EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 29 Urdu Sub by Urdu Bolo

رومان شاہ” نے سخت لہجے سے کہا تو ” شاہ میر ” تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا وہاں سے اپنے ” روم کی جانب چلا گیا۔
رومان شاه ” غصے میں یہ سب بول تو گیا تھا مگر اسے بھی دکھ تھا کہ اس نے اپنی بہن ” کے دل کو بہت بری طرح سے دکھایا ہے مگر پھر یہ سوچ کر اطمینان میں ہو گیا کہ یہ سب کچھ اس نے اس کی بہتری کے لیے کیا ہے۔\
اسے یہ بھی احساس ہوا تھا کہ اس نے بچوں کے سامنے “مر حا” کو ڈانٹ کر غلط کیا ہے مگر “رومان شاہ” تھا جب وہ غصے میں ہوتا تو کبھی کبھی اس کا غصہ آؤٹ آف کنٹرول بھی ہو جایا کرتا تھا اور غصے میں وہ اکثر دل توڑنے والے فیصلے بھی کر جایا کرتا تھا مگر اس کے فیصلے ہمیشہ ایمانداری اور انصاف پر مبنی ہوتے تھے۔
اب اگر اس نے ” مرحا ” کا دل توڑا تھا تو مر ہم بھی وہ خود ہی بنے گا یہ بات وہ جانتا تھا۔ کتنا پیارا بھائی تھا اپنی بہن کا گھر بچانے کی خاطر خود کو کچھ لمحوں کے لیے اپنی بہن کی نظروں میں غلط ثابت کر والیا تھا۔ اب ایک غلطی اس نے اور کی تھی کہ بچوں کے سامنے “مرحا” کو ڈانٹ دیا تھا گھر کا ماحول تھوڑا سا ایسیٹ ہو گیا تھا مگر اپنی غلطی کا ازالہ کرتے ہوئے “رومان شاہ” نے سب بچوں کو اپنے پاس بلایا۔
” ادھر آئے اور بتائیے آج آپ لوگوں کو کیا کھانا ہے ؟”
” آج آپ کے پاپا اور آپ کے ماموں اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے کھانا بنائیں گے۔”
” اچھا آپ کو کھانا بنانا آتا ہے ؟”
میرب ” جو کب سے حیران اور پریشان کھڑی تھی، بے اختیار اس کے منہ سے یہ ” سوال نکلا تھا۔ اب شاید ہوش کی دنیا میں آچکی تھی کیونکہ کچھ دیر پہلے ” رومان شاہ” نے جس انداز سے اپنی لاڈلی بہن کو ریفریش کیا تھا۔ اس کو ڈر لگ رہا تھا کہیں اگلا نمبر اس کا نہ ہو۔
شاہ” کی لاڈلی جان کو ہمیشہ “رومان شاہ” کے غصے سے ڈر لگتا تھا اور اسے ایک سال ” بعد بھی اسے “شاہ” سے اتنا ہی ڈر لگ رہا تھا مگر یہ صرف تب ہوتا تھا، جب “رومان شاہ” کی انکھوں میں غصہ دکھائی دیتا تھا۔ اس کے اچانک سوال پر ” شاہ” کے لب مسکرادیے تھے۔ ” نہیں کھانا تو نہیں بنانا آتا مگر تم ہو نا میری ہیلپ کر کرنے کے لیے۔”
شاہ” نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کے ماں باپ سے نظر بچھا کر “
“میرب” کو آنکھ دبا کر شرم سے لال ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔
میرب ” اپنے “شاہ” کی حرکت پر شرما گئی تھی مگر اس کے لبوں پر مسکراہٹ بھی ” آئی تھی۔
اس کے دل نے دل سے خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ اس کی قسمت میں ایک بار پھر سے اس کے “رومان شاہ” کی محبت آگئی تھی۔
ماموں آپ ہمارے لیے پاستہ بنائیں، ہم پاستہ کھائیں گے۔”
عبداللہ ” اور “عبدالرحمن ” نے اپنی فیورٹ ڈش چہکتے ہوئے بتائی تھی۔ “
وہ بہت پر جوش تھے اپنے ماموں کے ہاتھ کا پاستہ کھانے کے لیے جو کہ ان کے ماموں کو بالکل بھی بنانا نہیں آتا تھا۔
رومان شاہ” کو چائنیز کھانوں کے بارے میں تو بالکل کچھ سمجھ نہیں آتی تھی ، نہ وہ ” کھاتا تھا، نہ بناتا تھا مگر اب وعدہ کر لیا تھا تو پورا تو کرنا تھا۔ ” اور آپ دونوں کو کیا کھانا ہے ؟”
