EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 27 Urdu Sub by Urdu Bolo

” اس لڑکی کا نام آپ کے لبوں سے کیوں نہیں جاتا؟”
” کیوں ایک سال گزر جانے کے بعد بھی آپ اسے بھول نہیں سکے ؟”
” کیوں ” شاه”، کیوں ؟”
ایشال” کے الفاظ درد اور بے بسی میں ڈوبے ہوئے تھے، جیسے اس کی روح خود سے ” یہ سوال کر رہی ہو۔
خوبصورت شہزادہ بے ہوشی کی دھند سے نکل کر ہوش کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا۔ اس کی پلکیں دھیرے دھیرے لرزنے لگیں، جیسے خواب اور حقیقت کے درمیان معلق ہوں۔ چہرے پر ہلکی سی داڑھی گہری ہو چکی تھی، مگر اس کی دلکش شخصیت آج بھی اتنی ہی مکمل تھی جتنی پہلے تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد ہلکے حلقے اور زرد چہرہ جدائی کی اذیت کی داستان سنارہا تھا۔
رومان شاہ” کی صحت اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ “میرب” کی جدائی نے اسے ” توڑ کر رکھ دیا تھا، جیسے اس کی روح کا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے کھو گیا ہو۔ وہ کھانے پینے سے لا پر وا ہو گیا تھا، کیونکہ اس کی دنیا ” میرب” کے بغیر خالی تھی۔ ایشال”، جو گزشتہ ایک سال سے اس کے قریب تھی، اسے اپنے قابو میں رکھنے کی ہر ” ممکن کوشش کر رہی تھی۔ جب وہ زیادہ ضد کرتا یا اپنی بکھری ہوئی یادوں میں کسی جواب کی تلاش میں بھٹکنے لگتا، تو اسے زبردستی نیند کا انجکشن دیا جاتا، تا کہ وہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی ، سکون میں آجائے لیکن اس کے چہرے کی بے بسی اور خاموشی ، اس کے اندر کی جنگ کو عیاں کر دیتی تھی۔
ہوش میں آتے ہی، اس نے ہمیشہ کی طرح قریب بیٹھی ہوئی ” ایشال” کے ہاتھ کو جھٹک دیا تھا۔ اسے یہ ہر گز منظور نہیں تھا کہ کوئی نامحرم اسے چھوئے۔ کتنا پاکیزہ اور مضبوط تھا یہ شخص ، جس نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ کرنا سیکھا ہی نہیں تھا۔ اس کی نظریں اور عمل دونوں گواہی دیتے تھے کہ “رومان شاہ” کے لیے عزت اور پاکیزگی محض الفاظ نہیں، بلکہ زندگی کا اصول تھے۔
” تم مجھے اس طرح قید کر کے نہیں رکھ سکتی ۔ “
وہ ہوش میں آتے ہی ٹوٹے ہوئے الفاظ میں بولا تھا۔ اس کی آواز میں بے بسی کے ساتھ ایک گہری تلخی جھلک رہی تھی۔
اس کی نظریں ” ایشال” پر جم گئیں ، اور ان میں نفرت کا ایک ایسا طوفان تھا جو ہر احساس کو روندھتا ہوا گزر رہا تھا۔
جانتی ہوں، بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ میں آپ کو قید نہیں کر سکتی، کیونکہ ” آزاد شیر کو کبھی کوئی قید نہیں کر سکتا۔
ایشال” کی آواز میں تلخی تھی، مگر اس کے اندر ایک درد چھپا ہوا تھا، جو الفاظ میں ” صاف جھلک رہا تھا۔
اگر آپ اس وقت میری قید میں ہیں، تو وہ صرف اس “میرب” کے لیے ، جس کا” نام آپ کی سانسوں میں بستا ہے۔
میرب” کا نام لیتے ہوئے ” ایشال” کی آواز کانپ گئی، جیسے کوئی نازک شے ٹوٹ ” کر بکھر رہی ہو۔
رومان شاہ” کی نظریں، جو نفرت اور بے بسی سے بھری ہوئی تھیں، ایک لمحے کو ” ٹھہر گئیں۔ ” ایشال” کے چہرے پر دکھ اور حسرت کے تاثرات ایسے نمایاں تھے جیسے وہ اپنے وجود کو مکمل طور اس شخص پر قربان کر چکی تھی۔ صرف اس شخص کی حفاظت کے لیے اس نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ جو اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔
اگر تم میرے جسم کے سو ٹکڑے بھی کر دو، تب بھی میرے دل سے “میرب” کی ” محبت کو نہیں نکال سکتی۔
اگر تمہیں لگتا ہے کہ اپنے اس مایا جال میں قید کر کے میری محبت کو ختم کر سکتی ہو ، تو ” یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے۔
