EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 34 Urdu Subtitles

وہ 22 سالہ ایک لڑکی ہے جس نے اپنی پڑھائی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سیکھے تھے اور چھوٹی عمر میں قرآن بھی پڑھ لیا تھا پھر کچھ عرصے کے لیے عالمہ کا کورس کر کے مزید دیگر کورسز کرنے لگی۔ اسی طرح تین کورسز کر لیے۔ وہ پڑھائی میں ہمیشہ اچھی رہی اوّل آنا اور اوّل رہنا۔ اس کے شوق میں اوّلین تھا۔ اماں جان کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے پر اس نے خود کے بارے میں کبھی سوچا نہیں تھا یا کبھی اسے سوچنے نہیں دیا گیا تھا۔
اسے جب بھی اساتذہ نے کہا کہ گول (Aim) سیٹ کرو اس نے نہیں کیا کیونکہ اسے اماں جان کے خواب کے ساتھ چلنا تھا۔
وہ ان کی ہر بات مانتی تھی کھانا پینا پہننا اوڑھنا آنا جانا ہر چیز شاید اس لیے کہ وہ ہی ان کی اکلوتی بیٹی اور امید تھی۔ پھر بھی وہ ان کے ساتھ تلخ ہو جایا کرتی تھی۔ گزرتے وقت نے اور آتے جاتے انسانوں میں اس کے اندر یہ کرواہٹ ڈالی تھی۔ لوگوں سے اسے اتنا آزمایا گیا کہ وہ سب پر شک کرنے لگی۔
اس کا نظریہ محظ دو منٹ میں بدل جایا کرتا تھا۔ وہ کبھی تو سب سے بہت پیار کرتی، رحم دل ہوتی، احساس کرتی مگر ایک غلطی صرف ایک غلطی اسے ان سب چیزوں سے دور کرتی تھی اور انسان اس کے دل سے اتر جایا کرتا تھا۔ اس کے دل میں جو بس گیا تھا وہ تھا کڑواپن اور اب ایسٹرالوجی کو سن سن کر اس نے یقین کر لیا تھا کہ وہ ایک سرطان ہے۔ برج سرطان جن پر چاند حکومت کرتا ہے اکثر اس پہ ان کیکڑوں کی ڈارک سائیڈ نمایا ہو جایا کرتی تھی۔ اسے لگتا تھا اس کے دو روپ زیادہ ایاں ہیں یا تو وہ صرف اچھی ہوتی ہے یا صرف بری۔ منافق نہیں ہوتی۔ اس کے لیے اِن بٹوین جیسا کچھ نہیں یا تو آپ پورے اس کے ہیں یا انجان ہیں بالکل۔
اب اس کے انٹرمیڈیٹ کے رزلٹ کا دن تھا۔ سارا دن وہ انتظار کرتی رہی کہ رزلٹ کب آئے گا۔ اس دن رزلٹ لیٹ ہو گیا حالانکہ ہمیشہ صبح 10 بجے بی ائی ایس ای (BISE) لاہور والے رزلٹ پوسٹ کر دیا کرتے تھے۔
وہ گل چچی کے کمرے میں بیٹھی تھی۔ ان کی بیٹی کو گودھ میں لیے مسلسل الگ الگ چیٹ باکس کھول کر میسجز ٹائپ کرتی اور سینڈ کرتی۔ جوابی آڈیوز اور میسجز اسے موصول ہوتے۔ وہ ایک ایک کر کے سب کو سن رہی تھی وہ اس کے کالج کی سہیلیاں تھیں۔ جو رزلٹ کی باتیں کر رہی تھی کیونکہ وہ کرونا کے سٹوڈنٹ تھے اور پارٹ ون میں انہیں بغیر امتحانوں کے پاس کر دیا گیا تھا۔ سو ان کی خواہش تھی یا کہہ لیں کہ امید تھی کہ پارٹ ٹو کے امتحانوں سے بھی انہیں گزرنا نہیں پڑے گا۔
ایسا نہ ہوا۔ بہت بے دلی سے اس نے وہ تین پرچے دیے تھے۔ جن کا دارومدار اس کی پوری ایف ایس سی پری میڈیکل کے رزلٹ پر تھا لیکن وہ تو جیسے بی ائی ایس ای لاہور پر احسان کرنے گئی تھی۔
امتحان دے کر آخر کار رزلٹ آگیا اور وہ شرمندگی اور افسوس میں ڈوب گئی۔
789 جو کہ اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچے تھے اسے لگا تھا وہ ہزار تو بہت آرام سے کراس کر جائے گی اور یہ کیا ہوا تھا یہاں تو تختہ ہی الٹ گیا تھا۔ حیات کانپ رہی تھی پھر سے سب کو مسجز کرنے لگی کہ کہیں غلط رزلٹ تو نہیں آگیا مگر نہیں۔۔۔قسمت کو یہی منظور تھا چونکہ وہ دعا کرتی تھی کہ یا رب جتنی میں نے محنت کی ہے اتنا مجھے پھل دینا۔ اللہ کی رحمت اور نعمتیں تو بے تحاشہ ہیں تو انسان اتنا بے
فیض کیوں ہے کہ وہ خدا سے محدود دعائیں کرتا ہے اور محدود نعمتوں کا خواہش مند ہے۔ خدا نے بھی اسے بس اتنا ہی نوازا جتنی تھوڑی اس نے محنت کی تھی۔ گھر میں قہرام مچ گیا۔ ایسا لگا جیسے وہ فیل ہو گئی ہو۔ ہر شخص نے عجیب فلسفے پیش کیے
۔ کوئی اس کے ساتھ نہیں تھا وہ سب برداشت کرتی گئی۔ شاید آنسو روکنے سے یا درد چھپانے سے ہی وہ مضبوط بن گئی تھی یا زہریلی۔ اس نے کئی روز برداشت کیا۔

Episode 34 Urdu source 1

Episode 34 Urdu source 2

Episode 34 Urdu source 3

Episode 34 Urdu source 4

Episode 34 Urdu source 5

Episode 34 Urdu source 6

EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 34 Urdu Subtitles