Kizil Goncalar – Red Roses – Season 1 Episode 18 With Urdu Subtitles
رکھیل
قسط نمبر27(آخری قسط)
ریاض عاقب کوہلر
کبیر دادا کی کوٹھی میں تمام گینگسٹرز اپنی بیگمات وغیرہ کے ساتھ جمع تھے ۔تناوش کو بھی پاشا گھر سے لے آیا تھا ۔کبیر دادا کی موت کی خبر سننے کے بعد وہ گم سم سی تھی ۔مختلف عورتوں نے تعزیت کے بہانے اسے مخاطب کرنے کی کوشش کی تھی مگر کسی کی بات کا جواب دیے بغیر وہ خالی خالی نظروں سے تما م کو دیکھتی رہی ۔فرحانہ بھی مغموم صورت لیے وہیں موجود تھی زندگی میں پہلی بار اسے تناوش سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی ۔اور پھر اس سے رہا نہ گیا تناوش کے قریب پہنچ کراسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔
”فرحانہ باجی!یہ عورتیں پریشان کیوں نظر آرہی ہیں ۔“اس کے معصومیت بھرے سوال پر فرحانہ کا دل کٹ کر رہ گیا تھا ۔
”وہ والی باجی کہہ رہی تھی کبیر حادثے میں فوت ہو گئے ہیں ۔ہونہہ، اتنی بھولی ہیں انھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں گئے ہوئے ہیں ۔“تناوش نے ایس پی کی بیوی سلطانہ کی جانب اشارہ کر کے کہا تھا ۔
”وہ سچ کہہ رہی ہیں پگلی ۔“فرحانہ کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔
مگر تناوش اس کی بات پر دھیان دیے بغیر اپنی لے میں شروع رہی ۔”نہیں ایسی بات نہیں ہے ،آج پورا دن انھوں نے میرے ساتھ گزاراشام کو ہم امی جان کی طرف سے گئے تھے وہیں پر انھیں کال موصول ہوئی اور وہ تھوڑی دیرمیں لوٹنے کا کہہ کر گئے ہیں ،ابھی تک نہیں لوٹے ۔آج تو آنے دو بالکل بھی بات نہیں کروں گی ،دیکھنا کیسے منتیں کریں گے ۔“
”کاش ایسا ہی ہوتا ۔“فرحانہ سسکی ۔
”اتنے مہمان جمع ہو گئے ہیں ا ب تو انھیں آجانا چاہیے تھا ۔“تناوش پریشانی ظاہر کرتے ہوئے بولی ۔”باجی یہ تمام ہماری شادی کی خوشی میں جمع ہوئے ہیں نا ۔“
فرحانہ اس کی بات کا جواب نہیں دے سکی تھی ۔راحت خالہ کو شاید پاشا نے تمام کے لیے چاے بنانے کا کہا تھا ۔اسے باورچی خانے کی طرف بڑھتا دیکھ کر تناوش کہنے لگی ۔
”راحت خالہ ،سالن میں خود بناﺅں گی ،وہ بس آنے ہی والے ہوں گے ۔صبح ناشتے کے بعد سے انھوں نے کچھ نہیں کھایا۔“
پاشا اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قریب پہنچا ۔”چلو گڑیا ،تم تھوڑی دیر آرام کرلو ۔“
تناوش نے پریشانی ظاہر کی ”مگر بھیا ،وہ آ کر خفا ہو جائیں گے کہ مہمان بیٹھے ہیں اور میں سونے کولیٹ گئی ہوں۔“
”میں انھیں سمجھادو ں گا ۔“پاشا اسے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے خواب گاہ میں لے گیا ۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز سے نیند کی گولی نکال کر اس نے تناوش کو کھلائی اور خواب گاہ کا دروازاہ بند کرتے ہوئے باہر نکل آیا ۔
نوشاد اس وقت اخلاق حسین کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا ۔”اگر یہ نام نہاد بھائی نہ ہوتا تو چھوکری تو ہاتھ میں تھی ۔“
اخلاق نے کہا ۔”چلو دیکھ لیتے ہیں پاشا اس کے لیے کیا کرتا ہے ،پھر کوئی منصوبہ بندی سوچ لیں گے۔فی الحال تو ٹھنڈ رکھو غریب تازہ تازہ بیوہ ہوئی ہے ۔“
اسی وقت راحت خالہ تمام کے لیے چاے لے آئی تھی ۔زیادہ تر نے چاے پینے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی ۔تھوڑی دیر بعد پاشا تمام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں گھر واپس لوٹ کر آرام کا مشورہ دے رہا تھا ۔
٭٭٭
کبیر دادا کی لاش انھیں نہیں ملی تھی ۔بس گوشت کے چند لوتھڑو ں اورکپڑے کی کچھ دھجیوں کو لکڑی کے تابوت میں بند کر کے دفنا دیا گیا تھا۔تناوش کمرے میں بند ہو کر رہ گئی تھی ۔ اس کی حالت کے پیش نظر پاشا کواسے ماں کے پاس بھیجنا پڑا ۔البتہ اس کی حفاظت کے لیے باقر اور رخسار کو بھی ساتھ بھیجا تھا ۔
کبیردادا کی موت کے تیسرے دن تمام گینگسٹرز کبیر دادا کے خفیہ ٹھکانے پر موجود تھے۔سربراہی کی کرسی خالی پڑی تھی اور اس کرسی کی پشت کو پکڑ کر پاشا تمام کی طرف متوجہ تھا ۔