رومان شاہ” کی آواز میں سختی اور نفرت تھی، اور اس کی آنکھوں میں خالص بے ” زاری جھلک رہی تھی۔
” ایشال” ہمیشہ سے میرب کا تھا، “میرب ” کا ہے، اور “میرب ” کا ہی رہے گا۔”
اگر میں مجبور ہو کر یہاں رہ رہا ہوں، تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تم اپنے نجاست ” بھرے وجود کو میرے قریب لا کر مجھے تمہیں قبول کرنے پر مجبور کر سکتی ہو۔
اس کے الفاظ چھری کی طرح کاٹ رہے تھے ، اور ” ایشال” کے چہرے پر ان کی شدت واضح تھی۔ “رومان شاہ” دوائیوں کی ہلکی غنودگی میں تھا، مگر اس کی نفرت کے جذبات مکمل ہوش میں نظر آرہے تھے۔ وہ بیڈ پر اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اس کا کمزور جسم ساتھ دینے سے انکاری تھا۔ پھر بھی ، اس کی ضد اور اصول پسندی اسے تھامے ہوئے تھی، جیسے کسی جنگ میں اپنی شکست ماننے سے انکار کر رہا ہو۔
شاہ” میں تو آپ کے قدموں کی دھول بن کر رہنا چاہتی ہوں۔ میں تو آپ کی ” خدمت گزار آپ کی کنیز بن کر رہنے کو تیار ہوں۔
صرف ایک چیز ہے جو ہمارے در میان خلش پیدا کرتی ہے۔ اگر وہ نکل جائے، تو ” ہمارے درمیان کوئی بھی فاصلہ نہیں ہو گا۔
” ” آپ جیسا چاہیں گے ، میں ویسی بن جاؤں گی، جو کہیں گے میں وہی کروں گی۔” میں آپ کے بچوں کو بھی اپنے سینے سے لگا کر رکھوں گی۔ ان کو کوئی نقصان نہیں ” پہنچاؤں گی یہ میر اوعدہ ہے آپ سے۔
صرف اس ایک چیز کو چھوڑ دیں، میں آپ کی پوری زندگی کو خوشیوں سے بھر دوں ” گی۔ آپ کو اتنی محبت دوں گی کہ آپ اسے بھول جائیں گے۔ ” ایک بار کوشش تو کیجئے۔” اس نے بے قراری سے تھوڑا سا خود کو “شاہ” کے قریب کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کو تھامنے کی کوشش کی مگر ” شاہ” نے غصے اور نفرت سے بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے ، ” ایشال” کے ہاتھ کو بے رحمی سے جھٹک دیا۔
اگر اس وقت “رومان شاہ” کا بس چلتا، تو وہ فوراً اس لڑکی کو ختم کر دیتا، مگر وہ جانتا تھا کہ “میرب” اور بچے اس کی قید میں ہیں مگر حقیقت میں، بچوں کو ” شاہ میر ” نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔ ایک سال پہلے جب “رومان شاہ” پر قاتلانہ حملہ ہوا، “سلطان” کے آدمیوں کا مقصد اسے ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے مٹا دینا تھا۔
سلطان ” کا حکم تھا کہ “رومان شاہ” کو ختم کر کے اس کی بیوی کو اپنی حراست میں ” لے لیں مگر ” سلطان ” اس میں کامیاب نہیں ہو ہو سکا تھا۔
جب “سلطان” کے آدمیوں نے “رومان شاہ” کو پوری طرح سے گھیر لیا تھا، ” ایشال” نے وقت پر اپنے آدمیوں کو بھیجا اور “رومان شاہ” کو بچالیا۔ اسے “سلطان” کے ارادوں کے بارے میں سب خبر ہو چکی تھی وہ “رومان شاہ ” کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ ایشال” کے آدمیوں نے “شاہ” کو خون میں لت پت حالت میں اٹھایا اور اپنی ” گاڑی میں ڈال کر شہر سے دور ایک خفیہ جزیرے پر لے گئے، جہاں اس کی زندگی بچائی جاسکتی تھی۔
ایشال” نے خود کو “سلطان” کا مجرم بنالیا تھا، وہ جانتی تھی کہ “سلطان” جب بھی ” اس تک پہنچے گا اسے زندہ نہیں چھوڑے گا مگر کہتے ہیں کہ عشق کسی سے نہیں ڈرتا یہی حالت ” ایشال” کی تھی۔
شاہ” کو چار گولیاں لگی تھیں جن کی وجہ سے “شاہ” کی حالت بہت خراب تھی۔”
شاہ” کو ہوش میں آتے اور ٹھیک ہوتے ہوتے کچھ مہینے گزر گئے جو کہ بہت تکلیف ” وہ مرحلہ تھا، ڈاکٹر کوئی بھی اچھی خبر نہیں دیتے تھے۔ “ایشال” نے اپنی زندگی کی جمع پونجی ” رومان شاہ” کی زندگی بچانے میں لگادی تھی۔
