A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 26 Urdu Subtitle

A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 26 Urdu Subtitle

” کہیں تم نے کوئی نیا تجربہ تو نہیں کر دیا، ڈاکٹر صاحب ؟” شاہ میر ” نے شک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ “شاہ میر ” پولیس والا ہو ” کر بھی ڈاکٹر ” شاہ زیب ” کے چکمے میں آگیا تھا کیونکہ ایسی امید ہی نہیں تھی
کہ وہ ایسا بھی کچھ کر سکتا ہے۔ اوپر سے اس نے اتنے اچھے انداز سے سب کو مطمئن کیا کہ دور دور تک کوئی اس پر شک نہیں کر سکتا تھا۔ ” شاہ میر ” کی بات پر ڈاکٹر ” شاہ زیب ” بے ساختہ ہنسی چھپاتے ہوئے اپنے اندر کی شرارت کو دبارہا تھا۔
بھٹی ، بس ذائقہ تھوڑا منفر د ہے، مگر یہ یہاں کے لوگ برسوں سے پی رہے ہیں۔ یہ ” ” ! ہم مہمانوں کے لیے ہوٹل کی مینجمنٹ کی طرف سے بھیجوایا گیا ہے ، انکار مت کرنا بڑے اچھے انداز سے وہ سب کو مطمئن کر چکا تھا خواتین بھی ناک بند کرتے ہوئے وہ مشروب پی رہی تھی اور سب دوستوں کو بھی وہ قائل کر چکا تھا۔
میں فی الحال نہیں پی رہا، روم میں جا کر دیکھوں گا۔” رومان شاه ” سنجیدگی سے گلاس دیکھتے ہوئے کہا۔ ” ڈاکٹر ” شاہ زیب ” بظاہر بے پروائی سے ، مگر اندر سے شرارت چھپائے نظر ” رومان شاہ” پر ڈالی۔
“! جیسے تمہاری مرضی، مگر باقی سب ابھی پیئیں “
ڈاکٹر صاحب نے سب کو زبردستی پکڑایا، اور پھر ایک ساتھ گلاس چڑھانے کا اعلان کیا۔ مرد حضرات نے مشکل سے گھونٹ بھرے، مشروب کا ذائقہ کافی کڑوا تھا مگر چونکہ پہلے سے بتایا جا چکا تھا کہ یہ روایتی ہے، کسی کو شک نہ ہوا۔ خواتین تو اس سے بھی زیادہ بری شکلیں بنا کر پی رہی تھیں۔
احمر” چہرہ بگاڑتے ہوئے۔”
! یار ، یہ تو کسی روایتی جڑی بوٹی جیسا لگ رہا ہے “
بہت ہی گھٹیار وایت ہے یہاں کی ، لعنت بھیجوایسے مشروب پر۔ منہ کا ذائقہ ہی “
” خراب کر دیا ہے۔
جڑی بوٹی نہیں، لگتا ہے کہ خراب سڑے ہوئے سب فروٹس ایک جگہ اکٹھے کر دیے ” جاتے ہیں اور ان کا جوس نکال کر روایت کے نام پر آئے ہوئے سیا ہوں کو پلا دیتے ہیں ” گھٹیا لوگ۔ چھوٹا سا گلاس اپنے اندر انڈیلتے ہوئے “شاہ میر ” نے بیزار سی شکل بنا کر کہا۔ سب نے ہنسی مذاق میں بات ٹال دی اور پھر اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔ ہوٹل کی خاموشی میں اچانک مختلف کمروں سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کہیں کوئی زور زور سے ہنس رہا تھا، کہیں کوئی چیخ رہا تھا، اور کہیں کوئی گانے لگارہا تھا سب کے کمروں کے ماحول عجیب و غریب ہو چکے تھے۔
” ! شفا” میری جان، آرام سے ایک جگہ بیٹھ جاؤ، تم گر جاؤ گی “
عاصم ” نے گھبرا کر کہا، مگر “شفا” جوش میں آئی ہوئی تھی۔” صوفے پر چڑھ کر وہ کسی بچے کی طرح گول گول گھومنے کی کوشش کر رہی تھی ، اور ” عاصم ” بیچارہ کبھی دائیں سے، کبھی بائیں سے اسے پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا
تھا۔
” !
” ! عاصم ” دیکھیں نا میں کتنی زبردست ڈانسر ہوں”
شفا” نے مزے سے کہا اور ایک بار پھر اپنا توازن کھو دیا۔ ” عاصم ” نے جلدی سے ” اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا تھا ، اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گر جاتی بڑی ڈانسر صاحبہ ۔
ڈانسر نہیں، تم ابھی مرئضہ بننے والی ہو “
عاصم” نے جلدی سے اسے سنبھالا، مگر اس کی حالت دیکھ کر ہنسی روکنا مشکل ہو رہا”
تھا۔
” آپ مجھے روک کیوں رہے ہو ؟”
” ! مجھے اڑنا ہے “
شفا” نے ڈرامائی انداز میں ہاتھ پھیلائے۔”
وہ بے حد مستی میں تھی ، اور ” عاصم ” بے چارہ اسے پکڑنے کے لیے بار بار آگے بڑھ رہا تھا، مگر وہ ہر بار شرارت سے ہنستی ہوئی اس کی گرفت سے نکل جاتی۔
“! پلیز میری جان، تم رہنے دو، اڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے “
عاصم ” نے نرمی سے کہتے ہوئے اسے تھامنے کی کوشش کی ، مگر وہ مسلسل الٹی ” سیدھی حرکتیں کر رہی تھی، جیسے کوئی آزاد پرندہ ہو جسے کسی قید کا خوف نہ ہو۔ عاصم ” کو بھی ہلکا نشہ محسوس ہو رہا تھا، مگر “شفا” پر یہ اثر کچھ زیادہ ہی تھا۔

Episode 26 Urdu source 1

Episode 26 Urdu source 2

Episode 26 Urdu source 3

Episode 26 Urdu source 4

Episode 26 Urdu source 5

Episode 26 Urdu source 6

A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 26 Urdu Subtitle