EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 26 Urdu Sub by Urdu Bolo
یار! بہت دیر ہو گئی ہے، چلو کہیں کچھ کھانے چلتے ہیں۔ زُمر کی بات پر سب نے اتفاق کیا اور سب اب برنس روڈ کے لیے روانہ ہو گئے۔
شام کی ٹھنڈی ہوائیں دلوں کو پُرسکون کر رہی تھیں۔ سورج اپنی روشنی بانٹ کر اپنی منزل کی طرف رُخ کر چکا تھا۔ وہ سب اب کراچی کی ایک سب سے مشہور جگہ کے سامنے کھڑے تھے۔ جہاں سامنے وحید کباب ہاؤس نظر آ رہا تھا جو اپنے فرائی کباب کی وجہ سے خاص طور پر مشہور تھا، اور یہ جگہ برنس روڈ پر واقع تھی جو کراچی فوڈ اسٹریٹ کا دل کہلاتی ہے۔
چاروں نے اپنے اِردگرد ماحول کا جائزہ لیا جہاں باہر کھلی فضا میں چھوٹی چھوٹی میزیں اور کرسیوں کا انتظام تھا۔ ہر طرف دھواں، گرِل پر چلتے کبابوں کی خوشبو، شور اور ہنسی مذاق کی آواز ایک زندہ دِل اور مصروف ماحول کی گواہی دے رہی تھی۔
ہر طرف لذیذ کھانے ہی نظر آ رہے تھے۔ کہیں کباب، کہیں نہاری تو کہیں حلیم۔”
تنگ تنگ گلیاں ہونے کے باوجود روشنیوں اور ہلچل کی دھمک نے ماحول کو اور دلچسپ بنایا ہوا تھا۔ یار اب چلو بھی کچھ آرڈر کرو میرے منہ سے پانی آنے لگا ہے۔ زُمر نے معصوم سا منہ بناتے ہوئے کہا ہاں ہاں چلو۔ وہ لوگ اب سٹنگ ایریا میں اپنے آرڈر کا ویٹ کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کا آرڈر آ چکا تھا پھر کیا ہونا تھا بس سب بسم اللہ پڑھ کر کھانے پر ٹوٹ پڑے۔
یار ایک بات کہوں میرا پیٹ نہیں بھرا یہ آواز اِذہان کی تھی۔ سیم یار میرا بھی اب یہ آواز اسراء کی تھی اور میرا بھی اب کی بار آواز زُمر کی طرف سے آئی تھی۔ اب بچا کون۔ صرف عائشہ۔ تینوں نے عائشہ کی طرف دیکھا۔ ایسے کیا گھور رہے ہو تم لوگ۔ تم لوگوں کا نہیں بھرا تو میرا کیا بھرے گا۔ چلو کچھ اور کھاتے ہیں۔ ارے نیکی اور پوچھ پوچھ چلیں۔
اِذہان جلدی سے اپنی سِٹ کو الوداع کرتے ہوئے باہر جانے لگا۔ ایکسکیوز می مسٹر اِذہان ہم بھی ہیں یہاں۔ اوہ سوری میں بھوک میں ہوش کھو بیٹھا۔
آئیے آپ سب لیڈیز فرسٹ اس نے بڑے مودب انداز میں کہا۔ ہممم لیڈیز فرسٹ تبھی تمہیں پہلے جانے کی جلدی ہے نا اللہ انی کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ میں گھبرو جوان بقول اسراء آپی کے آپ مجھے ایسا کہیں گی۔ تمہیں نہیں پتا اسراء کی آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں تبھی ایسی بات کر دی ہو گی ورنہ مجھے یقین ہے وہ ایسی احمقانہ باتیں نہیں کر سکتیں ہے نا ؟عائشہ نے اسرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پر اسراء نے اِذہان کی طرف دیکھا تو اس کا قہقہہ نکل گیا کیونکہ اِذہان بیچارے والے تاثرات کے ساتھ اسراء کو دیکھ رہا تھا جیسے اسراء کی ایک گواہی سے وہ سو سال پرانا کیس جیت جائے گا۔
