EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 25 Urdu Sub by Urdu Bolo

رخسار میری جان۔۔۔! ایسی باتیں مت کرو کہ آپ کا بھاٸ کا دل تڑپے۔
ازہان نے اسے آج بھی پھر سے ٹالنا چاہا۔ لیکن رخسار کا ل پھر سے دکھا۔
آپ نے مجھے جواب نہیں نہ دیا۔ رخسار نے سر اٹھا کے پوچھا۔ ازہان نے اس کے ماتھےپے بوسہ دیا۔
وقت آنے پے بتا دوں گا۔ ابھی کچھ بھی ایسا مت سوچو۔۔ جس سے خود ک تکلیف پہنچے۔
ازہان کے دھیمے لہجے میں کہنے پے رخسار نے آنکھیں موند لیں۔ وہ اپنے بھاٸ کے لیے خود کو قربان کر چکی تھی۔ لیکن ۔۔ دل کے کسی ایک کونے میں وہ حارث شاہ آج بھی زندہ تھا۔
لیکن۔۔ اب۔۔ وہ اسے مار دینا چاہتی تھی۔ اس کا سوچنا بھی گناہ تھا۔ ہاں وہ اس کی زندگی میں آیا۔ ایک آندھی طوفان کی طرح۔ اور سب کچھ بہا کے لے گیا۔ کیا یہ سزا تھی۔۔؟؟
وہ ضمیر کی عدالت میں پہنچ گٸ۔
یا مکافاتِ عمل۔۔۔؟؟ اس کا دل لرزا تھا۔ اور ایک جھرجھری لی۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
امامہ اپنے کمرے کی بجاۓ باہر مہمانوں کی طرف آگٸ ۔ اس کا دل ابھی بھی دھڑک رہا تھا۔ اسے لگتا تھا ازہان نے سب سن لیا ہے۔ اور اب موقع دیکھ کے وہ ضرور اس سے سوال جواب کرے گا۔وہ ازحد پریشان ہوگٸ۔
سی گرین مکسی میں اس کی چھب ہی نرالی تھی۔
تقریباً سبھی ژاتین کی نظریں اس پے تھیں۔ وہجو آج حجاب میں تھی۔ لیکن بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کا حجاب اسے سب میں ہمیشہ الگ اور منفرد رکھتا تھا۔
فیروز کو مبارک باد دینے کے لیے وہ ایک طرف سے راہداری عبور کرتی نقاب میں گٸ۔ جہاں اس نے فیروز کو بلوا کے مبارک باد دی۔
تم خوش۔۔ ہو۔۔؟؟ ماٸ ورلڈ۔۔۔؟؟ فیروز نے اے اپنے ساتھ لگایا۔
معلوم نہیں۔۔ بھیا۔۔۔! لیکن اب ڈر لگتا ہے۔۔ کھونے سے۔۔۔! امامہ کے لہجے میں ایک درد چھپا تھا۔
کیسا ڈر۔۔؟ فیروز پریشان ہوا۔
اپنے مجازی خدا کو کھونے کا ڈر۔۔۔ امامہ نےصاف لفظوں میں فیروز سے کہہ دیا تو وہ بہت سنجیدہ ہوگیا۔
ایسا کببھی نہیں ہوگا۔۔ میرے جیتے جی تو نہیں۔۔۔ !
اللہ آپ کو ہماری زندگی بھی لگا دے بھیا۔۔۔ ایسی باتیں نہ کریں۔
امماہ نے تڑپ کے اس کے لبوں پے ہاتھ رکھا۔
ماٸ ورلڈ آپ کی خوشی فیروز حاکم کی خوی ہے۔ یا رکھنا۔۔ ایک آنسو نہنکلے آپ کی آنکھوں سے۔ ! فیروز نے اسے پیار سے گلے لگایا۔ تو وہ مسکا دی۔
لیکن ۔۔آپ کے بہت آنسو نکلنے والے ہیں۔۔ وہ آپ کی منکوحہ تو کیل مہاسوں سمیت پوری تیاری سےآنے والی ہے۔ امامہ نے مذاق میں کہا تو فیروز کے چہرے پےایک دلکش مسکراہٹ بکھری۔
