Kizil Goncalar – Red Roses – Season 1 Episode 19 With Urdu Subtitles

احمد صاحب اور فیاض صاحب فیکٹری گئے ہوئے تھے جبکہ شازیہ بیگم ،نازیہ بیگم ، انعم اور علینہ ارحم کے ساتھ شاپنگ پر گئے تھے دانیال بھی گھر پر نہیں تھا عمران بھی نہیں تھا عینی گھر پر اکیلی تھی ۔
عینی نے جلدی جلدی کام ختم کیا اور اب وہ سکون سے بیٹھی ہوئی تھی کہ اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی عینی نے دروازہ کھولا تو عمران کھڑا تھا وہ جلدی سے اندر داخل ہوا ۔
اتنی خاموشی ہے سب کہاں ہیں عمران نے پوچھا ۔
وہ چاچو آفس گئے ہیں اور باقی سب شاپنگ پر ۔ عینی نے کہا ۔
اچھا مجھے پانی پلاؤ ۔ عمران نے مسکراتے ہوئے کہا
جی ۔عینی نے کہا اور کچن کی طرف چل دی ۔
عینی پانی لے کر آئی عمران نے پانی کا گلاس اٹھایا اور پانی پیا لیکن جیسے ہی عینی نے دوبارہ گلاس پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا عمران نے عینی کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑ دیں مجھے ۔عینی نے کہا
چھوڑ تو نہیں سکتا تم کو جان من ۔ عمران نے عینی کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔
پلیز میرے پاس ایک عزت ہی تو ہے أپ کیوں اسکے دشمن بن گئے ہیں عمران بھائی ۔ عینی نے روتے ہوئے کہا
بھائی مت بولا کرو مجھے 😡۔ عمران غصے سے بولا
چھوڑیں مجھے ۔عینی نے اپنا ہاتھ عمران سے چھڑانے کی کوشش کی ۔
کس عزت کی بات کر رہی ہو تم ہاں وہ عزت جو پہلے ہی داغدار ہو چکی ہے ۔ عمران نے ہنستے ہوئے کہا
کیا مطلب ہے آپ کا ؟ عینی نے حیرانی سے پوچھا
ایک منٹ رکو یہ دیکھو ۔عمران نے عینی کو کچھ تصویریں اپنے موبائل پر دکھائیں جو کہ عینی کی تصویریں تھیں تصویریں دیکھ کر عینی کا سر شرم سے جھک گیا ۔
یہ میں نہیں ہوں یہ تو ایڈیٹ کی گئیں ہیں ۔عینی نے روتے ہوئے کہا
بلکل صیح کہ رہی ہو تم کہ یہ میں نے ایڈیٹ کروائیں ہیں لیکن تم پر کون یقین کرے گا سوچو جب سب کے سامنے تصویریں آئیں گی تو گھر والے تمھارا کیا حال کریں گے ؟عمران نے کہا .
نہیں پلیز ایسا مت کیجئے گا یہ جھوٹ ہے یہ میں نہیں ہوں ۔عینی نے روتے ہوئے کہا
اگر تم چاہتی ہو کہ میں یہ تصویریں سب کو نہ دکھاؤں تو۔۔ عمران نے بات اُدھوری چھوڑی
تو کیا آپ بتائیں آپ جو بولیں گے میں کروں گی۔ عینی نے کہا
تو پرسوں جب سب شادی حال میں ہوں گے علینہ آپی کی بارات پر تو تم میرے ساتھ چلو گی ۔ عمران نے کہا
کیا مطلب ہے آپ کا کہاں لے کر جائیں گے مجھے؟ عینی نے پوچھا
فکر نہ کرو سب شادی حال میں ہوں گے اور میں تمھیں گھر لے کر آؤں گا ۔عمران نے کہا
کیوں ؟؟عینی نے پوچھا
بچی نہیں ہو تم جو تم کو سب بتانا پڑے گا اب ۔ عمران نے کہا
اور ابھی تو کوئی نہیں ہے تو کیوں نا تھوڑا ۔ عمران نے عینی کو اپنی طرف کھینچا ۔
