A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 18 Urdu Subtitle

ازہان امامہ کو لیے گاڑی کی جانب بڑھا۔ امامہ نے ارد گرد نگاہ دوڑاٸ۔ اسے کوٸ نظر نہ آیا۔۔ سب جا چکے تھے۔ ایسے میں ازہان خانزادہ کے ساتھ اکیلے گاڑی میں سفر کرنے سے اسے ڈر لگ رہا تھا۔ اس وقت وہ بے انتہا غصہ میں تھا۔
گاڑی میں فرنٹ سیٹ پے بیٹھتے ہی گاڑی کو روڈ پے ڈالتے وہ اسٹیرنگ پے ہاتھ کا دباٶ ڈالے خود پے ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔
کچھ دن پہلے امامہ نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ اور آج۔۔ وہ کس شخص کے ساتھ ۔۔۔ ازہان نے زور سے اسٹیٸرنگ پے ہاتھ مارا۔ کہ امامہ نے سہم کے اسے دیکھا۔
گاڑی فل سپیڈ میں جا رہی تھی۔ روڈ بالکل سنسان تھی۔ کہ ایک دم سے بیچ سڑک پے ان کی گاڑی جھٹکے سے رکی۔
ازہان نے لب بھینچے باہر نکل کے گاڑی کو چیک کیا۔ گاڑی گرم ہو چکی تھی۔
وہ اتنی سپیڈ سے تھا۔ کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔
گاڑی کی طرف واپس مڑا۔ اور پانی کی بوتل نکالنے لگا۔ امامہ بس خاموشی سے یک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔ کہ تبھی بادل بہت زور سے گرجے۔
آسمان پے بجلی چمکی۔
یہ اچانک سے کیسی برسات آگٸ۔۔۔۔! اے اللہ جی۔۔ ابھی روک دیں۔۔ ناں۔۔ ہم گھر پہنچ جاٸیں پھر کھل کے مینہ برسانا۔
وہ دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب ہوٸ۔
لیکن ایک دم سے بارش کی بوچھاڑ شروع ہوٸ۔ اور ازہان مکمل بھیگ گیا۔
اب گاڑی کو اللہ کی طرف سے ہی ٹھنڈک مل گٸ تھی۔ لیکن ازہان خانزادہ۔۔ کے اندر کی آگ ابھی بھی نہ بجھ سکی تھی۔
پلیز۔۔۔ گاڑی آہستہ چلاٸیں۔۔ بارش ہو رہی ہے۔۔ ایکسیڈینٹ ہوجاۓ گا۔
اسے دوبارہ سے اسی سپیڈ پے گاڑی چلاتے امامہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
اپنا منہ بند رکھو۔۔ ورنہ چلتی گاڑی سے نیچے پھینک دوں گا۔
ادزہان نے بنا کسی لحاظ کے اسے سنا دیں۔ تو وہ اپنا سا منہ لے کے رہ گٸ۔ اب وہ دل ہی دل میں جتنی دعاٸیں یاد تھیں۔ سب پڑھنے لگی ۔ بارش بھی تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔
کہ تبھی اچانک امامہ کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ پل۔۔ وہ ماضی نظروں کے سامنے پھر سے گھومتا دیکھ اپنا آپا کھو چکی تھی۔
خان۔۔۔! اس نے لرزتا ہاتھ اس کے ہاتھ کی پشت پے ٹکایا۔ جو انتہاٸ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
ازہان اس کی بدلتی کیفیت سے حیران ہوتے گاڑی کی سپیڈ سلو کر گیا تھا۔
لیکن خاموش رہا ۔
امامہ نے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کے آنکھیں موند لیں۔ اس کا پورا جسم لرز رہا تھا۔ اسے پانی کی اشد ضرورت محسوس ہوٸ۔
پاااااننننی۔۔۔۔! وہ دھیمے سے منمناٸ۔
