EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 32 Urdu Sub by Urdu Bolo
رومان شاہ” کی محبت میں نرمی نہیں، بلکہ مضبوطی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا ” زندگی کے کسی بھی میدان میں کمزور نہ پڑے ، بلکہ ہمیشہ ایک فاتح کی طرح کھڑار ہے۔ یہی “رومان شاہ ” کی اصل محبت تھی محبت جس میں مقابل کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔
بڑے سے کیک کو کاٹتے ہوئے، پورے “شاہ ولا” میں جشن کا سماں تھا۔ روشنیوں میں نہائے ہال کے بیچوں بیچ ایک شاندار ، تین سٹیپس کیک رکھا تھا، جس پر “رائم شاہ” کا نام خوبصورت الفاظ میں لکھا گیا تھا۔ جیسے ہی کیک کاٹنے کا وقت آیا، “رومان شاہ” اور “شاہ میر ” اپنے لاڈلے ” رائم شاہ” کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ “رائم شاہ” نے چاقو پکڑا اور جیسے ہی اس نے کیک پر پہلا کٹ لگایا، پور اہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
خواتین کا انتظام علیحدہ تھا، مگر سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔ “رومان شاہ” کی اپنی سوچ اور اصول تھے ، اسی لیے مہمان خواتین اور مردوں کے ایریا کے بیچ میں ایک پردہ تھا مگر یہ پردہ محض حدود کی علامت تھا، کیونکہ خواتین اس خوبصورت منظر کو بخوبی دیکھ رہی تھیں۔ جیسے ہی کیک مکمل طور پر کاٹ دیا گیا، خوشیوں کے رنگ مزید گہرے ہو گئے۔
رائم” نے سب سے پہلے اپنے بابا کو کیک کھلایا۔ “رومان شاہ” نے بیٹے کی محبت کو ” محسوس کیا اور مسکراتے ہوئے کیک کا نوالہ منہ میں ڈال لیا۔ پھر ماموں ” شاہ میر ” کی باری آئی، جو ہمیشہ اس کے قریب رہا تھا۔ اس کے بعد ، ” رائم ” نے اپنے بابا کے قریبی دوستوں کو کیک کھلایا، جنہوں نے ہمیشہ اسے چچا کی طرح چاہا تھا۔
پورا بچپن ان ہی ہاتھوں میں گزرا تھا، اور آج بھی وہ سب اس کے لیے اتنے ہی عزیز تھے۔ ہال میں خوشی کی تالیوں کی گونج تھی، چہروں پر مسکراہٹیں تھیں ، اور ہر آنکھ میں محبت جھلک رہی تھی۔ اسی خوشی میں ، “رومان شاہ” نے بے اختیار اپنے بیٹے کے ماتھے پر بوسہ دے دیا۔ باپ کے لیے بیٹے کو سینے سے لگانے کا جو احساس ہوتا ہے۔۔
وہ کسی بھی خوشی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہی نشہ اس لمحے “رومان شاہ ” کو اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایک باپ کے دل میں اٹھنے والی محبت کی لہریں، جن کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ دوسری طرف، “میرب” پردے کی اوٹ سے یہ منظر دیکھ رہی تھی، اور خوشی سے اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔
یہ وہ لمحہ تھا، جو کسی ماں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی مسرت ہوتا ہے اپنے بیٹے کو اتنی محبتوں میں گھر اہواد یکھنا۔ “رومان شاہ” کی ایک نظر جیسے ہی اپنی جان اپنی “میرب ” پر پڑی، وہ بے اختیار مسکرادیا۔ ایک ایسی مسکراہٹ، جو محبت اور تشکر کے بے شمار جذبات سموئے ہوئے تھی۔
تقریب ختم ہوتے ہی سب مہمان رخصت ہو چکے تھے۔ پورا “شاہ ولا ” روشنیوں میں نہایا ہوا تھا، مگر اندر ایک گہر اسکون اتر چکا تھا۔ بچے تھکن سے نڈھال ہو کر اپنے کمروں میں جاچکے تھے۔ “میرب ” ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھی، ہاتھوں سے چوڑیاں اتار کر آہستہ سے میز پر رکھ رہی تھی۔ اسی لمحے ، “رومان شاہ” نے پیچھے سے آ کر “میرب” کی پشت پر اپنی کمر لگائی، اور آئینے میں اس کا عکس دیکھ کر مسکرادیا۔
کیا سوچ رہی ہے ، میری جان ؟” اس نے نرم لہجے میں سرگوشی کی اور ساتھ ہی محبت سے اس کے گال پر ہلکی سی چین بھری چین چھوڑ دی۔
میرب” نے مسکرا کر آئینے میں اس کی آنکھوں میں جھانکا اور دھیمے لہجے میں بولی ” سوچ رہی ہوں کہ اللہ کا شکر ہے ، ہزاروں مصیبتوں سے گزرنے کے باوجود ہم آج ” ” بھی خوش ہیں، ایک ساتھ ہیں۔ بس اسی پر اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی۔
رومان شاہ نے محبت بھری نظروں سے “میرب” کی آنکھوں میں جھانکا اور ” گہری سنجیدگی سے بولا بے شک اللہ نے اپنی رحمتوں سے نوازا ہے اور مشکلوں سے نکالا ہے۔ چلو ، اسی شکر ” ” کو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر ادا کرتے ہیں۔
یہ کہہ کر اس نے ” میرب” کا ہاتھ تھاما، وضو کیا ، اور دونوں جائے نماز پر کھڑے ہو گئے۔ پہلے عشاء کی نماز ادا کی ، پھر اللہ کے حضور نوافل میں جھک گئے۔ نماز کے بعد ، دونوں نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے۔ یہ ہاتھ صرف دعا کے لیے نہیں اٹھے تھے ، بلکہ ان لمحوں کی گواہی کے لیے بھی تھے وہ لمحے جب زندگی نے امتحان لیا، قسمت نے آزمایا، مگر محبت ہمیشہ فتح یاب رہی۔
رومان شاہ” اور “میرب” نے ایک دوسرے کے چہروں کو محبت سے دیکھا، جیسے ” کہنے جارہے ہوں
” ہم نے دنیا سے نہیں، اللہ سے محبت مانگی تھی، اور وہی ہمیں مل گئی۔”
سجدے کی وہ خوشبو ،
محبت کی وہ روشنی، اور دلوں میں شکر گزاری کا وہ احساس یہی تھا ان کی کہانی کا اصل اختتام۔
Episode 32 Urdu source 1
Episode 32 Urdu source 2
Episode 32 Urdu source 3
Episode 32 Urdu source 4
Episode 32 Urdu source 5
Episode 32 Urdu source 6
EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 32 Urdu Sub by Urdu Bolo