ارے نہیں ہمارا اِذہان واقعی ہینڈسم گھبرو جوان ہے۔ اسراء کا یہ کہنا ہی تھا کہ اِذہان کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک اٹھا۔ ہائے میری اسراء آپی تسی گریٹ ہو۔ دیکھا نا آنی مان لیں اب کہ میں ہینڈسم ہوں۔ بس اب یہی خوشی کے مارے بے ہوش نہ ہو جانا۔ بس آپ تو جلتی رہیں۔ ان کی نوک جھونک چل ہی رہی تھی کہ رینڈملی ایک اِنفلوئنسر ان کے سامنے آئی۔ السلام علیکم اگر آپ نے یہ پیزا پورے دو منٹ کے اندر کھا لیا تو ہم آپ کو پورے دو ہزار دیں گے۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ مگر اس سے پہلے کہ اسراء نہ کہتی عائشہ نے اس کی انگلی دباتے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ کیوں نہیں ہم کریں گے بلکہ ہم چاروں کریں گے آپ الگ الگ پیزا منگوا دیں۔ اوکے شور اس اِنفلوئنسر نے چار پیزا سامنے رکھے۔ ٹائمر شروع ہو چکا تھا مگر یہ کیا چاروں تو بڑے آرام سے پیزا کھا رہے تھے جیسے کوئی ٹائمر ہی نہ ہو۔ پر دو منٹ میں سب نے آدھا آدھا پیزا کھا ہی لیا تھا۔ اِنفلوئنسر میڈم تو سکتے میں آ رہی تھی کہ یہ ہوا کیا۔ اوہ ٹائمز اپ ہو گیا سوری ہم اتنا ہی کھا سکے۔ چاروں وہاں سے انتہائی معصومیت کے ساتھ اٹھتے ہوئے باہر نکل گئے۔ اب تقریباً ایک منٹ گزرنے کے بعد چاروں کا فلک شگاف قہقہہ گونجا۔ چاروں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ بیچاری تو صدمے میں آ گئی ہو گی۔ اسراء اپنا پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگی۔ یار عاشی تمہارے پاس یہ آئیڈیا آیا کیسے۔ فوراً زُمر نے ہنستے ہوئے عائشہ سے سوال کیا۔ یار دیکھو یہ لوگ آج کل ایسی جگہوں پر ہر کسی کو تنگ کرتے ہیں یہ کر لو وہ کر لو پیسے دیں گے۔ اب ہمیں تو ہمارا پیٹ بھرنا تھا بیچاری تو اللہ کی طرف سے ایک ذریعہ تھی۔ ویسے چس آ گئی آنی پیزا بڑا لذیذ تھا۔ اِزہان نے اپنی ہنسی کو بریک لگاتے ہوئے کہا چلو اب سب کچھ ہو گیا ہے تو گھر چلتے ہیں وقت ہو گیا ہے بہت۔ اتنی دیر باہر رہنا محفوظ نہیں ہے۔ آٹھ بجے گئے۔ چلو چلو جلدی۔ سب جلدی سے گھڑی کی طرف بڑھ گئے اور اپنی منزل کی راہ میں گامزن ہو گئے۔
السلام علیکم مما آگئی آپ؟ اسراء نے نادیہ بیگم کو سلام کرتے ہوئے ان کے کمرے میں داخل ہوئی۔
وعلیکم السلام۔
پورا دن عائشہ کے تھی، گھر کا کون دھیان رکھے گا یار مما؟ ایک تو آپ مجھے اکیلا چھوڑ گئی ہیں اور اوپر سے مجھے ڈانٹ رہی ہیں، آپ کو پتہ ہے تیز بارش میں ڈر لگتا ہے۔ اسراء نے ناراض سے انداز میں کہا۔
بیٹا یاد ہو تو بتا دوں کہ تم خود کہیں نہیں جاتی، تمہیں سو بار بھی بول دیا جائے تب بھی تمہیں اکیلے ہی رہنا ہوتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں باندھ کر ساتھ لے جاؤں؟ نادیہ بیگم نے غصے سے کہا تو اسراء سمجھ گئی کہ اگر اور ایک منٹ یہاں بیٹھی رہی تو پکا اس کی شامت آنے والی ہے۔
اچھا میں اپنے روم میں جا رہی ہوں، بہت تھک گئی ہوں، گڈ نائٹ۔ اسراء فوراً کمرے سے باہر نکل گئی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سکون کا سانس لیا اور شاور لینے کے لئے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بال سکھا رہی تھی۔ ہلکے گھنگریالے لمبے بال، حسین آنکھیں، وہ خوبصورت تھی۔ ہر دیکھنے والے کو وہ پہلی نظر میں بھا سکتی تھی۔ اس نے ہونٹوں پر لپ گلاس لگا کر خود کو ایک بار نظر بھر کے دیکھا اور پھر بیڈ پر بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگی۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے فون کی اسکرین پر جگمگاتا ہوا نام پڑھا تو اس کے چہرے کے تاثرات کچھ سخت ہوگئے۔ اسراء نے فون کو ایسے ہی رکھ دیا اور دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئی۔ مگر فون بار بار بجتا رہا۔ تقریباً چھ کالز آچکی تھیں۔ اب پانچ منٹ سے فون کی آواز آنا بھی بند ہوگئی تھی۔ اسراء نے اپنا فون اٹھایا تو اسی وقت دوبارہ وہی جگمگاتا ہوا نام اسکرین پر روشن ہوا۔