اپنی طرف سے وہ جتنے اچھے ڈاکٹر ہائر کر سکتی تھی اس نے کر رکھے تھے۔ “رومان شاہ” کی حفاظت کے لیے جو کر سکتی تھی اس نے وہ بھی کر رکھا تھا۔ آخر آہستہ آہستہ “رومان شاہ” کی حالت میں سدھار آنے لگا مگر سدھار آنے کے ساتھ ساتھ “رومان شاہ” بے قابو ہونے لگا تھا، وہ ہر وقت یہاں سے جانے کو بے قرار تھا۔
ایشال” کسی بھی صورت “رومان شاہ” کو کھونا نہیں چاہتی تھی اور “رومان شاہ ” ” کو روکنے کے لیے اسکے پاس سوائے جھوٹ کے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ باخوبی جانتی تھی کہ “رومان شاہ” کو قید کرنا اتنی آسان بات نہیں تھی۔
اس نے ہوش میں آتے ہی ” ایشال” کے آدمیوں کو مار نا شروع کر دیا تھا۔ ایشال” کے لیے حالات بہت مشکل ہو گئے تھے وہ کسی بھی صورت ” شاہ ” کو کھونا” نہیں چاہتی تھی۔ اس نے بے چارگی اور اضطراب کے عالم میں ایک بہت بڑا جھوٹ بول دیا۔
اس نے کہا ” شاہ “اگر تم یہاں سے بھاگنے کی کوشش کرو گے تو میں “میرب” کو مار ڈالوں گی ۔ ” اس کے لفظوں میں اتنی سنجیدگی تھی کہ “رومان شاہ” کے پاس اس پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ جو حالات تھے اور جن حالات سے ” ایشال” “رومان شاہ” کو بچا کر لے آئی تھی ” رومان شاہ” کے لیے یہ یقین کرنے کو کافی تھا کہ ” ایشال” “میرب” اور بچوں کو بھی اپنی قید میں لے سکتی ہے۔
میرب” کو قید کر کے رکھنے اور “میرب” کو مارنے کی دھمکی دے کر وہ “رومان ” شاہ” کی آزادی کو قید کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بس یہی وہ چیز تھی جس نے اس پہاڑ جیسے شیر کو قید رہنے پر مجبور کر رکھا تھا۔
” مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے نہ تمہارے پیار کی۔” ” تم کیا مجھے پیار دو گی، تمہیں پیار کا مطلب پتہ ہے ؟”
تم کیا جانتی ہو کسی کو مجبور کرنا، کسی کو قید کرنا، اس کے قریب آنا، اس سب کو تم پیار ” کہتی ہو ؟
اگر تمہاری نظروں میں یہ پیار ہے ، تو لعنت ہے تم پر اور لعنت ہے تمہارے پیار پر ۔ ” رومان شاہ” نے یہ بات بڑے غصے اور بے بسی کے ساتھ کہی تھی۔” بے شک “رومان شاہ ” اس وقت مجبور ہو کر اس کی قید میں تھا، بے شک وہ دوائیوں کے زیر اثر تھا، مگر اس کے اندر کا بہادر ، نہ ڈرنے والا مرداب بھی پوری طرح سے قائم تھا۔
پیار اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔”
اگر تم میری محبت پر ایک سو ایک بار بھی لعنت بھیج دو، تب بھی میری محبت تمہارے ” ” لیے کبھی کم نہیں ہو گی، “رومان شاہ
تمہیں پانا، تمہیں حاصل کرنا، یہ میری زندگی کا واحد اور سب سے بڑا مقصد ہے۔” اس مقصد کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں، گر بھی سکتی ہوں، مر بھی سکتی ہوں، اور اگر ضرورت پڑی تو کسی کو بھی ختم کر سکتی ہوں۔
ایشال” کی آنکھوں میں “میرب” کے لیے نفرت کی شدت بڑھتے ہوئے اس ” کے چہرے پر ایک بے رحم عزم کی جھلک دکھائی دے رہی تھی، جیسے وہ اپنے ہر قدم میں ” رومان شاہ” کو حاصل کرنے کی تڑپ میں ڈوبی ہوئی “میرب” کی جان لینے کی دھمکی دے رہی ہو۔ اگر تم نے “میرب” کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں اپنے ہاتھوں سے ” ” تمہاری جان لے لوں گا۔
رومان شاہ” کی نظریں غصے کی شدت سے جل رہی تھیں ہر لفظ اس کے دل کے درد ” کو بیان کر رہا تھا۔
اس کی آواز میں ایسی جابرانہ قوت تھی کہ جیسے اس کے اندر کی تمام بے بسی اور غصہ اس لمحے میں پوری طرح سے نکل آیا ہو ۔ اس کی آخری حد ” میرب” کی حفاظت ہے ، اور اس حد کو پار کرنے کی کسی کی جرات نہیں تھی۔
” مجھے اپنا لیں، میں اس کو کچھ نہیں کروں گی، یہ وعدہ ہے۔”

 

Episode 27 Urdu source 1

Episode 27 Urdu source 2

Episode 27 Urdu source 3

EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 27 Urdu Sub by Urdu Bolo