مجھے بھی ایڈوینچر پسند ہیں۔ یو نو۔۔ می ویری ویل۔۔۔ ! فیروز نے ایک آنکھ ونک کی تو امامہ دھیما سا مسکراٸ۔ اور دل سے اپنے بھاٸ کی خوشیوں کی دعا مانگی۔
کچھ دیر تک وہ سب لوگ واپس چلے گۓ ۔
مہمان بھی جا چکے تھے۔ رقیہ پھوپھو نے رات وہیں رہنے کا پلان بنا لیا۔ زوبیہ بھی آچکی تھی۔ اب دونوں ماں بیٹی سر جوڑے کوٸ شیطانی کام کیپلاننگ کر رہی تھیں۔
امامہ اندر واپس آچکی تھی۔ فرحت بیگم کے پس جابیٹھی۔
ارے۔۔ بہو۔۔۔! بہت تھکن سی ہوگٸ ہے۔ زرا چاۓ تو پلا دو۔
رقیہ پھوپھو نے امامہ کو دیکھ اپنا گیم اسٹارٹ کیا۔
امامہ مسکراتے ہوۓ اٹھی۔
امامہ بیٹا۔۔! گل سے کہیں۔۔ وہ سب کے لیے بنا دے گی۔ فرحت بیگم نے امامہ کو اٹھ کے جاے ہوۓ ہدایت کی۔ تو وہ سر ثباتمیں ہلاتیچن میں گل سے چاٸے کا کہہ کے واپس مڑی کہ بیچ راستے میں ازہان خانزادہ نے اسے جا لیا ۔ امامہ سانس روکے اسے دیکھتی اپنی جگہ پے ٹھہر سی گٸ۔
اہان نے اسکی کلاٸ تھامی اور اپنے کمرے کی جانب لے کے بڑھا۔
امامہ کو سمجھ تو لگ گٸ تھی۔ لیکن اس کے پاس اپنی صفاٸ میں کہنے کے لیے کچھ نہ تھا۔
کوٸ بہانہ کوٸ دلیل۔۔۔؟؟ وہ ازحد پریشان ہوٸ۔
کمرےمیںسلےجا کے دروازہ لاک کرتا وہ امامہ کی جانب جارحانہ انداز مں دیکھتا پیش قدمی کرنے لگا۔
کیا کہہ رہی تھیں۔۔ میری بہن سے؟؟ بولو۔۔۔؟؟ اس کا اندز بہت سخت تھا۔
ہم۔۔۔ صرف۔ ۔۔ان کی باتوں کا جواب دے رہے تھے۔ امامہ منمناٸ۔
کونسی باتوں کا جواب دے رہی تھی ہاں۔۔؟ جس میں اسے معاف نہکعنے کے بارے میں بتایا جا رہا تا۔۔؟؟ بتاٶ مجھے۔۔۔! وہ جو قدم قدم بپیچھے ہٹتی دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔ ازہان کے غصہ سے گھبرا کے آنکھیں بند کر گٸ۔
مجھے جوواب چاہیے۔۔۔۔! ازہان نے اسکی کلاٸ پکڑ کے دبوچی۔
چھوڑیں ہمارا ہاتھ۔۔۔! آپ کا کچھ بھی جاننے کا دل ہے تو جا کےاپنی بہن سے پوچھیں۔۔۔ ورنہ۔۔ مکافاتِ عمل تو ہے ہی۔۔۔ خو ہی پتہ چل جاۓ گا آپ کو۔۔۔! امامہ بھی غصہ میں تیز لہجے میں بولی۔
میں آخری بار کہہ رہا ہوں۔ آج۔۔۔! میری بہن سے دور رہو۔۔۔ اگر اس کی خوشیوں کے بیچ میں آپ آٸیں تو یاد رکھیے گا۔ جان سے مارنے سے بھی گریز نہیں کروں گا۔ سخت لہجے میں کیتا وہ پلٹا۔ اس بہانے ہی سہی۔۔ آپ ہمیں چھوٸیں گے تو سہی۔۔۔!
امامہ نے دلفریب انداز میں کہتے ازہان خانزادہ کے جاتے قدم روکے تھے۔