شاہ” نے اپنے دونوں بچوں سے پوچھا۔ “
” بابا میں بھی پاستہ کھاؤں گی۔”
آیت ” نے “شاہ” کی مشکل کو اپنی طرف سے آسان کیا تھا مگر اس بیچاری کو کیا پتہ ” اس کے پاپا کو بنانا ہی نہیں آتا۔
او کے جی اور میر الاڈلا بیٹا کیا کھائے گا ؟” اب کی بار “رائم ” سے پوچھا گیا تھا۔
” مجھے کچھ نہیں کھانا، مجھے بس آپ چاہیے ، ہمیشہ کے لیے۔”
وہ بھاگ کر اپنے بابا کے سینے سے لگ گیا تھا۔
میرے شیر میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ، تمہارے پاس رہوں گا۔”
اس ڈر کو اپنی زندگی سے نکال دو، بابا کو بہت تکلیف ہوتی ہے جب آپ لوگ پریشان ” ” ہوتے ہو۔ ” وعدہ کرو کہ آج کے بعد اپنے چہرے پر یہ ڈر یہ پریشانی نہیں لاؤ گے ۔ ” رومان شاہ” نے اپنے بیٹے کو سینے میں جکڑتے ہوئے وعدہ لیا تھا۔ “
” جی بابا میں کبھی بھی نہیں ڈروں گا کیونکہ اب میرے بابا آ چکے ہیں۔” وہ مسکراتے ہوئے اپنے بابا کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر اپنی مضبوطی دکھا رہا تھا۔
“گڈویری گڈ۔”
اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے “شاہ” نے اسکے بالوں کو بے ترتیب کر دیا تھا۔
” جی آپ لوگ بھی بتائیں آپ کیا کھائیں گے ؟”
رومان شاہ” نے مسکرا کر “میرب” کے ماں باپ سے پوچھا تھا، جو صوفے پر بیٹھے ” ہوئے شفقت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کہ ان کے گھر کی خوشیاں لوٹ آئی ہیں۔
“بھئی ہم بھی پاستہ کھالیں گے ، آپ بنائیں تو سہی۔” میرب” کے بابا جو کہ جانتے تھے کہ “رومان شاہ” کو پہلی بات تو یہ کہ کھانا بنانا ہی ” نہیں آتا اور دوسری بات یہ کہ چائنیز کے بارے میں تو اسے کچھ بھی نہیں پتہ کیونکہ نہ وہ کھاتا تھا اور نہ ہی اسے بنانا آتا تھا۔ اس لیے ” میرب” کے بابا ہنستے ہوئے پاستے کی فرمائش کر چکے تھے۔
کیوں آپ لوگ کیوں میرے بیٹے کو تنگ کر رہے ہو ، جب آپ لوگ جانتے ہو کہ ” اسے چائنیز نہیں بنانا آتا، تو مت تنگ کر و باہر سے منگوالو۔ مرحا” کی ماما مسکرا کر اپنے بیٹے جیسے داماد کی طرف داری کر رہی تھی۔”
نہیں میں پاستہ ضرور بناؤں گا اور پاستہ بنانے میں میری ہیلپ کرے گی آپ کی ” ” پیاری بیٹی۔
رومان شاہ” نے “میرب” کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “
” میں کوئی ہیلپ نہیں کروں گی ، آپ نے وعدہ کیا ہے خود ہی بنائیں۔” میرب ” آہستہ سے منہ بسورتے ہوئے بولی۔ ” ” کیا کہا ؟”
رومان شاہ” نے آئی برواٹھا کر بالکل نارمل مگر دبے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا تھا۔ “
کچھ نہیں میں نے کہا چلیں میں ہیلپ کر دیتی ہوں۔” ہماری پیاری ” میرب” کی اتنے میں ہو ا ٹائٹ ہو گئی تھی۔
یہ اچھا ہے، وعدہ خود کیا ہے اور اب شامت میری آئے گی۔”
” مجھے اتنی ساری باتیں کرنی ہیں اور ان کو پاستہ بنانا ہے۔”
وہ منہ بسورتے ہوئے کچن کی جانب بڑھ گئی۔

Episode 29 Urdu source 1

Episode 29 Urdu source 2

Episode 29 Urdu source 3

EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 29 Urdu Sub by Urdu Bolo