A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 24 Urdu Subtitle

ابھی وہ صرف ساڈھے چار سال کا تھا۔ اسے لگتا تھا اس نے ایک دفعہ سنا ہے جبکہ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ جب اس دنیا میں آیا بھی نہیں تھا تب سے وہ قرآن پاک سنتا آ رہا تھا۔ اب اسے یہ کون بتاتا کہ یہ صرف اس کی انتھک محنت کا نتیجہ تھا۔ ساتھ میں اس کی غیر معمولی ذہنیت کا بھی جس سے وہ ابھی تک لا علم تھی۔
“عازم بیٹا!! آپ نے ایک دفعہ سننے پر بلکل سہی کیسے سنا دیا؟” اس کی حیرت سے پھٹی پھٹی آواز نکلی تھی۔
“افوووو۔ مما!!” اس نے اپنے سر پر چپت لگائی۔
“آپ کو کیا ہو گیا ہے مما؟ آپ نے مجھ سے پہلی دفعہ سنا ہے لیکن میں تو آپ سے کب سے قرآن پاک سنتا آ رہا ہوں۔ پھر ایک دفعہ کیسے سنا؟ میں نے تو آپ سے کہیں دفعہ سنا ہے۔ کیا مجھے اب بھی یاد نہ ہو؟” وہ جیسے اپنی مما کے ایک ہی سوال سے تنگ آیا تھا۔ اس کی ننھی پیشانی پر اتنی سلوٹیں دیکھ کر وہ بے اختیار مسکرا دی۔
“اچھا سوری بیٹا!! اب نہیں پوچھوں گی۔” اس نے کان پکڑتے چہرے پر بے تحاشا معصومیت لائے مسکراتے کہا تھا۔ معصومیت دکھانے میں تو دونوں ماں بیٹا ماہر تھے۔
“اب مما!! کیا میں آپ سے سوری بلواوں گا؟” اس نے آنکھیں جھپکتے جیسے اپنی مما کے سوری کا برا مانا تھا۔ آہ کیا انداز تھا؟ وہ صدقے وارے بغیر نہ رہ سکی۔
حال:
کچھ دیر بعد وہ بھی کمرے میں چلی آئی تھی۔ اس نے دیکھا دونوں بیڈ شیٹس سلیقے سے بچھائی گئی تھیں اور عازم فجر کی نماز پڑھ کے کھڑکی کے پاس کھڑا بے چینی سے انہی کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ سلام کرتے اس کے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی۔
“عازم بیٹا!! یہ بیڈ شیٹس کس نے درست کی ہیں؟” دونوں آمنے سامنے ایک ایک کھڑکی کے ساتھ لگے کھڑے تھے۔
“عازم نے!! ویسے آپ کر دیتی ہیں۔ آج آپ نہیں تھی تو میں نے کہا میں کر دوں۔” اس نے “میں” کہنے کی بجائے اپنا نام لیا۔ اسے اپنا نام خود بھی لینا بہت پسند تھا۔
“میں آ کر کر دیتی۔ آپ رہنے دیتے۔” اسے اچھا لگا تھا مگر وہ کرنے کی وجہ جاننا چاہتی تھی۔
“عازم کی مما خود ہی تو کہتی ہیں کہ انسان کو ہر کام کرنا آنا چاہیے۔ ایسے وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی پر بوجھ بنتا ہے۔” اسی سنجیدگی سے سامنے دیکھتے جواب دیا۔
“بیشک۔” اس نے پیار سے اس کا گال سہلایا۔
“مما!! آپ جلدی سے نماز پڑھ لیں۔ پھر آپ نے قرآن پاک بھی پڑھنا ہے۔ میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں۔” اس نے تھوڑا خفگی سے کہا۔
“کس کا ویٹ کر رہے تھے میرا؟” جواب وہ جانتی تھی پھر بھی انجان بنی۔
“آپ کا بھی کر رہا تھا لیکن زیادہ آپ کے قرآن پاک پڑھنے کا۔” وہ سنجیدگی سے کہتے التجائیہ انداز میں مزید بولا۔
“آپ پلیز جلدی سے پڑھ کر آئیے۔ مجھ سے مزید انتظار نہیں ہو رہا۔” بے چینی سے کہا گیا۔ وہ اپنی مما سے یہ نہیں کہہ سکا کہ وہ جب تک صبح اٹھ کر نماز کے بعد قرآن پاک نہ سن لے۔ اسے سکون نہیں آتا تھا۔
“اوکے۔ اوکے۔ میں بس ابھی پڑھ کر آئی۔” اسکی بے چینی دیکھ کر وہ عجلت میں کہتی وضو کرنے چلی گئی۔ پھر نماز پڑھ کر ہمیشہ کی طرح حودین نے قرآن پاک پڑھا اور عازم نے غور سے سنتے آخر میں اسے آج کا رکوع سنایا۔ جو اس نے ہمیشہ کی طرح صحیح سنایا تھا۔
“اچھا!! میں ناشتہ بنانے جا رہی ہوں۔ آپ بھی چلو گے میرے ساتھ؟” قرآن پاک سے فری ہونے کے بعد اس نے اس کے بھرے بھرے گالوں کو نرمی سے سہلاتے پوچھا۔
“یس مما۔” اس نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔ پھر وہ دونوں کچن میں چلے آئے تھے۔ عازم کی وجہ سے اس نے ملازمہ کو فی الحال کے لیے کوارٹرز میں بھیج دیا تھا۔
وہ جو جو کر رہی تھی کرسی پر بیٹھا عازم اپنی زیرک آنکھوں سے سب اپنے اندر محفوظ کر رہا تھا۔

Episode 24 Urdu source 1

Episode 24 Urdu source 2

Episode 24 Urdu source 3

Episode 24 Urdu source 4

Episode 24 Urdu source 5

Episode 24 Urdu source 6

 

A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 24 Urdu Subtitle