گردن موڑ کے اس عشق کی دیوی کو دیکھا۔ جو پور پر اس کے عشق میں ڈوبی ہوٸ تھی۔
مارنے کے لیے ہاتھ اٹھانا شرط تو نہیں۔۔
نظروں سے گرنے کے بعد انسان ویسے ہی مر جاتا ہے۔
ازہان نے بنا اسکی جانب دیکھے کہتے باہر کی جانب قدم بڑھا دیۓ۔
یہ تو وقت طے کرے گا۔ا زہان خان زادہ۔ کون کس کی نظروں میں گرتا ہے۔ ۔۔۔؟؟؟
امامہ نے دل ہی دل میں ازہان خانزادہ کو جواب دیا تھا۔🎩
💍💍💍💍💍💍💍💍💍💍💍💍💍💍💍💍
مہندی کی رسم بہت سادگی سے ادا کی۔ مہندی کے ڈریس میں رخسار سوگوار سا روپ لیے سبھی کے دلوں میں اپنی چھب بنا رہی تھی۔ فرحت بیگم صٰبح سے کافی دفعہ صدقہ دے چکی تھیں۔ انہیں ابھی ڈر لگتا تھا۔ کہ کہیں کوٸ نظر نہ لگ جاۓ۔ پرویز صاحب اور شاہ ویز صاحب نے تمام کل کے انتظامات بھی ازہان کے سر پے تو ڈال ہی دیۓ تھے۔۔ لیکن پھر بھی وہ اس کے ساتھ ساتھ کھڑے تھے
شی از لکنگ ٹو مچ گارجیٸس۔۔۔!
تعریف کے چھوٹے موٹے جملے سنتی رخسار سر جھکا لیتی۔
اچانک سے کوٸ کزن ان کا اندر آگیا۔
ہیے۔۔۔۔ رخسار۔۔۔! ہاٶ آریو۔ وہ سیدھا اندر گھس آیا۔امامہ نے فوراً رخ پھیرتے اپنے حجاب سے ہی نقاب کر لیا۔۔
می فاٸن ۔۔ تم کب آۓ۔ ۔۔؟؟ رخسار بھی مسکراٸ۔
بس۔۔ جب تم نے دیکھا۔ ویسے لندن سے دو دن پہلے لوٹا ہوں۔۔ برجستہ جواب آیا۔
اچانک سے ہی شادی رکھ لی تم نے ۔۔۔! پتہ بھی نہیں چلا۔۔؟؟ اس نے گلہ کیا۔
رخسات بس مسکرا ہی سکی۔
ان سے نہیں ملواٶ گی۔۔؟؟ مس حجابن۔۔؟؟؟ اس نے اشتیاق سے امامہ کو دیکھتے رخسار سے کہا۔
یہ۔۔ خان بھیا کی بیوی ہیں۔ ناچاہتے ہوۓ بھی رخسار کو ادب کے داٸرے میں رہ کے تعارف کروانا پڑا۔
واٶ۔۔ زوبہ نے کب سے حجا ینا شروع کر دیا۔۔۔؟؟ شاید وہ بھی ازہان کی منگنی سے واقف تھا۔
یہ۔۔ زوبیہ نہیں۔۔۔ رخسار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
اب حجاب میں ہیں محترمہ۔۔۔ دیدار کراٸیں تو تہ چلے۔۔ کہ کون ہیں۔۔؟ امامہ جو وہاں سے نکلنےلگی تھی۔ اسکی بے باک انداز میں کہی بات پے رکی۔ اور واپس مڑیی
اَلسَلامُ عَلَيْكُم۔۔۔ ہمارا نام مسز امامہ ازہنا خانزادہ ہے۔ اور اس منشن کی بہو ہیں۔ رخسار کی بھابی۔۔ اتنا تعارف بہت ہے۔۔ آپ باہر والوں کے لیے۔
اچھے سے اسے لفظوں کی مار دیتی وہ رخ پھیر گٸ۔
اوہ۔۔ ہیلو۔۔۔! ایکسکیوزمی۔۔۔!باہر والا کون۔۔؟؟ رخسار بتاٶ اسے۔۔ کون ہوں میں۔۔ میرا رتبہ یہاں کے بیٹے جتنا ہے۔ سمجھی آپ۔۔۔!
وہ تھوڑا ناگواری ے بدتمیزی کر گیا۔
یو۔۔ ایکسکیوز۔۔۔۔۔! بیٹے جتنا رتبہ ہو سکتا ہے۔۔ یکن بیٹے نہیں ہو۔ سمجھے آپ۔۔۔! امامہ بھیناگواری سے بولی۔
