Bir Gece Masali – A Night’s Tale – Season 1 Episode 12 in Urdu Sub

بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا تھ
ا ایسے جیسے کوئی انسان اپنے اندر کی ساری تکلیف دھو کر مطمئن ہو چکا ہو وہ خواب و بیداری کی درمیانی کیفیت میں سو رہی تھی اسے دروازے کی چرچراہٹ کی آواز آئی کوئی اندر آیا تھا وہ اندر آ کر عائشہ سے لپٹ گئی وہ نیند کی جھالر ہٹاتے ہوئے انگڑائی لیتے ہوئے جاگ اٹھی کون ہے یار عائشہ نے اپنی نیند آلودہ آنکھیں کھول کر اپنے اوپر ٹھہرے وجود کو دیکھا اسراء تم ؟۔ اتنی صبح صبح عائشہ نے گھڑی کی طرف دیکھا تو صبح کے سات بج رہے تھے اسراء اب بھی چپ چاپ عائشہ سے لپٹی ہوئی تھی ارے اسراء بتاؤ تو کیا ہوا سب ٹھیک ہے
اس نے اسراء کو خود سے الگ کرتے ہوئے پوچھا اسرٰی کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جیسے گواہی دے رہی ہوں کہ وہ رات کی جاگی ہوئی ہے کیا ہوا میری جان تم کیوں پریشان ہو عائشہ نے اسراء کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے کہا اسراء کی آنکھوں سے دو آنسو گرے تھے اسراء یار بولو بھی کیا ہوا
رات رات بہت تیز بارش ہو رہی تھی بادلوں کی گرج بہت تیز تھی مجھے ۔۔۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا میں۔۔۔۔ میں سو بھی نہیں پائی اور اور پھر میں نے ۔۔۔۔ میں نے اتنا برا اتنا برا خواب دیکھا اللہ وہ خواب ابھی تک آنکھوں سے جا نہیں رہا
وہ یہ کہتے ہوئے رونے لگی تھی اسراء نہیں رو یار میں ہوں ناں کیوں ڈر رہی ہو بس وہ خواب تھا کچھ نہیں ہوگا اور مجھے پتہ ہے بارش بہت تیز تھی اور جب تمہیں ڈر لگ رہا تھا تو زارا کو بلا لیتی اپنے کمرے میں یا اس کے کمرے میں جا کر سو جاتی اب عائشہ اس کے آنسو صاف کر رہی تھی زارا اور مما نانو کے گھر گئی ہوئی ہیں اور بابا اسلام آباد گئے ہوئے ہیں بزنس کے حوالے سے گھر میں بس ملازم تھے
اوہ یار تو تم یہاں آ جاتی مجھے نہیں پتہ تھا عائشہ کہ بارش ہوگی اچانک موسم خراب ہوا ہمم چلو کوئی بات نہیں پریشان نہیں ہو
ہمم نہیں رو رہی بس مجھے صبح ہوتے ہی تمہاری یاد آئی میں آ گئی اوو میری جان عائشہ کو اس پر پیار سا آیا تھا اچھا تم کس کے ساتھ آئی ہو
ڈرائیور کے ساتھ یار اچھا اچھا چلو میں فریش ہو جاتی ہوں تم آرام سے بیٹھو یہاں عائشہ اپنے بال سمیٹتے ہوئے واش روم کی طرف رخ کر گئی کچھ دیر بعد عائشہ فریش ہو کر ریڈی ہو چکی تھی اسراء بیڈ پر بیٹھی کبھی عائشہ کو دیکھتی تو کبھی باہر کے موسم کو چلو آؤ نیچے چلتے ہیں ناشتہ کرنے عائشہ اسراء کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کمرے سے نکل گئی
السلام علیکم امی
وعلیکم السلام بیٹا
السلام علیکم آنٹی
وعلیکم السلام اسرث بیٹا تم صبح صبح کیسے آ گئیں آمنہ بیگم نے حیرت سے پوچھا
جی آنٹی مجھے عائشہ کی یاد آ رہی تھی گھر میں کوئی نہیں ہے مما زارا نانی کے گھر گئی ہوئی ہیں اور بابا اسلام آباد میں بہت اکیلی تھی اداس تھی اور مجھے اپنی ہر تکلیف میں عائشہ ہی یاد آتی ہے اسراء بہت سادگی سے سب کہہ گئی جبکہ عائشہ اس کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے بیٹھ گئی تھی
