Bir Gece Masali – A Night’s Tale – Season 1 Episode 13 in Urdu Sub

قانونی کارروائی میں مصروف
ہونے کے باوجود، میں بار بار ” مرحا ” کا فون ٹرائی کرتارہا تھا مگر میرا ” مرحا ” سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
میرب” کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ دماغی طور پر ٹھیک نہیں تھی مگر بظاہر بالکل ” خاموش اور چپ ہو چکی تھی۔ بچے تمہارے بغیر رورہے تھے۔ سب کو سنبھالنا میرے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا۔ بڑی مشکل سے میں سب کچھ سنبھالتے ہوئے ان کو پاکستان ” لے آیا تھا۔
پاکستان واپس آکر مجھے پتا چلا کہ سوشل میڈیا پر میری ایڈیٹنگ کی ہوئی ویڈیو ڈال دی” گئی تھی۔ اس ویڈیو نے “مرحا” کی زندگی کو بہت متاثر کیا۔ بابا اور ماما کی حالت بہت خراب تھی، اور لوگ مختلف سوالات پوچھ رہے تھے۔
میری جاب بھی چلی گئی تھی، اور ” مرحا ” مجھ سے دور ہو گئی۔ حالات میرے خلاف ” تھے ، اور میں “مرحا” کو غلط نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ ہر چیز میرے خلاف گواہی دے رہی تھی۔ ایک بیوی کے طور پر اگر “مر حا” مجھے غلط سمجھتی تھی، تو میں اس کو غلط ” نہیں کہہ سکتا تھا۔ یہ ایک سال میں نے کیسے گزارا، میں اس درد کو لفظوں میں نہیں بیان کر سکتا۔ شاید ” اگر ” مرحا ” مجھ پر یقین کر لیتی تو میں اتنا کمزور نہ پڑتا۔ مجھے دنیا والوں کی سوچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن “مرحا” کی سوچ سے بہت فرق پڑتا ہے۔ شاہ میر ” کی آواز میں گہرے دکھ اور پچھتاوے کی جھلک تھی۔”
اور پھر یہاں آکر ، میں کچھ بھی ٹھیک نہیں کر سکا۔ اس ایک سال میں ، بس میں ایک ” اندھیرے راستے پر چل رہا ہوں، جہاں سے مجھے کوئی منزل نظر نہیں آرہی اور یار اتو بھی تو نہیں تھا میرے ساتھ ، جس کے ساتھ مل کر میں اس مشکل گھڑی سے نکل آتا۔ شاہ میر ” کی آواز میں مایوسی اور تنہائی کا عجیب سادر دتھا، جیسے وہ خود کو کسی بے کس ” مقام پر محسوس کر رہا ہو ، جہاں سے نکلنا نا ممکن لگ رہا تھا۔
رومان شاہ” نے گہری سانس لیتے ہوئے ایک لمحے کو آنکھیں بند کی تھیں، جیسے وہ ” اپنے اندر کی تمام مایوسی اور غصے کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ کچھ لمحوں کے لیے وہ خاموش رہا، پھر اپنے جذ باتوں کو قابو میں رکھتے ہوئے ، اس نے بات کا آغاز کیا۔ تیرے اندر سے ہر در داب باہر آچکا ہے، تم نے اپنے بھائی کو ، اپنے یار کو سب کچھ بتا ” دیا ہے ، اب پوری طرح سے ریلیکس ہو جاؤ۔ کچھ ایسا نہیں ہوا جس کا ہم حل نہ نکال سکیں۔ سب کچھ ٹھیک ہو گا اور ہم مل کر سب کچھ ٹھیک کریں گے، سمجھا؟ رومان شاہ نے اپنا بھاری ہاتھ ” شاہ میر ” کے مضبوط ہاتھ پر رکھتے ہوئے اسے ” ہمت دی۔
شاہ میر ” نے “رومان شاہ” کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔ “رومان شاہ” اسے ” وہی ہمت تو دے رہا تھا جو اسے ایک سال سے نہیں ملی تھی۔ ایک سانس لے کر آنکھوں کو بند کرتے ہوئے اسے ریلیکس ہونے کا اشارہ دے کر ایک بار پھر سے رومان شاہ” نے اپنی بات جاری رکھی۔
ایک بات تو میں سمجھ گیا ہوں کہ یہ دشمنوں کی سازش تھی۔ ایک طرف تمہیں جال ” میں پھنسایا اور دوسری طرف مجھ پر حملہ کروادیا۔ دشمن اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ہم دونوں کو ایک ساتھ توڑنا بہت ضروری ہے۔ اگر ایک بھی بچ جاتا تو پھر ان کو بچنے کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔ خیر ، قدرت ہمارے ساتھ ہے ، خدا نے مجھے زندگی بخشی ہے اور ہم دونوں کو ایک ” دوسرے کا ساتھ بخشا ہے ، تو مل کر ہر مشکل کا سامنا سینہ تان کے کریں گے۔ ” ! ایک اور ایک، دو نہیں، ہم ایک اور ایک گیارہ ہیں “
