A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 20 Urdu Subtitle

“رومان”، خیریت تو ہے ؟”
اسے بے چین ساہو کر لاؤنج میں ٹہلتے ہوئے دیکھ ” شاہ میر ” نے تجس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں، خیریت نہیں ہے ! اگر خیریت ہوتی تو میں تمہیں اتنی ایمر جنسی میں نہ ” ” بلاتا۔
رومان شاہ” نے “شاہ میر ” کو دیکھتے ہی سخت لہجے میں کہا۔ یہ کہہ کر ، اُس نے ” ” شاہ میر ” کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے گارڈن ایریا کی طرف بڑھ گیا۔
شاہ میر ” ، مجھے حیرت ہے کہ یہ بات تمہاری نظروں سے کیسے چھپی رہ گئی، تمہیں ” کیسے پتہ نہیں چلا کہ “سلطان” ہر وقت تمہارے گھر پر نظر رکھے ہوئے ہے ؟ رومان شاہ” نے گارڈن میں پہنچتے ہی دبی آواز میں غصے سے کہا۔ “
” میں کچھ سمجھا نہیں۔”
شاہ میر ” نے سوالیہ نظروں سے “رومان شاہ” کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ “
رومان شاہ” نے گہری سانس لی اور کہا “
اے سی پی “سلطان” ہر وقت تمہارے گھر پر نظر رکھے ہوئے ہے ، اسے تمہارے ” گھر کے بارے میں پل پل کی رپورٹ ہے، جانتے ہو کیسے ؟
“نہیں۔ “
شاہ میر ” نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “
آیت ” کے گلے میں ایک لاکٹ ہے اور لاکٹ کے اندر کیمرہ لگا ہوا ” ” ہے۔ “سلطان” اس کیمرے کے ذریعے ہر پل تمہارے گھر کی نگرانی کر رہا ہے۔
” ! او مائی گاڈ ! مجھے تو کبھی ” آیت ” کے گلے میں وہ لاکٹ نظر ہی نہیں آیا ” شاہ میر ” نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔ “
شاید ٹینشنوں نے میر ادماغ اس قدر ماؤف کر دیا ہے کہ وہ میری نظر سے اوجھل ” ” ہو گیا۔
اس نے اپنے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے مزید پریشانی سے کہا۔
” ریلیکس ہو جا، اب پریشان نہ ہو۔”
رومان شاہ” نے “شاہ میر ” کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ “
جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا، مگر اب یہ پتہ لگوانا ہے کہ ” آیت ” کے گلے میں یہ لاکٹ کب ” اور کیسے آیا۔ اگر میر اشک درست نکلا تو یہ لاکٹ میرے اوپر حملہ ہونے سے پہلے سے ” آیت ” کے گلے میں موجود تھا کیونکہ ہر پل مجھے ایسا لگتا تھا کہ کوئی مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
رومان شاہ” نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی، پھر سنجیدہ لہجے میں بولا۔ ” تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بد قسمتی سے تمہاری طرح، “سلطان ” ” مجھے بھی بے وقوف بنانے میں کامیاب رہا کیونکہ میر اشک ” آیت ” پر کبھی گیا نہیں ” تھا مگر اب مجھے یہ جاننا ہے کہ اس بچی کے گلے میں یہ لاکٹ کیسے آیا؟
” کہیں یہ بچی “سلطان ” کا بھیجا ہوا کوئی مہرا تو نہیں ؟” شاہ میر ” نے شک کے ساتھ اپنی نظریں “رومان شاہ” پر مرکوز کرتے ہوئے کہا۔ “
” اے سی پی۔۔ سوچ سمجھ کر بولنا۔ وہ بچی کوئی عام اور معمولی نہیں ہے۔ “
” وہ بچی “رومان شاہ” کی بیٹی ہے۔”
رومان شاہ” نے سخت لہجے میں کہا۔ “
میں نے اسے اپنی زندگی میں پورے حق کے ساتھ شامل کیا ہے ، اس کے بارے میں ” کچھ بھی غلط مت کہنا، وہ بہت معصوم ہے۔
رومان شاہ” نے ایک گہری سانس لیتے پُر عزم اور پختہ لہجے میں کہا۔ ” اب ہمیں یہ پتہ لگانا ہے کہ وہ لاکٹ کہاں سے اس کے گلے میں آیا، وہ بچی مہرا ہے یا ” نہیں، مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
رومان شاہ نے اپنی نظریں ” شاہ میر ” پر مرکوز کرتے ہوئے مضبوط اور پختہ لہجے ” میں کہا۔
رومان” یار ، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ میں تو یہ سوچ کر بول رہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ” وہ بچی کسی پلاننگ کے تحت تمہاری زندگی میں بھیجی گئی ہو ، اور اس بچی کے چکر میں ” کہیں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔
شاہ میر ” نے سنجیدہ لہجے میں “رومان شاہ” کو سمجھانا چاہا تھا۔ “
رومان شاہ” دل سے رشتے نبھاتا ہے اور میرے دل نے اس کو اپنی بیٹی تسلیم کر لیا ” ” ہے۔ اب چاہے انجام کچھ بھی ہو ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس کے انداز میں ایک مضبوط عزم اور محبت کی گہرائی تھی۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی بیٹی کا دفاع کرنے کے لیے تیار تھا۔
“ٹھیک ہے، جو تمہیں صحیح لگے ، مگر مجھے بتاؤ اب آگے کیا کرنا ہے ؟” شاہ میر” نے “رومان شاہ” کی ذہانت پر یقین کرتے ہوئے، اس کے فیصلے کو مانتے” ہوئے اگلے قدم کے بارے میں پوچھا تھا۔
” کرنا کیا ہے ، اب تک “سلطان” جو دیکھنا چاہتا تھا، اس نے دیکھ لیا۔” ” اب “سلطان” اسی کیمرے سے وہ دیکھے گا جو ہم اس کو دکھانا چاہیں گے۔” گے ۔ “
” مطلب کہ ہم ” آیت ” کے گلے سے وہ لاکٹ نہیں اتاریں گے ۔ ” شاہ میر ” نے “رومان شاہ” کی بات پر تجسس سے سوال کیا۔ “

Episode 20 Urdu source 1

Episode 20 Urdu source 2

Episode 20 Urdu source 3

A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 20 Urdu Subtitle