EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 28 Urdu Sub by Urdu Bolo
میرب” کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیے ، اس کے اندر سکون ہی سکون تھا۔ ایسا” سکون جسے اس نے پچھلے ایک سال سے محسوس تک نہیں کیا تھا۔
میرب” دوائی کے زیر اثر گہری نیند میں تھی۔ “رومان شاہ ” اسکی خوشبو کو محسوس ” کرتے ہوئے، پوری ایمانداری سے ساتھ لیٹا ہوا صرف اس کی قربت کو محسوس کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ نیند کی دیوی اس پر مہربان ہونے لگی تھی۔ اس کی گردن میں چہرہ چھپائے، ” جانِ شاہ” کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیے نیند کی وادیوں میں گم ہوتا چلا گیا۔
آج رومان شاہ سکون سے سویا تھا کیونکہ اس کی دسترس میں اس جان تھی۔ ترس گیا تھا وہ ایسی پر سکون نیند کے لیے۔ اس کی جان ، اس کا عشق، اس کی محبت ، اس کے قریب تھی ، بے قراریوں کو سکون نصیب ہو چکا تھا۔
کیاد لکش منظر تھا ! ہوا میں محبت کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
ہر سو عشق کی روشنی پھیلنے لگی تھی۔
اگر عاشق ہو ، تو ” رومان شاہ” جیسا، اور اگر محبوبہ ہو ، تو “میرب” جیسی۔ ان کی محبت صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک مکمل داستان تھی، جس میں دلوں کی دھڑکنیں ایک ہی تال میں بجتی تھیں۔ ان کے مل جانے پر زمین و آسمان خوش تھے، چاند وستارے خوش تھے۔ خوشیاں فضاؤں میں رقص کر رہی تھیں۔
ایک شہزادہ، جو اپنی محبت کے لیے اپنے آپ کو ما یا جال سے کر لے آیا تھا۔
اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ دنیا ایک خوبصورت خواب میں بدل گئی ہو۔
اس وقت بے اختیار دل سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ ان کو کسی کی نظر نہ لگے ان کی خوشیاں ہمیشہ ان کی منتظر رہیں۔
میرب ” گہری نیند میں تھی، لیکن اس کے دماغ میں خیالات کا ہجوم جاری تھا۔ دوا” کے زیر اثر وہ سو تو رہی تھی، مگر اس کا دماغ جاگ رہا تھا۔ “رومان شاہ” کا آنا کبھی خواب محسوس ہو رہا تھا تو کبھی حقیقت۔ دوا کا اثر آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی قربت میں ایسے سوئے کہ دو پہر کے 12 بجے تک بیدار نہ ہوئے۔ کمرے میں ہلکی دھوپ پردوں سے جھانک رہی تھی، اور ہر چیز خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔
ان کی آنکھ شاید ابھی بھی نہ کھلتی، مگر بچوں کے دروازہ کھٹکھٹانے پر دونوں نیند سے جاگ گئے۔ بچوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ ان کا بابا واپس آچکا ہے ، اور ان کی خوشی کی کوئی انتہانہ تھی۔ دوسری طرف “عبد اللہ ” اور “عبدالرحمن ” “رومان شاہ” کے لاڈلے بھانجے ، بھی یہ جان کر بے حد خوش تھے کہ ان کے پیارے ماموں جان واپس آ چکے ہیں۔
بچوں کو روکنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو گیا تھا۔ وہ مسلسل دروازہ کھٹکھٹا کر انہیں جگا رہے تھے۔ “مرحا” “شاہ میر ” اور “میرب” کی ماما انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر بچے تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
” جانِ شاہ “، اجازت دیجیے ذرا، ہم اپنے بچوں سے مل لیں۔” رومان شاہ ” کی محبت بھری آواز نے “میرب ” کو پوری طرح نیند سے جگادیا۔ وہ ” ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول کر “رومان شاہ” کے چہرے کی جانب دیکھنے لگی۔ نیند میں کب وہ کروٹ لے کر اس کے سینے پر سر رکھے سو گئی، یہ اسے خود بھی یاد نہیں تھا۔
دونوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ نیند کے عالم میں وہ ایک دوسرے کی قربت کو کس طرح محسوس کرتے رہے تھے۔ اس وقت دونوں ایک دوسرے سے محبت کے حصار میں لیٹے ہوئے تھے۔ منظر بے حدد لکش اور سکون بھر اتھا۔
رومان شاہ ” کا دل تو چاہ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اپنی ” جانِ شاہ” سے دور ہو ، مگر ” مجبوری یہ تھی کہ ان کی لاڈلی اولاد باہر کھڑی منتظر تھی ، اور جانا ضروری تھا۔ دوسری طرف میرب ابھی تک حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں گم تھی۔