ہیلو؟ اسراء نے کال ریسیو کرتے ہی تلخ لہجے میں کہا۔
اتنی دیر سے کال کیوں نہیں ریسیو کر رہی تھیں؟
میں آرام کر رہی تھی۔
پر ابھی تو دس بجے ہیں، تم تو بہت دیر تک سوتی ہونا۔
اگلے کی اس بات پر پتہ نہیں کیوں اسراء کو غصہ آنے لگا۔
کب سوتی ہوں، کب نہیں، اس کا حساب لگانے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے۔
حساب نہیں لگا رہا میں اسراء، میں تو بس کہہ رہا ہوں کہ مجھے تمہاری یاد آرہی تھی تو سوچا کال کر لوں۔ تم خود تو کبھی کروگی نہیں۔ کبیـر کی آواز میں بہت نرمی تھی جو اسراء کے کانوں میں سیسہ گھول رہی تھی۔
مہربانی کر کے مجھے یاد نہ کیا کریں کیونکہ مجھے بالکل پسند نہیں کہ کوئی مجھے بے وقت کال کرے۔ میں کوئی نہیں ہوں۔
میں تمہارا فمنگیتر ہوں، ہونے والا شوہر ہوں تمہارا۔
اسراء تو جیسے ٹھٹھک گئی کبیـر کی زبان سے “شوہر” کا لفظ سن کر۔
شوہر؟ وہ نہیں جو میرا جینا حرام کر کے رکھیں گے آپ۔ اور یہ خوش فہمی اپنے دل سے نکال دیں کہ آپ میرے شوہر بنیں گے۔ میں ایسا کبھی ہونے نہیں دوں گی آپ کو۔ میں نے سو بار کہا ہے کہ مجھے آپ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے، پھر بھی آپ کو سمجھ نہیں آتی۔ آپ کے پاس عزتِ نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیا؟
اسراء کا لہجہ بے حد تکخ دار ہو چکا تھا۔
ہاں نہیں ہے میرے پاس عزتِ نفس، کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اور محبت اور عزتِ نفس میں سے میں نے محبت کا انتخاب کیا ہے۔ کیونکہ عزتِ نفس کو اگر آڑے لایا تو تم مجھ سے دور ہو جاؤ گی اور میں تم سے دوری برداشت نہیں کر سکتا۔ کبیـر کے لہجے میں نجانے کیوں اب بھی نرمی تھی۔
آپ لے آئیں عزتِ نفس آڑے، کیونکہ میری خوشی اسی میں ہے کہ آپ مجھ سے دور رہیں۔ آپ میرے سامنے ہوتے ہیں تو مجھے الجھن ہوتی ہے، دو منٹ نہیں برداشت آپ مجھے۔ اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں زندگی بھر آپ کو برداشت کروں گی؟ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کبیـر، ریکوئسٹ کر رہی ہوں، مجھ سے دور رہیں۔ ہو سکے تو اس منگنی سے بھی آزاد کر دیں۔ یہ جلدی کر دیں، یہ آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا مجھ پر۔
اس سے پہلے کہ کبیـر کچھ کہتا، وہ فون کاٹ چکی تھی۔ اور اگر کاٹتی بھی نہیں تو شاید کبیـر کچھ کہہ بھی نہیں پاتا، کیونکہ وہ ہمیشہ اس کو ایسے لفظ کہہ جاتی جو نشتر کی چبھن سے زیادہ تکلیف دہ ہوتے۔
اسراء اپنا فون بیڈ پر پٹختے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی۔ لیکن وہ شخص جو اس سے لگ بھگ چودہ سو کلو میٹر کی دوری پر بیٹھا تھا، اس کی تکلیف کا اندازہ بھی وہ نہیں لگا سکتی تھی۔ کبیـر اپنی سرخ آنکھوں کے ساتھ کھڑا تھا۔
Episode 26 Urdu source 1
Episode 26 Urdu source 2
Episode 26 Urdu source 3
EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 26 Urdu Sub by Urdu Bolo