ماشاءاللہ تم دونوں کی دوستی اللہ یوں ہی سلامت رکھے آمنہ بیگم نے پیار سے اسراء کے سر پر ہاتھ رکھا
چلو بیٹھو میں تمہارے لیے گرم گرم پراٹھا بناتی ہوں آمنہ بیگم یہ کہتے ہوئے کچن میں چلی گئیں
امی میرے لیے بھی عائشہ نے پیچھے سے آواز دی
ہوں ہوں تمہارے لیے بھی بنا رہی ہوں ۔عائشہ تم تو ابھی چلی جاؤ گی آفس
تو کیا ہوا تم یہی رکو میں جلدی آنے کی کوشش کروں گی پھر ہم شام میں کہیں چلیں گے
اچھا پر میں یہاں پورا دن کیا کروں گی اکیلے
اکیلے تم اکیلی نہیں ہوگی گھر میں سب ہیں بس سو رہے ہوں گے زمر ہے ماہنور آپی ہے اذہان ہے آئراہ ہے کیسے وقت گزرے گا پتہ بھی نہیں چلے گا تمہیں عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا پھر تو ٹھیک ہے جلدی آنا پھر بھی ہاں ضرور چلو ناشتہ کرو تم میں آفس کے لیے ریڈی ہونے جا رہی روم میں
ٹھیک ہے اسراء اب ناشتہ کرنے لگی اور عائشہ زینہ پار کرتے ہوئے اپنے کمرے کا رخ کر گئی
سورج کی کرنیں شاہ انڈسٹری کو مزید چمکا رہی تھیں۔ اُس عمارت کے باہر بنا ہوا شاہ انڈسٹری کا لوگو اپنے سنہری رنگ کے ساتھ ہر راہ گزر کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا۔ آریان شاہ اپنی نشست سنبھالے آفس میں بیٹھا تھا۔ گرے رنگ کی شرٹ جس سے اُس کے سکس پیکس نمایاں ہو رہے تھے، بالوں کو ترتیب سے سیٹ کیے، وہ واقعی کمال لگ رہا تھا۔ لیکن وہ ساری دنیا کو تو اُس وقت کمال لگ سکتا تھا، سوائے اُس ایک شخص کے جو اُس کے سامنے بیٹھی تھی۔
معمول کے مطابق وہ آج بھی آریان کے سامنے بیٹھ کر اُسے ای میلز پڑھ کر سنا رہی تھی۔ عائشہ بار بار نظریں اٹھا کر آریان کو دیکھتی، پر آریان کی نظریں کبھی پیپر ویٹ پر ہوتیں، کبھی وال پر، کبھی فون پر، یعنی ہر طرف اُس کی نظریں تھیں سوائے عائشہ پر۔
“مجھے لگتا ہے یہ زکوٹا جن ہے جنہیں مزہ آتا ہے مجھ سے یہ ای میلز پڑھوا کر۔ خود پڑھنا نہیں آتا کیا؟ اتنی ریڈنگ تو مجھ سے اسکول میں بھی مس نے نہیں کروائی ہوگی۔”
عائشہ کے دل کا والیم آریان کو دہائی دینے میں فل تھا۔ اب وہ خاموشی سے آریان کی طرف دیکھ رہی تھی، دراصل وہ دل ہی دل میں اُس کی تعریف میں پھول برسا رہی تھی، وہ بھی کانٹوں والے۔
آریان نے نظریں اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“آپ رُک کیوں گئیں مس عائشہ؟” آریان نے آبرو اچکا کر اُس سے سوال کیا۔
“ای میلز ختم ہو چکی ہیں تو اور کیا پڑھوں؟” عائشہ نے نہایت سنجیدگی سے، بغیر کسی تاثرات کے جواب دیا، جیسے کوئی روبوٹ ہو۔
“اچھا تو جو ای میلز سینڈ کرنی تھیں وہ؟”
“وہ بھی کر دی ہیں۔” اب بھی وہی پہلا والا انداز تھا۔
“اچھا اور مسٹر جبران احمد کی میٹنگ کا کیا ہوا؟”
“میٹنگ بھی فائنل ہو گئی ہے۔” اب بھی وہی انداز تھا۔
آریان اُس کے ہر عمل کو نوٹ کر رہا تھا۔
“ٹھیک ہے، آپ جا سکتی ہیں۔” آریان نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
“اور کچھ سر؟ کوئی کام شاید رہ گیا ہو، وہ بھی کر دیتی ہوں، یہیں بیٹھے بیٹھے۔”

 

Episode 12 Urdu source 1 PART 1

Episode 12 Urdu source 2 PART 1

 

Episode 12 Urdu source 1 PART 2

Episode 12 Urdu source 2 PART 2

Episode 12 Urdu source 3

Bir Gece Masali – A Night’s Tale – Season 1 Episode 12 in Urdu Sub