میری جان، پلیز مجھے اٹھنے دو کیونکہ تمہارے اتنا قریب ہو کر مجھ میں اتنی ہمت نہیں ” کہ میں دور ہو سکوں۔ پلیز ، اپنے “شاہ” پر رحم کھاؤ۔
رومان شاہ” نے مسکراتے لبوں سے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ” میرب” کی حیرت اور خوشی کو دیکھتے ہوئے، “رومان شاہ” نے اپنے بھاری ہاتھ ” سے نرمی سے اس کے مخملی گال کو سہلاتے ہوئے، محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” ! بابا، پلیز دروازہ کھولیں “
یہ ” رائم ” کی آواز تھی، جس میں اپنے بابا کو ملنے کی بہت تڑپ تھی۔ “میرب” رائم ” کی آواز سن کر ” رومان شاہ” سے دور تو ہو گئی، مگر اس کے چہرے پر حیرت زدہ تاثرات اب بھی برقرار تھے۔
رومان شاہ” مسکراتے ہوئے ، اسے دیکھتے ہوئے، بیڈ سے اترا اور روم کا دروازہ کھول “
دیا۔
دروازے کے باہر سب بچے کھڑے تھے۔ جیسے ہی ” رائم ” نے اپنے بابا کو دیکھا، وہ خوشی سے اچھل کر اس کے سینے سے جالگا۔ اس نے اپنے دونوں باز و اپنے بابا کی کمر کے گرد لپیٹ لیے اور ان سے چمٹ گیا۔ یہ لمحہ انتہائی خوبصورت اور جذباتی تھا۔ رومان شاہ” زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ” رائم ” کو اپنے سینے سے لگا کر ، اس ” کے معصوم اور افسردہ چہرے کو چومتے ہوئے ، باپ ہونے کے جذ باتوں کو سکون پہنچا رہا تھا۔
بہت تڑپا تھا ” رومان شاہ ” اس ایک سال میں اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے۔ مرد تھا اس لیے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔
بابا ، آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے ؟”
سب کہتے تھے آپ اللہ کے پاس چلے گئے ہیں اور سب کہتے تھے آپ کبھی واپس ” نہیں آئیں گے۔
اب آپ واپس آگئے ہیں۔ تھینک یو با باواپس آگئے۔۔۔ اب تو کہی نہیں جائیں گے ” نا؟”
رائم ” معصومی سے کے بعد ایک سوال کرتا جارہا تھا۔”
اس کے سوالوں میں وہ تڑپ تھی جو ایک بیٹے نے اپنے باپ سے دور رہ کر محسوس کی تھی۔ “رومان شاہ” نے پیار سے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اسکی اداس آنکھوں میں دیکھا۔ نہیں، میرا بچہ اب میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ میں ہمیشہ تم سب کے پاس رہوں گا، ” ” ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
شاہ” اپنی بانہوں کے گھیرے کو مزید تنگ کرتے ہوئے، اسے پیار سے گلے لگائے” ہوئے تھا۔
” ! ماموں، ہم نے بھی آپ کو بہت مس کیا، ہمیں بھی ملیں “
عبد اللہ ” اور “عبدالرحمن ” ” رائم ” کو پیچھے ہٹاتے ہوئے اپنے ماموں کے گلے ” سے لپٹ گئے تھے۔
” ! میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا، میری جان “
رومان شاہ نے اپنے بازو پھیلا کر دونوں بھانجوں کو گلے لگایا اور ان کے چہروں کو “
باری باری چومتے ہوئے مسکرادیا۔
ماموں ، اب آپ کہیں جائیں گے تو نہیں ؟”
عبد الله ” نے معصومیت سے سوال کیا۔ ” ” نہیں، میرا بچہ ، کبھی نہیں جاؤں گا۔ ہمیشہ تم سب کے ساتھ رہوں گا۔”
رومان شاہ” نے دونوں بھانجوں کے گال کھنچتے ہوئے محبت بھری مسکراہٹ کے ” ساتھ کہا۔
یہ منظر بہت ہی دلکش اور خوبصورت تھا۔ “میرب” دروازے کے قریب کھڑی تھی ، اور ٹکٹکی باندھے “شاہ” کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اب تک اپنی خوشی اور حیرت کے جذبات پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔
! بابا، میں نے بھی آپ کو مس کیا تھا “
یہ ” آیت ” کی آواز تھی، بڑی معصوم ، بڑی میٹھی اور بڑی پیاری۔
میرابچہ ، بابا نے بھی آپکو بہت مس کیا۔”
رومان شاہ” نے سب کو پیچھے ہٹاتے ہوئے، لائٹ پر پل فراک میں ملبوس، سیم لیگی ” پہنے اپنی پیاری بیٹی کی طرف دیکھا۔
رومان شاہ” نے اپنے بازو پھیلائے اور ” آیت ” کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگالیا، پھر ” پیار سے اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے باپ کا شفقت بھر المس محسوس کرایا۔
Episode 28 Urdu source 1
Episode 28 Urdu source 2
Episode 28 Urdu source 3
EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 28 Urdu Sub by Urdu Bolo