملی۔دن بھر وہ کافی مصروف رہا تھا،مگر فرض کی ادائی نے اسے سونے کی اجازت نہ دی۔وہ فوراََ وقوعے پر پہنچا۔
نور بادشاہ نامی شخص ڈرائیور کے ہمراہ اپنے ہوٹل کے سامنے ہی مارا گیا تھا۔جاوید راٹھور اس ہوٹل کی آڑ میں جواءخانے کے اڈے سے بہ خوبی واقف تھا۔ نوربادشاہ بھی بہروز شاہ ہی کا آدمی تھا۔ اور پے در پے بہروز شاہ کے گروہ پر ہونے والے حملے ظاہر کر رہے تھے کہ کوئی بڑا گروہ اس کے پیچھے سرگرم تھا۔وہ بہروزشاہ کے بیٹے کا قتل اور اس کی بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے واقف تھا مگر وہ کیس اس کے تھانے کی حدود میں نہیں آرہا تھا ۔
لاش کی چھاتی پر رکھا سفید کاغذ جس پر موٹی لکھائی میں مادام شاہ لکھا ہوا تھااس کے لیے حیرانی کا باعث بنا تھا۔روایتی کرائے کے قاتلوں (ٹارگٹ کلرز)کا یہ طریقہ کار نہیں ہوتا کہ اپنے نام کی نمائش کرتے پھریں۔ مادام شاہ بھی ایک نیا نام تھا۔
”جانتے ہو یہ کس کی حرکت ہو سکتی ہے؟“وہ اس کے دست راست مقصود کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ نظریں چراتے ہوئے بولا۔”کچھ کہہ نہیں سکتا تھانیدار صاحب!“
جاوید معنی خیز انداز میں بولا۔”کہہ نہیں سکتے یا کہنا نہیں چاہتے۔“
”میرے علم میں نوربادشاہ صاحب کاکوئی ایسا دشمن نہیں ہے جو اتنا بڑا قدم اٹھا سکے۔“
جاوید راٹھور ہنسا۔”خیر محتاط رہنا،یہ نہ ہو اگلی باری تمھاری ہو۔“
مقصودخشک ہونٹوں کو تھوک سے تر کرنے لگا۔وہ جواب دینے کے قابل نہیں رہا تھا۔
جاوید راٹھور مزید آدھا گھنٹا ضابطے کی کارروائیوں میں صرف کرکے گھر لوٹ آیا۔
بہروز شاہ کے بیٹے کے قتل اور حدیقہ شاہ زیادتی کیس اس کے تھانے کی عمل داری میں نہیں آرہا تھا۔ان کے متعلق تفصیل جاننے کے لیے اگلے دن سب سے پہلے وہ متعلقہ تھانے میں جا کر انسپکٹر احسان سے ملا۔ کیس کے متعلق تمام معلومات لیتے ہوئے یہ عقدہ وا ہوا کہ بہروز کی تباہی کے پس پردہ کوئی بڑی شخصیت تھی۔ایس پی مختیار کی کال سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ چنگیزی ہو سکتا تھا۔البتہ چنگیزی بہروز شاہ کے خلاف کیوں ہو گیا تھا اس بارے اندازہ ہی لگایا جا سکتا تھا۔اسے لگا چنگیزی بہروز کو اپنے بیٹے کا قاتل سمجھ رہا ہے، مگر یہ اندازہ خاصا بے جوڑ تھا۔کیوں کہ پہلے فیروز شاہ کے قتل میں اسے قاسو گروہ ملوث نظر آرہا تھا ،لیکن انسپکٹر احسان کی گفتگو نے اس کی سوچوں کا رخ تبدیل کر دیا تھا۔یہ گتھی سلجھانے کو اس کا بہروز شاہ کی بیٹی سے ملنا ضروری تھا۔
اگلے دن تھوڑی دیر دفتر میں گزار کر وہ بہروز شاہ کی رہائش کی طرف چل پڑا۔وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ حدیقہ شاہ کسی سے بات چیت کرنا پسند نہیں کرتی تھی۔مگر وہ گپ شپ کرنے تو آیا نہیں تھاکہ واپس آجاتا۔ تعارف سن کر حدیقہ نے اسے خواب گاہ میں بلوالیا تھا۔بہروزشاہ کی وفات کارسمی افسوس کر کے وہ مدعے پر آیا۔
”پرسوں آپ کے والد مرحوم کا ایک اور کارندہ قتل ہوا ہے ،ایسا لگتا ہے کوئی تگڑا دشمن پنجے جھاڑ کر شاہ جی گروہ کے پیچھے پڑ گیا ہے۔کیا آپ کو کسی پر شک ہے؟“
حدیقہ نے کچھ کہے بغیر نفی میں سرہلادیا۔