”بیٹھک کا باقاعدہ آغاز کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کرسی پر بیٹھنے کے لیے کسی ایک کا چناﺅ کیا جائے ۔اس ضمن میں کاشف دادا کے علاوہ اگر کوئی بھی مجھ سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو سامنے آسکتا ہے ۔تاکہ بیٹھک کے آغاز سے پہلے مقابلہ کر لیا جائے ۔“پاشا نے سوالیہ نظروں سے سب کی طرف دیکھا مگر کوئی اپنی جگہ سے نہیں اٹھا تھا ۔
”کاشف دادا !….اگر آپ یہاں آنا چاہیں تو مجھے خوشی ہو گی ۔“اس مرتبہ پاشا نے کاشف راجپوت کو دعوت دی ۔
کاشف راجپوت کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”شکریہ پاشا ،مگر میں اپنی جگہ پر ٹھیک ہوں ۔ آپ سے پہلے کبیردادا نے بھی مجھے یہی دعوت دی تھی اور میں نے اسے بھی انکار کر دیا تھا ۔“
”کیا آپ مجھے بیٹھنے کی اجاز ت دیں گے ۔“بیٹھنے سے پہلے پاشا نے ایک مرتبہ پھر کاشف دادا سے اجازت طلب کی ۔
کاشف نے کہا ۔”تم میری اجازت کے بغیر بھی بیٹھ سکتے تھے ۔بہ ہر حال عزت افزائی کا شکریہ ۔پلیز تشریف رکھیں ۔“
”پاشا سربراہی کی کرسی پر نشست سنبھالتا ہوا بولا ۔”ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آگیا ،شاید آپ لوگوں نے پہلے بھی سنا ہو کہ ایک شخص اپنے بوڑھے باپ سے جان چھڑانے کے لیے اس کے گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر پہاڑ پر لے گیا ۔اور جب وہ باپ کو نیچے پھینکنے لگا تو اس ساتھ موجود بیٹے نے کہا۔”ابوجان رسی دادا کے ساتھ نیچے نہ پھینک دینا۔“
باپ نے پوچھا۔” کیوں بیٹا ۔“
تو کہا ۔”جب آپ بوڑھے ہو جائیں گے تو میں بغیر رسی کے آپ کو یہاں تک کیسے گھسیٹ کر لاﺅں گا ۔“
”پتا نہیں اس وقت یہ واقعہ میرے دماغ میں کیوں در آیا ۔خیر میں کہنے لگا تھا کہ کبیر دادا کا قاتل یا وہ لوگ جو اس کے قتل کی سازش میں شریک تھے میں انھیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔باقی چند دن پہلے کبیر دادا نے اس کرسی پر بیٹھ کر کچھ باتیں کی تھیں ۔وہ سب کو یاد ہو ں گی اس لیے میں دہرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔بس وہ احکامات اسی طرح جاری رہیں گے ۔ اور سب سے آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کبیر دادا کی بیوی کو میں چھوٹی بہن نہیں سمجھتا بلکہ وہ حقیقت ہی میں میری چھوٹی بہن ہے ۔اگر اس کے خلاف کسی کے گندے دماغ میں کوئی غلیظ خیال رینگا ، یقین مانو اس کا انجام بہت بھیانک ہوگا ۔میں صرف متعلقہ شخص کو نہیں اس کے پورے خاندان کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا مع دودھ پیتے بچوں کے ۔یہ میرا آخری اور واضح پیغام ہے ۔اور یقینا عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے ۔میری باتوں سے اختلاف رکھنے والا اپنی رائے پیش کر سکتا ہے ۔“
کسی نے بھی زبان کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی
۔
دو تین لمحے انتظار کے بعد پاشا نے کہا ۔”تو، بیٹھک ختم ہوئی ۔“
سارے ایک ایک کر کے وہاں سے رخصت ہونے لگے ۔صرف کاشف راجپوت وہیں بیٹھا رہا ۔تمام کے باہر جاتے ہی وہ پاشا کو مخاطب ہوا ۔
”پاشا ،تم نے اچھا نہیں کیا ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو دادا ،کبیردادا کو وداع کرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا ،لیکن کیا کرتا میں مجبور ہو گیا تھا ۔میرے پاس چناﺅ کا اختیار ہی نہیں رہا تھا ۔“
کاشف نے تشویش بھرے لہجے میں کہا ۔”جانتے ہو اب تم کتنے کمزور ہو گئے ہو ۔“
”آپ کی موجودی کے سہارے نے مجھے حوصلہ دیا ورنہ میں اتنی ہمت نہ کر پاتا ۔“
کاشف راجپوت چند لمحے اسے گھورتا رہا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا ۔ ”ہوشیار رہنا ،کچھ لوگوں کو تم بہت زیادہ کھٹک رہے ہو ۔“یہ کہتے ہی وہ چل پڑا ۔اس نے پاشا کا جواب سننے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
٭٭٭
[videojs_video url=”https://s1-hls1-cdn39.cloudlionscdn.com/hls/eZk1UrBNAO0Cmxp9RTHVIsWNUqkRGl/index_854x480.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]
EPISODE 18 URDU SOURCE 1
EPISODE 18 URDU SOURCE 2
EPISODE 18 URDU SOURCE 3
EPISODE 18 URDU SOURCE 4
Kizil Goncalar – Red Roses – Season 1 Episode 18 With Urdu Subtitles