چھوڑ دیں پلیزنہ کریں ایسا چھوڑیں ۔ عینی نے عمران کو دھکا دیا ۔
ٹیبل پر پڑا ہوا پانی کا گلاس نیچے گر کر ٹوٹ گیا اس سے پہلے کے عمران اٹھ کر عینی کو پکڑ پاتا دروازے کی گھنٹہ بجی عینی دروازے کی طرف بھاگی عمران جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا۔
عینی نے دروازہ کھولا تو سامنے دانیال کھڑا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
انسپکٹر عاشر نے دفتر میں داخل ہوتے ہی فائل میز پر رکھی اور سیدھا سعد کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“کیا نئی اپڈیٹ ہے؟” سعد نے نظریں اٹھائے بغیر پوچھا، جو کہ ایس ایچ او تھا۔
“سر، وہ گاڑی جس میں لڑکی کو لے جایا گیا تھا، ابرار نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اور یہ گاڑی پہلے بھی کئی اغوا کے کیسز میں استعمال ہو چکی ہے۔” عاشر نے سنجیدگی سے بتایا۔
سعد نے فائل بند کی، کرسی سے اٹھا اور کہا، “ٹھیک ہے، ابرار کے گھر جاؤ۔ مکمل پوچھ گچھ کرو۔ یہ کیس جتنی جلدی ہو، ختم ہونا چاہیے۔”
“جی سر!” عاشر نے جواب دیا۔
سعد نے لمحہ بھر توقف کے بعد دوبارہ سوال کیا، “اس لڑکی کا کچھ پتہ چلا؟”
عاشر نے گہری سانس لی، “نہیں سر، لیکن اُس کا موبائل ہمیں شہر سے باہر جانے والے راستے پر ملا ہے۔ موبائل سے نمبرز کا ڈیٹا نکالا جا رہا ہے۔ شاید کوئی سراغ مل جائے۔”
سعد نے سر ہلایا، “ٹھیک ہے، جاؤ تم۔ اور جیسے ہی کچھ نیا ملے، فوراً اطلاع دینا۔”
عاشر نے سر جھکایا اور تیزی سے دفتر سے نکل گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
دانیال نے دروازے پر کھڑی عینی کو دیکھا تو فوراً محسوس کیا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اُس کی آنکھوں میں خوف تھا، چہرہ زرد، اور ہاتھ لرز رہے تھے۔
“کیا ہوا؟ آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں؟” دانیال نے نرمی سے پوچھا۔
عینی نے لب ہلائے، مگر آواز جیسے گلے میں اٹک گئی۔ “کچھ نہیں… وہ… میں…” الفاظ اُس کے قابو میں نہیں تھے۔
دانیال نے بات کاٹتے ہوئے کہا، “پہلے ریلیکس ہو جائیں، آئیں بیٹھیں۔”
وہ اُسے اندر لے آیا، صوفے پر بٹھایا، اور پانی کا گلاس لا کر اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ عینی نے پانی پیا، اور جیسے ہی ٹھنڈا پانی حلق سے اترا، اُسے تھوڑا حوصلہ ہوا۔
“اب بتائیں، اتنی کیوں گھبرائی ہوئی تھیں آپ؟” دانیال نے دوبارہ پوچھا۔
عینی نے نظریں جھکائیں، اور جھوٹ بولنے کی کوشش کی۔ “وہ… مجھ سے گلاس ٹوٹ گیا، اور دروازے کی گھنٹی بجی… مجھے لگا چاچی آ گئی ہیں، تو ڈر گئی تھی۔ وہ بہت ڈانٹتی ہیں۔”
دانیال نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “بس اتنی سی بات پر اتنا گھبرا گئیں؟”