رومان شاہ” نے “شاہ میر ” کے ہاتھ پر ہاتھ مضبوطی سے رکھتے ہوئے اسے وہ ہمت ” دی، جس نے “شاہ میر ” کے اندر زندگی جینے کی تمنا بھر دی۔ “شاہ میر ” مسکرادیا تھا۔
: شاہ میر ” نے گہری سانس لیتے ہوئے سوال کیا ” مطلب تجھے یقین ہے کہ وہ ویڈیو غلط تھی ؟”
اس کی آواز میں بے شمار سوالات اور بے چینی تھی، جیسے وہ اس حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنا چاہ رہا ہو۔ اسے کچھ بھی تو یاد نہیں تھا جس کے بھروسے وہ خود پر یقین کرتا۔
اے سی پی شاہ میر ملک ” ، مجھے تجھ پر تجھ سے زیادہ بھروسہ ہے۔ میں اچھی طرح سے ” جانتا ہوں کہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے، مگر ایسی گھٹیا اور گری ہوئی حرکت کبھی نہیں کر سکتا۔ اگر تیرا کردار مضبوط نہ ہوتا، تو چاہے دنیا ادھر کی اُدھر ہو جاتی، میں کبھی تجھے اپنی بہن ” ” کا ہاتھ نہ دیتا۔
رومان شاہ” کی آواز میں مکمل اعتماد تھا، جیسے وہ اپنے دوست کی بے گناہی کو دل سے ” محسوس کر رہا ہو ، اور یہ بات اس کے دل کی گہرائیوں سے خود بہ خود نکل رہی تھی۔
مگر “رومان شاہ ، تیری بہن مجھ پر بھروسہ نہیں کرتی ، اور اس کے بھروسے اور اس ” کے یقین کے بغیر میں نہ مکمل ہوں۔ اس کی بے یقینی نے مجھے اندر سے توڑ دیا ہے۔ شاہ میر ” کی آواز میں گہرے دکھ اور مایوسی کی جھلک تھی، جیسے وہ اپنے اندر کے ” ٹوٹے ہوئے حصوں کو جمع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میں آگیا ہوں انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک کر دوں گا ، وہ میری بہن ہے ، مجھ سے بے حد ” پیار کرتی ہے۔ مجھ سے بڑھ کر نہ وہ کچھ سوچ سکتی ہے اور نہ کرنے کی ہمت ہے اس ” میں۔
باقی ، وہ تمہاری بیوی ہے۔ اس کو اعتماد دلانا تمہارا فرض ہے۔” ” میں اس کو مرد ہی نہیں سمجھتا جو اپنی بیوی کو اپنی محبت کا یقین نہ دے سکے ۔ “. رومان شاہ” نے مضبوط لہجے میں کہا تھا۔ اس کے الفاظ ” شاہ میر ” کو پیش کرنے کے ” لیے تھے۔
میں اس پر زور زبردستی نہیں کرنا چاہتا۔ تم جانتے ہو کہ وہ بہت احساس طبیعت کی ” ” مالک ہے۔
شاہ میر ” نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ وہ اپنے اندر کی کشمکش کو ” سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
شاہ میر ” کبھی کبھی اپنی محبت ، اپنی بیوی کو ر اور است پر لانے کے لیے سختی اور ” زبردستی کرنی پڑتی ہے، اور یہ اجازت میں تمہیں دے رہا ہوں۔ رومان شاہ” نے مضبوط لہجے میں کہا۔ “
وہ مجھ سے بات تک نہیں کرنا چاہتی، مجھ سے اپنے راستے الگ کر چکی ہے ، میرے” ساتھ ایک روم کی چھت کے نیچے رہنے تک کو تیار نہیں، تو کیسے اس سے بات کروں؟
شاہ میر ” نے غمگیں اور مایوس لہجے میں کہا۔ “شاہ میر ” کی آنکھوں میں ایک نئی امید کی جھلک تھی جب “رومان شاہ” نے اس ” کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
میں صرف ” مرحا ” کا بھائی نہیں، تیرا بھی بھائی ہوں یار ، اس بات پر یقین رکھ ، وہ ” تمہاری بات سنے گی اور تمہارے ساتھ رہے گی بھی۔ یہ سب کرنے پر اسے میں مجبور کروں گا، مگر اس سے آگے اس کے دماغ سے ہر غلط فہمی کو نکالنا تمہارا فرض ہے۔ بیوی ہے وہ تمہاری، مجھے نہیں پتہ ، جیسے بھی کرو، مگر اس کے دماغ میں سے ہر چیز کو ” نکالو اور حوصلہ رکھ ، یار ، میں ہوں تیرے ساتھ ، ہمت نہیں ہارنی۔
رومان شاہ” کے اس پیغام سے “شاہ میر ” کے دل میں ایک نئی طاقت کی لہر دوڑ گئی ” تھی، اور اسے لگ رہا تھا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

Episode 13 Urdu source 1

Episode 13 Urdu source 2

Episode 13 Urdu source 3

Episode 13 Urdu source 4

Bir Gece Masali – A Night’s Tale – Season 1 Episode 13 in Urdu Sub