اف۔۔ کتنی بدتمیز ہے یہ۔۔۔ مجھتیبکیا ہے یہ خود کو۔۔؟؟ برہان نے منہ با کے رخسار سے شکایت لگانے والے انداز میں کہا۔
آپ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں گے۔۔؟؟ امامہ نے غصہ بھری آواز سے کہا۔ تو وہاں موموجد کچھ خواتین بھی متوجہ ہوگٸیں۔
کیوں۔۔؟ کیا کہہ دیا۔۔؟؟ میں نے جو اتنی آگ لگ گٸ۔۔؟ وہ بھی اب صحیح میں بدتمیزی کرنے لگا۔
برہان۔۔۔! امامہ کی بجاۓ خان کی رعب دار آواز پے وہ سب اس کی طرف مڑے جب کہ غصہ ضبط کرنے کے چکر میں امامہ کا چہرہ خطرناک حد تک لال ہو چکا تھا۔
یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟ انتہاٸ سنجیدگی سے پوچھا۔
خان بھاٸ۔۔۔ ۔۔ رخسار کو مبارک باد دینے آیا تھا۔ لیکن یہ۔۔۔؟؟ اشارہ امامہ کی طرف تھا۔
دے دی مبارک باد۔۔۔؟؟ ازہان نے اسکی بات کاٹی۔ لہجہ بھی سخت تھا۔
ہاں۔۔ لیکن۔۔۔؟؟ پھر کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے۔
باہر چلو۔۔۔۔! خان نے اسے بار کا رستہ دکھایا۔ برہان کو اپنی بے عزتی محسوس ہوٸ۔
لیکن خان کے آگے کسی کی چلتی کب تھی۔۔؟؟ مزید بے عزتی سے بچنے کے لیے وہ باہ نکل گیا۔
امامہ نے مڑ کے اپنے مجازی خدا کو دیکھا۔
جو بنا اس کی جانب دیکھے خود بھی باہر نکل گیا ھا۔ لیکن اس کی آنکھوں کے لال ڈورے وہ دیکھ چکی تھی۔
💘💘💘💘💘💘💘💘💘
فیروز خان دلہا بنا ہوا ایک الگ ہی روپ آیا تھا اس پے جو دیکھتا نظر اتارے بنا نہ رہتا۔
زرقا تو بار بار اس کی نظر اتار رہی تھی۔ اور آنسو الگ آرہے تھے۔ وہ فیروز کو اپنا بیٹا مانتی تھی۔ اور وہ بھی زرقا کو بہت عزت بخشتا تھا۔
امامہ چاہ کے بھی بارات کے ساتھ نہ آسکی۔ وہ استقبالیوں میں شامل تھی۔ اور خان نے سختی سے اسے منع کیا تھا وہاں جانے سے۔ ہاں شادی کے ختم ہو جانے کے بعد وہ جا سکتی تھی۔ اس لیے چپ ہو گٸ تھی۔ جب کہ دل بہت اداس ہوا۔
ازہان خان کو انکار وہ نہ کر سکتی تھی۔
بارات کا استقبال بہت زبردست طریقے سے ہوا۔ مہندی کا فنکشن تو منشن میں ہی ہوا۔ لیکن آج بارات کا فنکشن شہر کے سب سے بڑے بینکوٸیٹ میں تھا۔ اور ازہان خانزادہ نے کوٸ کسر نہیں چھوڑی تھی۔
نکاح ہو چکا تھا۔ آج صرف رخصتی تھی۔

 

Episode 25 Urdu source 1 PART 1

Episode 25 Urdu source 2 PART 1

 

Episode 25 Urdu source 1 PART 2

Episode 25 Urdu source 2 PART 2

Episode 24 Urdu source 3

EDHO – Grand Family – Season 1 Episode 25 Urdu Sub by Urdu Bolo