عینی نے جلدی سے بات سنبھالی، “اتنی سی بات نہیں ہے، چاچی واقعی بہت ڈانٹتی ہیں۔”
دانیال نے نرمی سے کہا، “خالہ اتنی بھی بری نہیں ہیں۔”
عینی نے سر ہلایا، “جی، دل کی بہت اچھی ہیں۔”
لیکن اُس کی آنکھوں میں چھپی سچائی دانیال سے چھپی نہ رہ سکی۔ وہ جانتا تھا کہ کچھ اور ہے، کچھ ایسا جو عینی کہنا چاہتی ہے مگر ہمت نہیں کر پا رہی۔
کاش میں آ پ کو سچ بتا سکتی دانیال ۔ عینی نے سوچا ۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شاپنگ مال کی روشنیاں مدھم ہونے لگی تھیں۔ سب لوگ تھکن کے آثار لیے باہر نکلنے لگے تھے۔ شازیہ بیگم، نازیہ، انعم، علینہ اور ارحم بھی خریداری مکمل کر چکے تھے۔ لیکن جیسے ہی وہ مال کے دروازے کی طرف بڑھے، ارحم کی نظر ایک شاپ کی ونڈو پر پڑی—ایک خوبصورت، نفیس اور دلکش ڈریس۔
ارحم ٹھٹھک گیا۔ “یہ عینی پر کتنا خوبصورت لگے گا…” اُس نے دل میں سوچا اور بنا کچھ کہے شاپ کی طرف بڑھ گیا۔
“ارحم، کہاں جا رہے ہو؟ رکو تو!” شازیہ بیگم نے اُسے آواز دی، مگر ارحم نے کوئی جواب نہ دیا۔
سب اُس کے پیچھے پیچھے شاپ میں داخل ہو گئے۔ ارحم سیدھا اُس ڈریس کے پاس گیا اور اُسے غور سے دیکھنے لگا۔
“ارحم بیٹا، ہم نے تو سب کی شاپنگ کر لی۔ یہ کس کے لیے دیکھ رہے ہو؟” شازیہ بیگم نے پوچھا۔
“ماما، ہم نے سب کے لیے کچھ نہ کچھ لیا ہے، لیکن عینی کے لیے کچھ نہیں۔ یہ جوڑا میں اُس کے لیے لے رہا ہوں۔” ارحم نے نرمی سے کہا۔
“کیا اتنا مہنگا ڈریس؟” انعم نے حیرت سے کہا۔
ارحم نے پلٹ کر جواب دیا، “مہنگا ہے تو کیا ہوا؟ وہ ہم سب کی کتنی خدمت کرتی ہے۔ صبح سے شام تک کام کرتی ہے۔ اور ویسے بھی، گھر میں شادی ہے۔ وہ کیا پہنے گی؟”
شازیہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا، “کوئی ضرورت نہیں اتنا مہنگا جوڑا لینے کی۔ گھر پر کپڑے پڑے ہیں، وہ پہن لے گی۔”
ارحم نے تحمل سے کہا، “جی، پہن لے گی۔ لیکن علینہ کی بارات پر وہ یہی جوڑا پہنے گی، مما۔”
اور اُس نے شاپ والے کو اشارہ کیا کہ جوڑا پیک کر دے۔
انعم نے غصے سے کہا، “بھائی، آپ کیسے اُسے سر چڑھا سکتے ہیں؟”
ارحم نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، “انعم، بس بحث نہیں کرو۔ صبح سے رات ہو گئی ہے، میں بہت تھک گیا ہوں۔”
وہ خاموشی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ باقی سب بھی اُس کے پیچھے چل دیے۔
❤️❤️❤️❤️

 

[videojs_video url=”https://hls1-cdn38.cloudlionscdn.com/hls/lgaZvgBtwxrBW0R20iuOt8iXWQxgk4/index_1920x1080.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]

EPISODE 19 URDU SOURCE 1

EPISODE 19 URDU SOURCE 2

EPISODE 19 URDU SOURCE 3

EPISODE 19 URDU SOURCE 4

Kizil Goncalar – Red Roses – Season 1 Episode 19 With Urdu Subtitles