ازہان نے پانی کی بوتل کھولتے اس کے لبوں سے لگاٸ۔ تو وہ جھٹ سے اٹھتی بوتل کو تھام گٸ۔ اور منہ سے لگاتے سارا پانی اپنے اندر انڈیل لیا۔
کچھ ہی دیر میں اس کی طبعیت سنبھل گٸ تھی۔
تمہیں کیا بیماری ہے۔۔۔؟
اچانک سے ازہان کے پوچھے گۓ سوال پے امامہ نے مڑ کے حیرانی سے اسے دیکھا۔
آپ ۔۔ایسے کیوں کہہ رہے ہیں۔۔؟ ہمیں۔۔ کوٸ۔۔ بیماری نہیں۔۔۔؟؟ امامہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آۓ۔
جھوٹ بولنے کی بھی بیماری ہے تمہیں۔۔ اور جب تک یہ بیماری دور نہیں ہوگی۔۔ تمہیں مزید بیماریاں لگیں گیں۔
ازہان نے اس پے اچھے خاصے لفظوں کے تیر سے درد پہنچایا تھا۔
ایسا کچھ نہیں۔۔ ہم جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔ سر جھکاۓ دھیرے سے کہا۔
ازہان نے ایک نظر اسے گردن موڑ کے دیکھا۔ جو اب بالکل ہی چپ ہوگٸ تھی۔
گاڑی خان منشن میں داخل ہوٸ۔
بے وقت بارش نے سبھی کو اپنے اپنے کمروں میں محصور کر دیا تھا۔
سواۓ فرحت بیگم کے وہ بیٹے کا انتظار کر رہی تھیں۔
خان کو اندر آتا دیکھ وہ اس کی طرف بڑھیں۔
کہاں رہ گۓ تھے بیٹا۔۔۔ ماں۔۔ کو کیوں تڑپاتے ہو۔۔؟
وہ کہتے ہوۓ رودی تھیں ۔ ازہان نہ ہی ان کی فون کال رسیو کر رہا تھا۔ اور نہ ہی اپنی خیر خیریت کا پتہ دے رہا تھا۔ سبھی نے سمجھایا کہ آجاٸیں گے۔ لیکن وہ ماں تھیں۔ کیسے سنبھلتیں۔۔
رخسار کی رخصتی پے بھی وہ بہت روٸیں تھیں۔ اب انہیں بیٹے کا سینہ چاہیے تھا۔ اپنا دکھ ہلکا کرنے کے لیے۔
امامہ سلام کرتی اندر کی جانب بڑھ گٸ۔ جب کہ ازہان ماں کے پاس چلا آیا۔
امامہ بھی انکی فیلنگز سمجھ رہی تھی۔ دونوں ماں بیٹا کچھ پل اکیلا رہنا چاہ رہ تھے۔ اس لیے وہ وہاں سے ہٹ گٸ۔ کمرے میں آتے ہی سب سے پہلے کپڑے چینج کیے۔ اور وضو بناتی اب وہ نماز کے لیے کھڑی تھی۔ عشا کی نماز ادا کرتے س سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تو وہ رو دی۔
وہ اپنے اللہ سے شکوہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ آج تک اس نے شکوہ نہیں کیا تھا۔ کتنی ہی پریشانی دکھ تکلیف سہے۔۔ لیکن کبھی رب سے شکوہ نہ کیا۔
اس بار اسے عرفان کے رویے سے ڈر لگا تھا۔ وہ کیا چاہتا تھا۔ کیوں اس کی راہ میں آرہا تھا۔۔؟؟ وہ پریشان ہوگٸ تھی۔ جب کہ ازہان کے غصہ سے بھی اچھی طرح واقف تھی۔ آج مار کھانے کے بعد وہ چپ بیٹھنے والوں میں سے نہ تھا۔ اور رخسار کی کڈنیپنگ کی خبر پے وہ بہت پریشان ہوٸ تھی۔ موباٸل اٹھاتے فیروز کو کال کرنی چاہی۔ لیکن پھر کچھ سوچ کے رک گٸ۔ اور واپس رکھ دیا۔ اسی لمحے ازہان خانزادہ کمرے میں داخل ہوا۔ اسے پریشان دیکھتا وہ اپنا والٹ اور موباٸل ٹیبل پے رکھتا ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا۔ تو وہ ایک دم چونکی۔ اور اپنی جگہ سے کھڑی ہوٸ۔