جاوید معنی خیز انداز میں بولا۔”نجانے مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ آپ کچھ چھپا رہی ہیں۔“
وہ مسکنت سے بولی۔”انسپکٹر صاحب !جو کچھ مجھ پر بیت چکا ہے،اس کے اعادے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔“
جاویدراٹھور کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔”لیکن آپ مجھ پر بھروسا کر سکتی ہیں۔میں معلومات کے ذریعے کو صیغہ راز میں رکھوں گا،بس اپنی تفتیش بڑھانے کو کوئی سراغ چاہیے۔“
حدیقہ کا طنزیہ ہنکارا ابھرا۔”ہونہہ! بکری کو جان کی پڑی ہے اور قصائی کو چربی کی فکر ہے۔“
”منفی سوچ رہی ہو،مجھے آپ کے دشمن کے متعلق معلومات درکار ہیں۔اور میں کوشش کروں گا کہ آپ کا نام آئے بغیر ان کے خلاف قانون کارروائی کر سکوں۔یقینا اس میں آپ کا بھی فائدہ ہوگا۔“
حدیقہ کا مترنم قہقہ بلند ہوا….
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
اس نے برا منائے بغیر اٹھنے کو پر تولے۔”میرا نام جاوید راٹھور ہے،اپنے والد صاحب کے کسی کارندے سے میرے بارے پوچھ لینا اور باقی گپ شپ کل ہوگئی۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”زحمت ہی کرو گے۔“
جاوید نے دامن امید دراز کیا۔”شاید اپنے والد صاحب کے آدمیوں سے گفتگو کر کے آپ کسی بہتر نتیجے پر پہنچ جائیں۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔“
اس نے آئینہ سامنے کیا۔”اندیشوں کا پلو تھامنے والوں کو پولیس سے گلہ کرنا نہیں جچتا۔“
وہ تلخی سے بولی۔”حقائق کو اندیشوں کا نام نہ دیں۔“
جاوید نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نشست چھوڑی۔
بہت کوشش میں کرتا ہوں اندھیرے ختم ہوں لیکن
کہیں جگنو نہیں ملتا،کہیں پر چاند آدھا ہے
ملازمہ کا چائے کے برتنوں کے ساتھ آتا دیکھ کر حدیقہ نے دعوت دی۔”چائے پی کر جائیں انسپکٹر صاحب!“
”مجھے لگا تھاایک تعلیم یافتہ لڑکی کو قائل کر لوں گا۔“چائے کی طلب نہ ہونے کے باوجود جاوید کسی لالچ میں بیٹھ گیا تھا۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔” خلوص پر شک نہیں کر رہی ہے،بس آپ کی بے بسی سے واقف ہوں۔“
”اگرسچی ہوتو آپ کو حقیقت چھپانے پر مصر نہیں ہونا چاہیے۔“
وہ متبسم ہوئی۔”مجھے اپنے الفاظ اور وقت ضائع کرنے کا بالکل شوق نہیں ہے۔“
اس کا بااعتماد اور شوخ انداز جاوید راٹھو رکو حیران کر رہا تھا۔انسپکٹر احسان کے تیئں وہ زندگی سے مایوس نظر آئی تھی اور جاوید کا تجربہ اس کے بالکل برعکس تھا۔
جاوید راٹھور نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔”کسی کے فائدے کو بولے گئے الفاظ بے فائدہ نہیں کہلائے جا سکتے اور نہ اسے وقت کا ضیاع گردانا جا سکتا ہے۔“

[videojs_video url=”https://hls2-cdn31.cloudlionscdn.com/hls/j8Qvs9iABPdZXI4MEiAJqfkhwm9We8/index_854x480.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]

EPISODE 20 URDU SOURCE 1

EPISODE 20 URDU SOURCE 2

EPISODE 20 URDU SOURCE 3

EPISODE 20 URDU SOURCE 4

Kizil Goncalar – Red Roses – Season 1 Episode 20 With Urdu Subtitles