کیا ازہان مجھ پے شک کر رہے ہیں۔۔؟؟ دل میں سوال اٹھا تو ایک شاکی نظر اپنے شوہر پے ڈالی۔ جو اب شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا۔ وہ بھیگا ہوا تھا۔ شرٹ اتار کے ایک طرف غصہ سے پھینکی۔ امامہ کا دل پھر سے دھڑکا۔ اور اپنی نظریں بجاۓ اس پے سے ہٹانے کے اس پے جما دیں۔ وہ اب کبرڈ میں سر گھساۓ اپنے ناٸیٹ ڈریس نکال رہا تھا۔ اور زور سے کبرڈ بند کرتا وہ ڈریس لیے باتھ روم میں گھس گیا۔
امامہ نے سہم کے اسکی پشت کو دیکھا۔ وہ لب کاٹتی انگلیاں مروڑتی وہیں مورت بنی کھڑی رہی۔
رہ رہ کے اسے عرفان پے غصہ آرہا تھا۔ جس نے اس کے محبوب شوہر کو غصہ دلایا تھا۔
کیا۔۔ خان۔۔؟؟ کو بھی ہم سے محبت ہے۔۔؟؟
اچانک سے دل کے نہاں کونے میں یہ سوال پنپا۔
محبت ہوگی تو ہی برداشت نہیں کر پاۓ۔ اور عرفان کا بھرکس بنا دیا۔
لیکن۔۔۔ ؟؟ یہ غصہ کیوں ہیں۔۔؟ اپنی محبت کا اظہار کیوں نہیں کر دیتے۔۔؟؟
وہ اپنی سوچوں کے تانے بانے بن رہی تھی۔ کہ ازہان خان باتھ روم سے نکلا۔ اس نے ٹاول سے بال سکھاۓ اور آٸینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
جب کہ امامہ کی نظر بار بار اس پے جا رہیں تھیں۔
کیا مسٸلہ ہے تمہارا۔۔؟؟ خان کو اس کا مسلسل دیکھنا غصہ دلا گیا۔
آپ۔۔۔ غصہ کیوں ہیں۔۔؟؟ معصومیت سے پوچھا۔
تو کیا ۔۔ خوش ہوں۔۔؟؟ میری بیوی کا سابقہ عاشق نکل آیا ہے۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔ ؟؟ اللہ کا خوف کریں۔۔ ہم پے ایسا الزام کیسے لگا سکتے ہیں۔۔ آپ۔۔۔؟؟
امامہ دکھ سے بولی۔
الزام لگا رہا ہوں۔۔ میں۔۔؟؟ کتنے دھڑلے وہ وہاں اپنے عشق کی داستان سنا رہا تھا۔ اور تم۔۔؟
ہم نے اسے تھپڑ مارا تھا۔ آپ نے دیکھا تھا۔۔ پھر آپ ہم پے شک کیسے کر سکتے ہیں۔۔؟؟
امامہ نے اس کی بات کاٹتے تیز لہجے میں کہا۔
اسے برداشت نہ ہوا کہ ازہان اس پے شک کر رہا تھا۔
تھپڑ۔۔۔؟؟ اس کی جرات کیسے ہوٸ۔۔ یہ سب بکواس کرنے کی۔۔۔؟؟ جان لے لوں گا اس کی میں۔۔۔! خان کو اک بار پھر سے غصہ آنے لگا۔
امامہ تو اس کا غصہ دیکھتی رہ گٸ۔
کیا۔۔۔ ؟؟ یہ بھی۔۔ہمیں چاہتے ہیں۔۔؟ دل کو گدگدی سی ہوٸ ۔
آپ۔۔۔ ہم سے۔۔ محبت کرنے لگے ہیں۔۔ ناں۔۔؟؟؟ نجانے کس احساس کے تحت اامامہ نے پوچھ لیا۔
ایک پل کو تو ازہان اس کے اتنے پر اعتماد انداز کو دیکھتا رہ گیا۔
اتنی خوش فہمی کیوں ہونے لگی۔۔؟؟ دو قدم کا فاصلہ مٹاتا وہ اس کے قریب آیا۔
ہم۔۔جانتےہیں۔۔ آپ ہم سے محبت کرنے لگے ہیں۔۔اور وہ بھی ۔۔۔ بے شمار کرنے لگے۔۔ بس اظہار نہیں کر رہے۔۔۔۔! یہ جو آپ کی ناک ہے۔۔۔ نا۔۔۔ ! دھیرے سے مسکراہٹ دباتے خان کی ناک کو چھوا۔
یہ نہ نیچے ہوجاۓ اس لیے بتاتے نہیں۔۔

 

Episode 18 Urdu source 1

Episode 18 Urdu source 2

A.RIZA ( Ali Raza ) Season 1 Episode 18 Urdu Subtitle